کرناٹک میں اب دوپٹہ کی بھی مخالفت!
منگلور کے کالج میں امتحان میں شریک مسلم طالبات کے ساتھ بدتمیزی
بنگلورو: 04۔مارچ (سحرنیوزڈاٹ کام)
کرناٹک کے مانڈیا کے ایک کالج میں 8 فروری کو مسکان خان نامی برقعہ پوش طالبہ کے کالج پہنچنے پر اس تنہا مسلم لڑکی کا سینکڑوں لڑکوں کے جھنڈ نے زعفرانی شالوں اور کھنڈوؤں کو لہراتے ہوئے جئے شری رام کے نعروں اور قہقہوں کے ساتھ تعاقب کیا تھا۔جن کا جواب اس طالبہ نے اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ دیا تھا۔اس وقت اس واقعہ کے ویڈیو کی سوشل میڈیا پر سونامی آگئی تھی اور یہ معاملہ بین الاقوامی سطح تک پہنچ گیا تھا جس کی ہر طرف سے مذمت کی گئی تھی۔
اسی دؤران آج ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جو کہ منگلور کے گورنمنٹ فرسٹ گریڈ کالج کا بتایا گیا ہے۔جہاں حجاب کے بجائے دوپٹہ اوڑھ کر امتحان میں شریک ہونے والی مسلم طالبات کے ساتھ چند شرپسند طلبا نے بحث کرتے ہوئے بدتمیزی کی۔
جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں اب حجاب کے بعد مسلم لڑکیوں کے ” دوپٹہ ” اوڑھنے پر بھی انہیں اعتراض ہے!!
ٹوئٹر پر ممتازصحافی Imran Khan# (عمران خان) نے اس واقعہ کا ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مسلم طالبات جنہوں نے دوپٹہ اوڑھ کر امتحان لکھا جنہوں نے اسے حجاب کے طور پر نہیں پہنا تھا۔لیکن دائیں بازو کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے چند طلباء نے انہیں ہراساں کیا۔
بتایا جارہا ہے کہ کالج کے پرنسپل ان مسلم طالبات کو دوپٹہ اوڑھنے کی پہلے ہی اجازت دی تھی۔اس واقعہ کے دؤران پرنسپل نے پولیس کو طلب کرلیا۔بعد ازاں پولیس نے مداخلت نے کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پالیا۔اس وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ان میں سے ایک مسلم طالبہ نے ان لڑکوں سے بحث بھی کررہی ہے۔یہ واقعہ امتحان میں شرکت کے بعد پیش آیا ہے۔

یاد رہے کہ جنوبی کرناٹک کے اڑپی،منگلور،ہاسن اور چکمگلور کے علاوہ دیگر اضلاع میں ماہ ڈسمبر کے اواخر سے سرکاری اور خانگی اسکولوں اور کالجوں کو مسلم طالبات کی جانب سے حجاب پہن کر آنے کے خلاف وقفہ وقفہ سے شرپسندی کا سلسلہ جاری ہے۔اس حجاب معاملہ کا فیصلہ طویل سماعت کے بعدکرناٹک کی ہائی کورٹ میں محفوظ ہے۔اس معاملہ کی معزز چیف جسٹس ریتو راج اوستھی کی قیادت میں معزز جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اور معزز جسٹس محترمہ زینب محی الدین قاضی پرمشتمل سہء رُکنی بنچ نے سماعت کی تھی۔
حجاب معاملہ میں چند زعفرانی تنظیموں اور ان کے وابستہ طلبہ نے کئی دنوں تک ہنگامہ آرائی کی تھی۔وہیں حکومت کرناٹک نے تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ کے سختی کے ساتھ نفاذ کا جی او جاری کیا تھا۔جبکہ معزز ہائی کورٹ کرناٹک نے ہدایت دی تھی کہ اس معاملہ کے فیصلہ تک کوئی بھی طالب علم اپنا مذہبی لباس پہن کر تعلیمی اداروں کو آنے کے لیے ضد نہیں کرے گا۔

