حیدرآباد میں نابالغ لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کا شرمناک واقعہ،پانچ ملزمین کی شناخت
ریاستی وزیر کے ٹی آر نے وزیر داخلہ،ڈی جی پی اور کمشنر پولیس سے
خاطیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا،چاہے ان کی حیثیت یا وابستگی کچھ بھی ہو
حیدرآباد: 03۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام)
حیدرآباد میں ہفتہ 28 مئی کو ایک 17 سالہ نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا شرمناک واقعہ پیش آیا تھا۔اس واقعہ کےتاخیر سے منظرعام پر آتے ہی سوشل میڈیا اور میڈیا کے گروپ میں پربلاء کسی تحقیق اور سرکاری تصدیق کہ ملزمین اور ان کے والدین جن کا سیاست سے تعلق ہے کے ناموں کو بڑے پیمانے پر وائرل کردیا گیا۔جبکہ اسی واقعہ کو نیشنل میڈیا نے مختلف شکوک و شبہات اورالزامات کے ساتھ پیش کیا۔
اس سلسلہ میں آج رات ڈی سی پی ویسٹ زون جوئل ڈیوس نے پریس کانفرنس منعقد کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ اس معاملہ میں دو لڑکے بالغ ہیں جن کی شناخت سعدالدین ملک اور عمیرخان کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ان میں سے سعد الدین ملک کو گرفتار کیا گیا ہے۔اور تین لڑکے نابالغ لڑکے ہیں۔ڈی سی پی ویسٹ زون جوئل ڈیوس نے کہا کہ نابالغ بچوں،ان کے والدین کے ناموں یا ان کے رہائشی علاقوں کا انکشاف ازروئے قانون ناممکن اور جرم ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس اجتماعی عصمت دری کے واقعہ میں ریاستی وزیرداخلہ کے پوتے کے نام کو بھی آج دوپہر سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر اچھالا گیا جو کہ افسوسناک ہے۔کیونکہ تمام زاویوں سےتحقیقات میں انکشاف ہوا کہ وزیرداخلہ کے پوتے اس واقعہ میں ملوث نہیں ہیں۔پھر بھی انہیں اس واقعہ میں ملوث بتانا افسوسناک ہے۔اور یہ صد فیصد بے بنیاد الزام ہے۔
انہوں نے بتایاکہ لڑکی کے بیان کے بعد اس معاملہ میں ملزمین کے خلاف”پوکسو ایکٹ کی دفعات 5 اور 6 بھی شامل کیا گیا ہے اور ساتھ ہی 323 انڈین پینل کوڈ کی دفعہ شامل کی گئی ہے”۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ لڑکی ملزمین کے ناموں سے واقف نہیں ہے اس نے صرف ایک نام بتایا ہے۔جسے فوری طور پر کمشنر پولیس حیدرآباد کی ہدایت پر کئی مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئیں،سی سی فوٹیج حاصل کرتے ہوئے بارہا مرتبہ جانچ کی گئی اور لڑکی کے مطابق پانچ ملزمین کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ڈی سی پی ویسٹ زون جوئل ڈیوس نے کہاکہ لڑکی کے بیان اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر ہی ان پانچوں ملزمین کی شناخت کی گئی۔ان میں دو ملزمین 18 سال سے زائد کی عمر کے حامل ہیں بقیہ تینوں نابالغ ہیں جن کی عمریں 16 تا 17 سال ہیں۔ان میں سے ایک سعدالدین ملک 18 سالہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ایک رکن اسمبلی کے فرزند کوبھی اس معاملہ میں ملوث قراردیتے ہوئے میڈیااورسوشل میڈیا پر ان کے ناموں کو وائرل کیا گیا تھا لیکن رکن اسمبلی کے فرزند کے خلاف بھی اب تک ایسے کوئی ثبوت وشواہد حاصل نہیں ہوئے ہیں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
اس واقعہ کے منظرعام پر آنے کے بعد اسے سیاسی رنگ دے دیا گیا۔اس واقعہ کے خلاف آج شام دیر گئے بی جے پی کارکنوں نے یہ الزام عائد کرتے ہوئے جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا کہ پولیس اس معاملہ میں جانبداری برت رہی ہے اور خاطیوں کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔پولیس نے احتجاجیوں کو گرفتار بھی کیا۔
اس واقعہ کےبعد ریاستی وزیر آئی ٹی و بلدی نظم و نسق کے۔تارک راما راؤ(کے ٹی آر )نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”حیدرآباد میں ایک نابالغ کی عصمت دری کی خبر سے غمزدہ اور صدمہ میں ہوں،ساتھ ہی کے ٹی آر نے اپنے اس ٹوئٹ میں ریاستی وزیر داخلہ محمدمحمود علی،ریاستی ڈی جی پی ایم۔مہیندرریڈی اور کمشنر پولیس حیدرآباد کو ٹیاگ کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ اس معاملہ میں فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔ براہ کرم اس واقعہ میں ملوث کسی کو بھی نہ بخشیں،چاہے ان کی حیثیت یا وابستگی کچھ بھی ہو”۔
ریاستی وزیرکے ٹی آرکے اس ٹوئٹ کاجواب دیتے ہوئے وزیرداخلہ محمدمحمودعلی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاہے کہ”ضرور کے ٹی آر صاحب،یہ ایک اندوہناک واقعہ ہے۔تمام مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔خواہ ان کا پس منظر کچھ بھی ہو۔ریاستی ڈی جی پی اور کمشنرپولیس حیدرآباد کو پہلے ہی ہدایت کی گئی ہے کہ تمام ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
اس واقعہ پررکن قانون ساز کونسل محترمہ کے۔کویتا نےبھی ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”اس افسوسناک اور شرمناک واقعہ میں جہاں ایک نابالغ کے ساتھ عصمت دری کی گئی،ہم خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ تلنگانہ پولیس اس کی تہہ تک پہنچ جائے گی۔انہوں نے لکھا ہے کہ جب بات خواتین کی حفاظت کی ہو ہمارے قانون کے سخت اور غیر سمجھوتہ کا ایک بہترین ریکارڈ موجود ہے”

