صدر تلنگانہ بی جے پی کی حیثیت سے کشن ریڈی کا تقرر، بنڈی سنجے کمار عہدہ سےمستعفی

صدر تلنگانہ بی جے پی کی حیثیت سے کشن ریڈی کا تقرر
بنڈی سنجے کمار عہدہ سےمستعفی، مرکزی وزارت میں شامل کیے جانے کا امکان!

حیدرآباد: 04۔جولائی (سحرنیوز ڈاٹ کام)

بھارتیہ جنتا پارٹی نے آج اچانک ایک اقدام کے ذریعہ موجودہ مرکزی وزیر سیاحت جی۔کشن ریڈی کو صدر تلنگانہ بی جے پی مقرر کردیا اور موجودہ صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے کمارنے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔مسٹر جی۔کشن ریڈی حلقہ پارلیمان سکندرآباد کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ جبکہ سابق صدر بی جے پی تلنگانہ بنڈی سنجے کمار حلقہ پارلیمان کریم نگر کی نمائندگی کرتے ہیں۔

گذشتہ ایک ہفتہ سےمیڈیا میں ایسی اطلاعات زیرگشت تھیں کہ چند ماہ بعد تلنگانہ اسمبلی کےانتخابات ہونےوالےہیں اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے بی جے پی جی۔کشن ریڈی کو صدر تلنگانہ بی جے پی مقرر کرسکتی ہے اور ساتھ ہی بنڈی سنجے کمار کو مرکزی وزراء کے امکانی ردوبدل کےموقع پر وزیر مملکت بناسکتی ہے۔جی۔کشن ریڈی اس سے قبل یہ عہدہ سنبھال چکے ہیں۔بعد ازاں انہیں 2019 میں مملکتی وزیر داخلہ کا عہدہ دیا گیا تھا پھر انہیں وزرا کے ردو بدل کے موقع پر مرکزی وزیر سیاحت بنایا گیا تھا۔

اسی طرح بی جے پی ہائی کمان نے رکن اسمبلی حضورآباد وسینئرسیاستداں ایٹالہ راجندر کوتلنگانہ میں بی جے پی کی الیکشن مینجمنٹ کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا ہے۔

اسی طرح پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں بھی سابق مرکزی وزیر ڈی۔ پورندیشوری کو صدر ریاستی بی جے پی بنایا گیاہے۔موجودہ صدر کے عہدہ کی معیاد ختم ہوگئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق ملک کی 5 ریاستوں مدھیہ پردیش،راجستھان،چھتیس گڑھ،تلنگانہ اور جھارکھنڈ میں ہونے والے جاریہ سال کے اواخر یا آئندہ سال کے ابتدا میں ہونے والے اسمبلیوں کے انتخابات اور پھر آئندہ سال لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے 4 ریاستوں میں ریاستی پارٹی صدور کو تبدیل کیا ہے۔پنجاب، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور جھارکھنڈ میں تبدیلی لائی گئی ہے۔

کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہونے سنیل جاکھڑ کو پنجاب،ڈی پورندیشوری کو آندھرا پردیش،جی کشن ریڈی کو تلنگانہ اور بابو لال مرانڈی کو جھار کھنڈ میں پارٹی کی کمان سونپی گئی ہے۔جبکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے آخری وسابق چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کو بی جے پی نے رکن نیشنل ورکنگ کمیٹی نامزد کیا ہے۔این۔کرن کمار ریڈی جاریہ سال اپریل میں کانگریس کو چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔