اترپردیش کےلکھیم پور کھیری میں گاڑی کے ذریعہ کسانوں کو رؤندنے کے واقعہ میں
مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کے فرزند اشیش مشرا 12 گھنٹوں کی پوچھ تاچھ کے بعد گرفتار
لکھنو: 09۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
گزشتہ اتوار کو اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں گاڑی کے ذریعہ کسانوں کو رؤند دینے اور فائرنگ کرنے کے الزامات کاسامنا کر رہے مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا عرف مونو کو بالآخر آج رات اترپردیش پولیس نے 11 گھنٹوں کی تفتیش کے بعد باقاعدہ گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔
خبررساں ادارہ اے این آئی کے مطابق ڈی آئی جی سہارنپور اوپیندرا اگروال نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس تفتیش کے دؤران آشیش مشرا پولیس سے تعاون نہیں کررہے تھے اور انہوں نے چند سوالات کے جواب نہیں دئیےاور گرفتار کیے گئے آشیش مشرا کوعدالت میں پیش کیا جائے گا۔
آشیش مشرا آج ہفتہ کی صبح 10.30 بجے پولیس لائن کے کرائم برانچ آفس میں خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے سامنے پیش ہوئے تھے جہاں اتوار کو لکھیم پور کھیری میں گاڑی کے ذریعہ کسانوں کو رؤندے جانے کے معاملہ میں ان کے اور دیگر 13 افراد کے خلاف قتل کے الزامات کے تحت درج ایف آئی آر کے بارے میں ان سے پوچھ تاچھ کی گئی۔
” مرکزی وزیر کے فرزند آشیش مشرا کی گرفتاری کا ویڈیو ” (33 سیکنڈ)
یاد رہے کہ اترپردیش کے لکھیم پوری کھیری میں اتوار 3 اکتوبر کو احتجاجی کسانوں پر مملکتی مرکزی وزیر داخلہ اجئے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کی جانب سے کار چڑھا دئیے جانے کے واقعہ میں جملہ 9 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں چار کسان،ایک مقامی صحافی، تین بی جے پی کارکن اور ایک ڈرائیور شامل ہیں۔

اس بربریت پرمشتمل واقعہ کی ہر طرف سے مذمت کا سلسلہ جاری تھا اور کل ہی سپریم کورٹ نے اترپردیش کے دو وکلا کی شکایت پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے اس واقعہ کے اصل ملزم آشیش مشرا کی ہنوز عدم گرفتاری پر اتر پردیش حکومت پر تیکھے ریمارک کیے تھے حکومت اور پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا جس کے بعد اترپردیش پولیس نے آشیش مشرا کے مکان پر نوٹس چسپاں کرتے ہوئے انہیں تفتیش کے لیے حاضر ہونے کی ہدایت دی تھی۔
لکھیم پور کھیری کے واقعہ کے بعد کسانوں کے غصہ کو کم کرنے کی غرض سے اترپردیش حکومت اور کسانوں کے درمیان پیر کے دن ہونے والی بات چیت کے بعد چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ نے مہلوک کسانوں کے خاندانوں کو فی کس 45 لاکھ روپئے ایکس گریشیا اور گھر کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کرنے اور اس کے واقعہ میں ایک درجن سے زائد زخمی ہونے والے کسانوں کو فی کس دس لاکھ روپئے کا اعلان کیاتھا۔
اور ساتھ ہی چوطرفہ مذمت اور احتجاج کو دیکھتے ہوئے اترپردیش حکومت نے احتجاجی کسانوں کو گاڑی کے ذریعہ رؤند دئیے جانے کے الزامات کا سامنا کررہے مرکزی وزیر کے بیٹے آشیش مشرا سمیت 14 افراد پر قتل کا کیس درج کرلیا تھا۔
اس بربریت والے واقعہ کے عینی شاہد کسانوں نے میڈیا کیمروں کے سامنے کہا تھا کہ کسانوں پر مرکزی ممکتی وزیر داخلہ اجئےمشرا کے بیٹے آشیش مشرا نے گاڑی چڑھائی ہے۔
بعدازاں برہم کسانوں نے ان کی گاڑی سمیت تین گاڑیوں کو نذرآتش کیا تھا اور آشیش مشرا کی جانب سے فائرنگ کیے جانے کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہاں سے فرار ہونے کے دؤران انہوں نے فائرنگ بھی کی تھی۔

تاہم اس واقعہ کے فوری بعد مرکزی ممکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا نے میڈیا کے کیمروں کے سامنے کہا تھا کہ واقعہ کے وقت ان کا بیٹا آشیش مشرا وہاں موجود ہی نہیں تھا اور ہنوز ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا بیٹا اس واقعہ میں ملوث ہی نہیں ہے!!
ایسے میں 5 اکتوبر کو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر ایک ایسا ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ احتجاج کے بعد پرامن طریقہ سے واپس ہونے والے کسانوں کو عقب سے آنے والی ایک گاڑی اچانک رؤندتے ہوئے گزر رہی ہے اور بتایا جارہا ہے کہ اس گاڑی کے مالک مرکزی ممکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا ہیں!!
اتوار کی رات کو اس واقعہ کے بعد مہلوک کسانوں سے ملاقات کی غرض سےلکھیم پور کھیری جارہیں جنرل سیکریٹری کانگریس و انچارج اتر پر دیش پرینکا گاندھی کو پولیس نے اپنی تحویل میں لیتے ہوئے انہیں اترپردیش کے سیتاپور میں دو دنوں تک محروس رکھا تھا۔
اپوزیشن جماعتوں کانگریس،سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی جانب سے اور سوشل میڈیا پر اس واقعہ کی شدید مذمت کے درمیان حکومت اتر پردیش اور پولیس انتظامیہ نے تین دن کے وقفہ کے بعد 6 اکتوبر کو سابق صدر کانگریس و رکن پارلیمان راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کو لکھیم پور کھیری کے دؤرہ کی اجازت دی تھی تاہم لکھیم جانے کی غرض سے تاہم راہول گاندھی کے ساتھ لکھنو ایرپورٹ پہنچے چیف منسٹر پنجاب چرنجیت سنگھ چنی اور چیف منسٹر چھتیس گڑھ بھوپیش باگھیل کو کئی گھنٹوں تک روک دیا گیا تھا۔
سیکورٹی حکام کا کہنا تھا کہ وہ پولیس کی گاڑی میں لکھیم پور کھیری کا سفر کریں جبکہ راہول گاندھی بضد تھے کہ وہ اپنی گاڑی میں لکھیم پور کھیری جائیں گے۔
جبکہ سماج وادی پارٹی چیف و سابق چیف منسٹر اکھلیش یادو،بہوجن سماج پارٹی سپریمو و سابق چیف منسٹر مایاوتی،عام آدمی پارٹی کے رکن راجیہ سبھا سنجے سنگھ سمیت کسی کو بھی لکھیم پور کھیری کے دؤرہ کی اجازت نہیں دی گئی تھی یا تو انہیں تحویل میں لیا گیا تھا یا انہیں انکے مکانات کے باہر رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے روک دیا گیا تھا
بعدازاں جنرل سیکریٹری کانگریس و انچارج اترپردیش پرینکا گاندھی،سابق صدر کانگریس و رکن پارلیمان راہول گاندھی،چیف منسٹر پنجاب چرنجیت سنگھ چنی اور چیف منسٹر چھتیس گڑھ بھوپیش باگھیل کو لکھیم پور کھیری کے دؤرہ کی اجازت دے دی گئی۔جس کے بعد راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے لکھیم پور کھیری پہنچ کر اتوار کے دن گاڑی سے رؤندے گئے چاروں مہلوک کسانوں کے افراد خاندان سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں پرسہ دیا تھا۔

اس معاملہ میں کانگریس پارٹی کا شروع سے ہی مطالبہ ہے کہ اس واقعہ میں ملوث مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا عرف مونو کو فوری طورپر گرفتار کیا جائے،اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور اجئے مشرا کو مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کے عہدہ سے برطرف کیا جائے۔
مرکزی اور اترپردیش حکومت سمیت پولیس انتظامیہ پر اس معاملہ میں اپوزیشن جماعتوں،سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر الزام عائد کیا جارہا تھا کہ گاڑی کے ذریعہ کسانوں کو رؤندنے کے واقعہ میں ملوث مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا عرف مونو کو تحقیقات سے پہلے ہی بچانے کی کوشش کی کی جارہی ہے اور ان کی گرفتاری کے معاملہ میں امتیاز برتا جارہاہے جبکہ قانون سب کے لیے ایک ہوتا ہے۔
وہیں کل کسان رہنما راکیش ٹکیٹ نے سخت مطالبہ کیا تھا کہ اگر بیٹا آشیش شرما نہیں پکڑا جارہا ہے تو پولیس ان کے والد مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا کو تحویل میں لے جس کے بعد بیٹا خود بخود پولیس تک پہنچ جائے گا۔

