ظلم و ناانصافی اور بدامنی سےمسلمان ہرگز مایوس نہ ہوں
ملک کی امن پسند اکثریت ظلم کو پسند نہیں کرتی ملک کا مستقبل رؤشن ہے
تانڈور میں جمعیۃ علماءضلع وقارآباد کی”سیرت محسن انسانیتﷺ و قومی یکجہتی کانفرنس”
مفکرِ اسلام حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی کا خطاب

وقارآباد/تانڈور:18۔نومبر(سحرنیوز ڈاٹ کام)
مفکر اسلام حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی ڈائرکٹر معہد امام شاہ ولی اللہ ممبئی ورکن عاملہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ملک کے مسلمانوں کوموجودہ حالات اور واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ حوصلہ دیا ہے کہ موجودہ حالات سے مسلمان ہرگز مایوس یا پریشان نہ ہوں۔
حضرت مولانا نے کہا کہ اس ملک کی غالب اکثریت ظلم کو کسی بھی حال پسند نہیں کرتی۔مولانا نے کہا کہ میں اپنے علم اور تجربات کی بنیاد پر مکمل ذمہ داری اور وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ ملک کا مستقبل انتہائی تابناک و روشن ہے اور یہ جو خوف و دہشت کا ماحول میڈیا کے ذریعہ پھیلایا جارہا ہے وہ صرف دھواں ہے جو بہت جلد چھٹ جائے گا۔
مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی گزشتہ رات جمعیۃ علماء ضلع وقارآباد کے زیراہتمام نیشنل گارڈن فنکشن ہال،تانڈور ضلع وقارآباد میں حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھرا کی زیرپرستی منعقدہ "سیرت محسن انسانیتﷺ و قومی یکجہتی کانفرنس”سے خطاب کررہے تھے۔جس میں تمام مسالک و مکتبہ فکر کے علماء کرام،حفاظ کرام،مسلم ذمہ داران کے بشمول ہزاروں افراد نے شرکت کی اور جلسہ گاہ اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کررہا تھا۔

اس کانفرنس سے اپنا خصوصی خطاب جاری رکھتے ہوئے مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے میڈیا پر ریمارک کیا کہ موجودہ دؤر کے میڈیا کو ابلیس نے کذب و جھوٹ کا ڈپارٹمنٹ حوالے کردیا ہے۔
حضرت مولانا نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ظلم دن بہ دن بڑھتا ہی جارہا ہے ناانصافی اور بدامنی عام ہوگئے ہیں۔جیل اپنی وسعتوں کے باوجود تنگ ہوتے جارہے ہیں اور ملت خواب غفلت میں سوئی ہوئی ہے ۔
مختلف مذاہب کے رہنماؤں سے اپنی ملاقاتوں کی روشنی میں مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کہا کہ ان رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ آج ہر مذہب کے ماننے والوں میں ملک کے موجودہ حالات کے تئیں بے چینی ہے اور وہ بہر صورت تبدیلی اور انصاف و برابری پر مبنی ملک چاہتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ملک کا مستقبل بہت اچھا ہے۔
حضرت مولانا اپنے خطاب میں کہا کہ نفرت کے سوداگروں نے جو اس وقت ملک میں نفرت کا بازار گرم کر رکھا ہے اور آگ لگا رکھی ہے وہ ان کی دفاعی کوشش ہے۔
ملک میں ساڑھے چھ ہزار قومیں بستی ہیں اور اس ملک کے باشندوں میں شعور بیدار ہورہا ہے۔اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کہا کہ ہمیں ملک کے اندرونی حالات معلوم نہیں ہیں اور میڈیا کے ذریعہ جو تصویر کھینچی جارہی ہے اس سے ہم خوفزدہ اور تشویش میں مبتلا ہیں۔
کیونکہ میڈیا ہمیں صرف یہ دکھارہا ہے کہ ہریانہ کے گرگاؤں میں جمعہ کی نماز کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے جبکہ سوشل میڈیا نے ہمیں یہ بتایا کہ سکھوں نے نماز کی ادائیگی کے لئے گردوارے دے رہے ہیں اور ہندوبھائی اپنے مکانات اور آنگن دے رہے ہیں ان اطلاعات کو میڈیا نہیں دکھارہا ہے۔
حضرت مولاناخلیل الرحمن سجاد نعمانی نے اپنے خطاب میں زور دیکر کہا کہ فرقہ پرستی کا لفظ اب پرانہ ہوگیا ہے اب ہم سرمایہ دارانہ فسطائیت کی زد میں ہیں،ظلم اور تشدد اس لیے ہورہا ہے ان کو یقین ہے کہ یہ ان کی دفاعی جنگ ہے وہ ڈرا رہے ہیں،مسلمانوں کوخوفزدہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ دلت اور پسماندہ طبقات کوئی بھی اسلام میں داخل ہونے کے متعلق نہ سوچیں اور وہ اسلام سے دور رہیں۔
حضرت مولانا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کی کسی بھی شعبہ میں ترقی نہیں ہوئی،ملک کا خزانہ خالی ہے،مہنگائی اونچائی پر ہے،کروڑہا ملازمتیں چلی گئی ہیں،ہسپتالوں، لااینڈ آرڈر کی حالت خراب ہے،انسانو ں پرظلم عام ہوگیا ہے۔
حضرت مولانا نے کہا کہ سب سے زیادہ ووٹ دینے والے کسان ایک سال سے سڑکوں پرہیں، مزدوروں کے خلاف سخت قانون بنایا گیا اس سے ظاہر ہے کہ نفرت کا ماحول بنائے بغیر ان کا مستقبل نہیں ہے۔
مولانا نے کہا کہ آزادی کے بعد سے اکثریت اور اقلیت کا نفسیاتی اثر پیدا کیا گیاجبکہ اس ملک میں مظلوموں کی اکثریت ہے اورمظلوم جس دن متحد ہوگئے اس دن ملک کا مستقبل روشن ہو جائے گا۔
” حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب کا دو منٹ کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "
مولانا خلیل الرحمن سجادنعمانی نے نوجوان کو تلقین کی کہ وہ مسابقتی تعلیم کو ترجیح دیں،سخت اور پخت عہد کرلیں۔کیوں کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں،قومیں ہماری قیادت قبول کریں گی، نبی اکرمﷺ کے سارے اخلاق کو اپنالیں کیونکہ تنگیوں اور پریشانیوں سے گزرے بغیر کوئی بھی قائد نہیں بن سکتا آرام پسند لوگ چیلنجس کا سامنا نہیں کرسکتے۔
مولانا نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی شکایت عام ہے کہ مسلم نوجوان منشیات کے عادی ہوگئے ہیں اور یہ عادت ان کی دنیا اور آخرت برباد کردے گی اور اس کی عادت مت ڈال لیں اگر عادت میں مبتلا ہیں توفوری چھوڑ دیں کیونکہ نوجوان ہی قوم کے معمار ہوتے ہیں۔
حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ ان میں زبردست صلاحیتیں موجود ہیں وہ تمام شعبہ جات میں اپنا نام پیدا کریں انسانیت کی خدمت کریں۔
جلسہ کی نظامت کے فرائض مولانا محمد عبداللہ اظہر قاسمی صدرجمعیتہ علما ضلع وقارآباد نے انجام دئیے۔
قبل ازیں حافظ پیر خلیق احمد صابر جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش نے اس جلسہ سے خطاب میں موجودہ نازک دؤر میں بھی امت مسلمہ کی غفلت اور سردمہری پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالات کے بگاڑ کی بنیادی وجہ ہماری اپنی غفلت ہے اور ضرورت شدید ہیکہ ہم غفلت کی چادر کو چاک کرکے میدان عمل میں آئیں۔

ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی اور نوجوانوں میں بڑھتی ڈرگس کی لعنت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس لعنت سے اپنے نوجوانوں کو بچانا والدین، علماء اور ذمہ داران قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے انتہائی تاسف کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہم اتنے بے حس ہوگئے ہیں کہ انتقال کی اطلاع پر تعزیت کا اظہار بھی سوشل میڈیا پر کرنے تک محدود ہوگئے ہیں۔
اس کانفرنس سے مولانا خلیل الرحمن محمدی،سابق امیر جمعیت اہلحدیث تانڈور،مولانامحمدشکیل احمد نظامی،ناظم مدرسہ مدینتہ العلوم تانڈور،امیر مشاورت مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن تانڈورمحمدخورشیدحسین، سابق امیر جماعت اسلامی ہند تانڈور محمد سراج صمدانی،سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور (رورل) جلندرریڈی،سدی لنگیاسوامی،بی۔آنند عیسائی مذہب کے رہنماوں اور دانشوران ملت نے بھی خطاب کرتے ہوئے موجودہ وقت میں قومی یکجہتی پر زور دیا اور انصاف،انسانیت کا احترام اورعوام کے درمیان برابری کو ہر مذہب کی بنیادی تعلیم بتایا۔اس جلسہ کا اختتام مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کی رقت انگیز دعاء پر ہوا۔
اس سیرت محسن انسانیتﷺ و قومی یکجہتی کانفرنس میں وجئے واڑہ،حیدرآباد،رنگاریڈی،میڑچل،سنگاریڈی،ظہیرآباد،سداشیوپیٹ،محبوب نگر کرناٹک کے بیجاپور،گلبرگہ، بیدر، چنچولی کے علاوہ ریاست تلنگانہ کےمختلف اضلاع کے علاوہ ضلع وقارآباد کے اسمبلی حلقہ جات وقارآباد، کوڑنگل اور پرگی کے مختلف منڈلات سے جمعیۃ علماء کے ذمہ داران،علماء کرام اور عوام نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس جلسہ میں مولانا مصدق القاسمی جنرل سیکریٹری دینی تعلیمی بورڈ تلنگانہ و آندھرا،مولانا شریف احمد مظہری صدرجمعیۃ علماء گلبرگہ،مولانا غلام یزدانی صدرجمعیۃ علمابیدر،مولانا یونس جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماءمیڑچل،مفتی اسلم سلطان صدر جمعیۃ علماء سنگاریڈی،مولانا مقصود احمد طاہر صدر جمعیۃ علماء رنگاریڈی،شیخ محمد مصطفٰے فاؤنڈر مجتبی ہیلپنگ فاؤنڈیشن حیدرآباد کے بشمول سابق امیرمجلس مشاورت مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن تانڈورمحمدخواجہ (پاشا بھائی)، پروفیسر محمدانور خان،ریٹائرڈ پرنسپل انور العلوم کالج حیدرآباد،محمد بابر صدرمسلم ویلفیئراسوسی ایشن
محمد طاہر قریشی چیف پروموٹر الماس انٹرنیشنل اسکول تانڈور،سید کمال اطہر ریاستی صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا،سابق صدرمسلم ویلفیئراسوسی ایشن تانڈور عبدالاحد،محمدمنصور کریم،صدرمجلس تانڈور عبدالہادی شہری کے علاوہ جمعیتہ علماء ضلع وقارآباد کے تمام عہدیداران،اراکین اور دیگر ذمہ داران موجود تھے۔

