ساڑھے آٹھ کروڑ روپئے کی ڈکیتی کی ماسٹر مائنڈ ڈاکو حسینہ کو دس روپئے کی فروٹی مہنگی پڑگئی، نقاب ہٹاکر مشروب پینے کے دوران پولیس نے شناخت کرلی

ساڑھے آٹھ کروڑ روپئے کی ڈکیتی کی ماسٹر مائنڈ ڈاکو حسینہ کو دس روپئے کی فروٹی مہنگی پڑگئی
نقاب ہٹاکر مشروب پینے کے دوران پولیس کے جال میں، شوہر سمیت 9 گرفتار 

چندی گڑھ : 21/جون
(سحرنیوزڈاٹ کام /ایجنسیز)

مندیپ کور جسے ڈاکو حسینہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کو پنجاب پولیس نے 8 کروڑ 49 لاکھ روپے کی ڈکیتی کے الزام میں گرفتار کرلیا جو 10 جون کو لدھیانہ میں انجام دی گئی تھی۔دلچسپ بات یہاں یہ ہےکہ اس ڈاکو حسینہ کو 10 روپئے مالیتی فروٹی مشروب پینے کی کوشش اسے پولیس کی جانب سے بچھائے گئے جال میں پھنسانے میں مددگار ثابت ہوئی۔

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق مندیپ کور اور اس کے شوہر جسویندر سنگھ کو اتراکھنڈ کے چمولی کے ہیم کنڈ صاحب سے گرفتار کیا گیا۔ وہ سکھوں کی عبادت گاہ پر حاضری دینے پہنچے تھے تاکہ جرم کی کامیابی سےتکمیل ہو سکے۔ اس جوڑے کے علاوہ پولیس نے ایک اور ملزم گورو کو بھی پنجاب کے گدربہا سے پکڑ لیا۔  

پنجاب پولیس نے اب تک اس ڈکیتی کے معاملہ کے 12 ملزموں میں سے 9 کو گرفتار کرلیا ہے۔پولیس کی جانب سے دس روپئےمالیتی مشروب کی مفت تقسیم کے جال میں پھنسنے والے اس جوڑے کے قبضہ سے 21 لاکھ روپے برآمد کرلیے گئے۔

پنجاب پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ مندیپ کور اور اس کے شوہر جسویندر سنگھ نے نیپال فرار ہونے کا منصوبہ بنایاہےلیکن اس سے قبل وہ ہریدوار،کیدار ناتھ اورہیم کنٹ صاحب سمیت مختلف مزارات پر جانے کا ارادہ رکھتےہیں۔تاہم اتراکھنڈ میں سکھوں کی عبادت گاہ پر جانےوالے عقیدت مندوں کے ایک بہت بڑے ہجوم میں ان دونوں کی شناخت کرنامشکل تھا۔لہذا پولیس نے گردوارہ آنےوالے زائرین کے لیے مفت مشروب کی تقسیم کے انعقاد کا منصوبہ بنایا۔

پولیس کی جانب سے باقاعدہ اتراکھنڈ کے چمولی کےہیم کنڈ صاحب گردوارہ میں مشروب پلانےکا اسٹال قائم کیا گیا اور سادہ لباس میں وہاں عملہ کومشروب پلانے کی خدمات پر رکھا۔ 19 جون کو پنجاب پولیس کامنصوبہ اس وقت کامیاب ہوا جب یہ ملزم جوڑا ڈرنک اسٹال کے قریب پہنچا۔تاہم ان دونوں نے پکڑے جانے کےخوف سے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے۔لیکن اسٹال سے حاصل کی گئی فروٹی پینے کےلیے انہیں اپنے چہرے سے نقاب ہٹانا لازمی ہوگیا تھا اسی وقت پولیس نے ان کی شناخت کرلی۔

دلچسپ بات یہ ہےکہ مندیپ کور اور جسویندرسنگھ کو شناخت کےباوجود فوری طور پر گرفتار نہیں کیا گیا۔پولیس نے انہیں ہیم کنڈ صاحب میں عبادت کرنے کا موقع دیا۔اس کےبعد ہی پولیس نےاس جوڑے کا کچھ دور تک تعاقب کیا۔بعدازاں انہیں حراست میں لے لیا گیا۔پولیس نے مندیپ کور کو پکڑنے کے لیے کیے گئے اس آپریشن کا نام ” آئیے ملکہ مکھی کو پکڑتے ہیں ” دیا گیا تھا۔

لدھیانہ کے پولیس کمشنر مندیپ سنگھ سدھو کےمطابق مندیپ کور کی دو پہیہ گاڑی سے 12 لاکھ روپے اور اس کےشوہرجسویندر سنگھ کے برنالہ والےگھر سے 9 لاکھ روپے برآمد ہوئے ہیں۔اب تک کی تحقیقات سے پتہ چلاہےکہ مندیپ کور جلد امیر بننا چاہتی تھی۔وہ کئی جگہوں سے قرض حاصل کرتے ہوئے مقروض ہوگئی تھی۔قبل ازیں وہ ایک انشورنس ایجنٹ اور وکیل کی معاون کےطور پر کام کرتی تھیں۔اس کی شادی جاریہ سال فروری میں جسویندر سنگھ سے ہوئی تھی۔

مندیپ کور جسے ڈاکو حسینہ کے نام سےبھی جانا جاتا ہے 8 کروڑ 49 لاکھ روپئے لدھیانہ ڈکیتی کے معاملہ کےملزموں میں شامل ہے۔ یہ ڈکیتی 10 جون کو انجام دی گئی تھی۔جب مسلح افراد کے ایک گروپ نے لدھیانہ میں سی ایم ایس سیکورٹیز کمپنی کی کیش وین پر دھاوامنظم کرتےہوئے 8.49 کروڑ روپے لوٹ لیےتھے۔

اس واردات میں شامل ڈکیتوں نے ماسک اور دستانے پہن رکھے تھے۔اس چوری کی واردات کی انجام دہی کےبعد وہ تمام پہلے سے تیار کھڑی کی گئی ایک کار میں سوار ہوکر فرار ہوگئے تھے۔مندیپ کور نے مبینہ طور پر سی ایم ایس سیکورٹیز کمپنی کے پانچ ملازمین کو 10 جون کو نیو راج گرو نگر علاقہ میں دفتر میں قید کر رکھا تھا۔