تلنگانہ کے ایک ہی مقام پرمختلف کمپنیوں کی ہمہ اقسام کی 350 گاڑیاں
نظارہ دیکھ کر آنکھیں چکاچوند،محبوب نگر کے نوجوان انس فیضی کا شاندار کارنامہ
کاغذ سے تیار کردہ قدیم و جدید کاریں،بسیں،فوجی ٹینک،ایمبولنس اور مشہور عمارتیں
حیدرآباد: 23۔ستمبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/خصوصی رپورٹ)

ہر کسی میں کوئی نہ کوئی صلاحیت ضرورموجود ہوتی ہے۔بس ضرورت ہےکہ ان صلاحیتوں کا استعمال بہتر اندازمیں کیاجائے۔انہی صلاحیتوں کے باعث دنیا میں ہر زمانے میں کئی ایسی نامورشخصیتیں پیدا ہوئی ہیں اور موجودہ دؤر میں بھی موجود ہیں۔کسی بھی شعبہ میں اپنی صلاحیتوں کا بہتر استعمال انسان کو جہاں شہرت کی بلندیاں عطا کرتا ہے۔وہیں مال و دؤلت بھی اس کے قدم چومنے لگتی ہے۔
زیرنظر تصاویر کو دیکھ کر ہر انسان کی آنکھیں چکاچوند ہوجاتی ہیں کہ جہاں قاعدہ کےساتھ دنیا کی مختلف مشہورکمپنیوں کی گاڑیاں قطاروں میں کھڑی ہیں۔آپ کو دیکھ کرمحسوس ہوگا کہ اتنی باقاعدگی کے ساتھ کھڑی کی گئیں یہ کاریں دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک کی پارکنگ کاحصہ ہوں گی یاپھر کسی ترقی یافتہ ملک کے کسی جلسہ یا تقریب کے موقع پر گاڑیاں اتنے نظم و ضبط کے ساتھ پارک کی گئیں ہوں گی۔
لیکن آپ پھر انہیں دیکھ کر سوچیں گے کہ پارکنگ میں کاریں اور موٹرسیکلیں توہوسکتی ہیں،لیکن جدید ماڈل اور قدیم ماڈل کی کاروں کےساتھ یہ بسوں،ایمبولنس گاڑیوں،فائر انجنوں،مختلف کمپنیوں اور رنگوں کے علاوہ فوجی ٹینکس کیوں اور کس طرح ایک ہی مقام پر پارک کی جاسکتی ہیں اور کیوں کی گئی ہیں؟
تو آپ کو جان کرحیرت ہوگی کہ یہ سچ مچ کی گاڑیاں نہیں ہیں جو نظر آرہی ہیں۔بلکہ یہ کاغذ سے تیار کی گئیں گاڑیاں ہیں جو ایک پارکنگ کی شکل میں ایک ٹیبل پرکھڑی گئی ہیں۔جیسا کہ ہم بچپن میں کاغذ کی کشتیاں بناکر بارش کے پانی میں چلایا کرتے تھے اور کاغذ کے ہوائی جہاز بناکر ہوا میں اڑایا کرتے تھے۔
یہ کارنامہ کسی غیرملک کے پہنچے ہوئے اور نامور آرٹسٹ کا نہیں ہے بلکہ ریاست تلنگانہ کےمحبوب نگرکےساکن 24 سالہ انس عبدالحلیم فیضی کا ہے۔اور یہ تمام گاڑیوں کےبشمول دنیابھر میں مشہور آسمان چھوتی عمارتوں کو انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے ذریعہ کاغذ اور مختلف رنگوں سے بنایا ہے۔ان کےمکان کے ٹیبل پر قرینے سے کھڑی ہوئیں یہ گاڑیاں اورمختلف عمارتیں اب میڈیا کے چینلوں پردھوم مچارہی ہیں۔جسے دیکھ کر ہر کوئی حیران ہے کہ یہ کارنامہ کیسے؟
نیو ٹاؤن محبوب نگر کےساکن محمد عبدالحلیم کے ہونہار فرزند انس عبدالحلیم فیضی نے نمائندہ سحر نیوز ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہیں بچپن سے ہی مختلف اقسام کی کاریں جمع کرنے اور اس طرح کاغذ کے ذریعہ کاریں اور دنیا کی مشہور بلند و بالا عمارتیں بنانے کا شوق ہے۔9 سال کی عمر سے ہی وہ اپنے اس شوق کو پورا کررہے ہیں۔

انس فیضی اب تک کاغذ اور مختلف رنگوں کی مدد سے 350 سے زیادہ گاڑیاں بناچکے ہیں۔جن میں دنیا کی مشہور کمپنیوں کی کاریں،فارمولا ریس کی کاریں،بسیں،موٹرسیکلیں،فوجی ٹینک،ایمبولنس گاڑیاں اورمختلف ویانس شامل ہیں۔جبکہ انس فیضی اپنی اس بہترین صلاحیتوں اور محنت و مشقت کے ساتھ ایک درجن دنیا بھر میں مشہور عمارتیں بھی کاغذ اور مختلف رنگوں کی مدد سے بناچکے ہیں۔ان سب کو دور سے دیکھنے پر گمان ہوتا ہے کہ واقعی یہ سچ مچ کی گاڑیاں اور عمارتیں ہیں۔
انس عبدالحلیم فیضی نے جہاں مختلف جدید اور قدیم کاریں اور مختلف گاڑیاں بنائی ہیں وہیں انہوں نےکاغذ کے ذریعہ ہی دنیا بھر میں مشہور مکہ کلاک رائل ٹاور،ایفل ٹاور،برج خلیفہ یو اے ای،ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ امریکہ،ولیز ٹاور امریکہ،ون ورلڈ ٹریڈ سنٹر امریکہ،شنگھائی ورلڈ فینانشیل سنٹر ،چین،انٹرنیشنل کامرس سنٹرس،ہانگ کانگ،تائی پی 101،تائیوان جیسی عمارتیں بھی کھڑی کی ہیں۔
انس عبدالحلیم فیضی نےبتایاکہ وہ مفخم جاہ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی،بنجارہ ہلز،حیدرآبادسے کمپیوٹر سائنس کی تکمیل کرچکے ہیں۔اور ایم ایس کی تکمیل کےلیے کسی یوروپی ملک کےکالج میں داخلہ کی تیاریاں کررہے ہیں۔انہوں نےبتایا کہ قیمتی اور مشہور گاڑیاں ان کی پسند ہیں اور وہ ان گاڑیوں کو کاغذکےذریعہ بنانےکا شوق پورا کررہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک گاڑی کی تیاری کے لیے پانچ گھنٹے یا پھر ایک دن لگ جاتا ہے اور یہ ان کے موڈ اور مصروفیت پر منحصر ہے۔

وہیں اس ہونہار نوجوان کے والد محمدعبدالحلیم جو کہ کئی سال تک سعودی عرب میں قیام کے بعد محبوب نگر واپس ہوئے ہیں اور پیشہ تجارت سے وابستہ ہیں نہ بتایا کہ ان کے فرزند انس عبدالحلیم فیضی کو یہ شوق اس وقت سے ہے جب وہ 9 سال کے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ تمام گاڑیاں اور عمارتیں ان کے فرزند انس فیضی کی اپنی محنت اور ہنر کا نتیجہ ہے۔

انس عبدالحلیم فیضی کےاس کام کودیکھ کرکہاجاسکتا ہے کہ موبائل فون،انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر اپنی صلاحیتوں کو برباد کرنے اورغلط شوقوں کا شکار ہونے والے زیادہ تر نوجوانوں کے لیے انس فیضی ایک مثال ہیں،کہ اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو بروئے کارلاتے ہوئے انسان چٹانوں کو توڑکر راستہ نکال سکتا ہے۔اور کاغذوں کی مدد سے ہی سہی اس طرح اپنا شوق پورا کرسکتا ہے۔ممکن ہےکہ انس فیضی کایہ کام مستقبل میں ان کےکام آجائے اور وہ مختلف گاڑیوں کی باقاعدہ ڈیزائننگ پیش کرتے ہوئےکسی مشہورکمپنی کواپنی جانب راغب کرنےمیں کامیاب ہوجائیں،

