جشن اردو صحافت،حیدرآبادی میزبان…اور،مضمون نگار: سید فاضل حسین پرویز۔ایڈیٹر گواہ،اردو ویکلی،حیدرآباد

جشن اردو صحافت:حیدرآبادی میزباناور

مضمون نگار: ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
ایڈیٹر گواہ،اردو ویکلی۔حیدرآباد
فون:9395381226

اردو صحافت کی دو صدیوں کی تکمیل پر جشن منانے کا سلسلہ جاری ہے۔نتیش کمار سے لے کر اندریش کمار تک نے اردو زبان اور اردو صحافت کی خدمات کا اعتراف کیا ہے،جو خوش آئند ہے۔امید ہے کہ جس کسی نے اردو زبان اور اردو صحافت کی خدمات کا اعتراف کیا اُسے ہندوستانی عوام کی زبان قرار دیا۔ان کے قول اور عمل میں کوئی تضاد نہیں رہے گا۔

حیدرآباد میں بھی اردو صحافت کے دوسو سال کی تکمیل کا جشن مختلف اداروں،تنظیموں کی جانب سے منایا گیا۔حیدرآباد کے بارے میں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ اب بھی یہ شہر اردو کا شہر ہے۔یہاں بازاروں میں اردو کے سائن بورڈس لگے نظر آتے ہیں۔مختلف حکومتوں کے دوران تعصب پرست سرکاری عہدہ داروں کی موجودگی کے باوجود سرکاری دفاتر پر اردو تحریر آنکھوں کو آسودگی اور ہمارے وجود کوتسلی بخشتی ہے۔اردو کے معیاری اخبارات یہاں سے شائع ہوتے ہیں۔ جن کی تعداد اشاعت اچھی خاصی ہے۔

کرسچن مشنریز اسکولس کو چھوڑکر بیشتر اسکولس اور کالجس میں بالخصوص مسلم انتظامیہ کےتحت قائم تعلیمی اداروں میں اردو ایک مضمون کے طور پر نصاب میں شامل ہے۔

ایک دؤر تھا کہ حیدرآباد کے دو مشہور اقلیتی کالجز انوارالعلوم کالج اور ممتاز کالج میں اردو میڈیم ہوا کرتے تھے،جس سے کئی اہم شخصیات قومی سطح پر ابھری تھیں۔افسوس کہ ان دو کالجس میں اب اردو میڈیم دورِ گزشتہ کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ دینی مدارس کافی تعدادمیں ہیں جو اردو کو آکسیجن پہنچا رہے ہیں۔ساتھ ہی ان مدارس سے بہترین صحافی بھی تیار ہورہے ہیں۔

اردو زیرتعلیم کی پہلی یونیورسٹی جامعہ عثمانیہ میں 1948 سے اردو کا خاتمہ شروع ہوا۔لگ بھگ 40 برس بعد اسی شہر میں پہلی اردویونیورسٹی ”مولانا آزاد اردو نیشنل یونیورسٹی“ قائم ہوئی۔جس کی پرشکوہ عمارت دیکھ کر اکثر لوگ اسے اردو کا تاج محل کہتے ہیں۔

کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ”تاج محل تو شاہجہاں نے ممتاز محل کی یاد میں مقبرہ بنایا تھا،اللہ نہ کرے کہ اردو یونیورسٹی اردو کا مقبرہ بن جائے”۔اس یونیورسٹی سے بہت ساری امیدیں ہیں۔یہاں کے شعبہ صحافت و ترسیل عامہ سے بہترین صحافی ملک و قوم کو اثاثہ ثابت ہوسکتے ہیں۔یہاں وسائل اور انفراسٹرکچر کی کوئی کمی نہیں ہے۔اکیڈیمک فیکلٹی بہت اچھی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری دیانت داری کے ساتھ کام کیا جائے۔ورنہ دوسری یونیورسٹیز کے مقابلے میں یہاں سیاسی پراگندگی زیادہ ہے۔جس کا اثر فیکلٹیز،طلبہ اورتعلیمی معیار پر بھی ہوتا ہے۔

جہاں تک اردو صحافت دو صدی کی تکمیل پر منائے جانے والے جشن کا تعلق ہے”بزم صدف انٹرنیشنل قطر”نے پہلی بار قطر کےبجائے اردو کے شہر حیدرآباد میں اس جشن کا اہتمام کیا۔ویمنس کالج کوٹھی میں دو روزہ پروگرام کا اہتمام کیاگیا۔یہ اتفاق ہی تھا کہ اردو صحافت کا جشن دکن کے آخری تاجدار نواب میر عثمان علی خاں کی 136 ویں یوم پیدائش کے موقع پر منعقد ہوا۔

بزم صدف ایک معیاری انجمن ہے جس نے دیارِ غیر میں اردو کی نئی بستی آباد کی۔اردو صحافیوں،ادیبوں، شاعروں کی پذیرائی کی۔حیدرآباد میں یقینا بڑی امیدوں کے ساتھ انہوں نے اس کا اہتمام کیا تھا۔

افسوس اس بات کا ہے کہ جو خاطرخواہ تعاون انہیں حیدرآباد کی اردو انجمنوں اور صحافتی اداروں سے ملناچاہئے تھا وہ نہیں ملا۔سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک تنظیم نےعین اُسی وقت جشن صحافت اور ایوارڈ فنکشن کا اعلان کردیاجب بزم صدف کا پروگرام ہورہا تھا یقیناً ہر انجمن اور تنظیم کو حق اور اختیار حاصل ہے کہ جشن کا اہتمام کرے مگر آپسی تعاون سے ایک دوسرے کے پروگرامز کو کامیاب بنایا جاسکتا تھا۔

جس تنظیم نے ایوارڈ فنکشن کا اہتمام کیا اس نے مبینہ طور پر لگ بھگ 136 ایوارڈس یا اسنادات ریاستی وزیر داخلہ جناب محمود علی کے ہاتھوں تقسیم کروائے جو کہ مضحکہ خیز ہے۔

اس ایوارڈ فنکشن نے 20-15برس پہلے کے ان واقعات کو یاد دلادیا جب پرانے شہر میں ایک مشہور بزنس مین کی جانب سے غریبوں میں زکوٰۃ  کی ساڑیاں تقسیم کی جاتی تھیں۔اس تنظیم سے وابستہ سبھی لوگ تعلیم یافتہ قابل سلجھے ہوئے ہیں،مگر بزم صدف سے شایدکسی معاملہ میں اختلاف کی وجہ سے ایک چیلنج کے طور پر یہ پروگرام کیا گیا۔

اگرچہ کہ شرکاء کی تعداد اچھی خاصی رہی ہوگی،ایوارڈ یافتہ گان میں وہ لوگ بھی شامل رہے ہیں جن کا اردوصحافت سے صرف اس حد تک تعلق ہے کہ ان کے مراسلے کبھی کسی اردو اخبار میں چھپے ہوں گے۔جو بھی ہو! ایسے پروگرامس کی چاہے وہ لاکھ کامیاب ہوں،تعریف نہیں کی جاسکتی۔کیوں کہ یہ اردو اور حیدرآبادی تہذیب کے خلاف ہے۔

بزم صدف کے آرگنائزرس ہمارے مہمان تھے اور ہم میزبان!اس قسم کی حرکات سے حیدرآباد کی روایتی میزبانی پر حرف آیا ہے۔اس کے علاوہ حیدرآباد کی اردو صحافت میں بھی نہ تو جشن صحافت اور نہ ہی نواب میر عثمان علی خاں کی یوم پیدائش تقاریب کے سلسلے میں منعقد ہونے و الے پروگرامس کو زیادہ اہمیت دی۔

جناب مصطفیٰ علی سروری،اسوسی ایٹ پروفیسر شعبہء ترسیل عامہ و صحافت،”مانو” حیدرآباد اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے۔

افسوس کی بات ہے صحافت سے متعلق پروگرام اور اردو اخبارات کی سردمہری!اس سے حیدرآباد کی اردو صحافت کی اعلیٰ ظرفی سوالیہ بن جاتی ہے؟اخبارات کا چاہے کتنا ہی سرکولیشن کیوں نہ ہو،اُسے کتنا ہی بڑا اخبار کیوں نہ سمجھا جائے اگر اس میں اردو ہی کو جگہ نہ ملی تو کیا فائدہ؟

یہ سچ ہے کہ اسٹاف کی کمی صرف اردو اخبارات کاہی نہیں،ہر زبان کے اخبارات کا سنگین مسئلہ ہے۔بیشتر ادارے،انجمنیں خود خبریں تیار کرکے باقاعدہ ان پیج میں ٹائپ کرواکے تصاویر کے ساتھ ان اخبارات کو فراہم کردیتے ہیں،اس کے باوجود اگر یہ شائع نہیں ہوتی ہیں اور اس کے مقابلے میں سڑک چھاپ لیڈروں،کاغذی انجمنوں کی سرگرمیوں اور ٹیبل نیوز چھاپی جاتی ہیں تو ان اخبارات کے مستقبل کا اللہ ہی حافظ ہے!!

اخبارات کے مالکین کا یہ المیہ ہے کہ وہ اتنی بلندی پر ہیں انہیں اپنے سے نیچے کی کوئی شئے نظر نہیں آتی۔خوشامد پسند لیڈرس،کچھ اسٹاف کے ارکان اس قدر مغالطے میں رکھتے ہیں کہ انہیں آج کے حالات کا جائزہ لینے کا موقع ہی نہیں ملتا۔سوشیل میڈیا تیزی سے پرنٹ میڈیا کو دیمک کی طرح کھارہا ہے۔بیشتر افراد اور ادارے تو اخبارات کے رویوں سے بدظن ہوکر سوشیل میڈیا کا سہارا لے چکے ہیں اور انہیں اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی ہورہا ہے۔اگر خواب غفلت سے نہ جاگیں تو چند برس بعد ہم جیسے اخبارات کے مالکین کے لئے خود کو بھی پہچاننا مشکل ہوجائے گا۔

اردو صحافت کا جشن بہت زیادہ کامیاب ہوسکتا تھا مگر اس میں کچھ کوتاہی بزم صدف کے ارباب مجاز کی بھی ہے۔انہوں نے حیدرآباد میں چند ذمہ داروں سے جن میں اکثریت خواتین کی تھی ان کے تعاون سے پروگرام کیا۔ان کا یہ کام تھا کہ وہ اس پروگرام سے پہلے حیدرآباد کے اخبارات کے ایڈیٹرس کے علاوہ یہاں کی ذمہ دار شخصیات سے ملاقات کرتے اور ان کا تعاون حاصل کرتے۔

دوسری غلطی جو جان بوجھ کر نہیں کی گئی ہوگی،یہ رہی کہ بزم صدف کے صدر نے جب پریس کانفرنس کی تو جن دو خواتین کے تعاون سے وہ حیدرآباد میں اتنے اہم کانفرنس کا اہتمام کررہے تھے،نہ تو انہیں اپنے ساتھ ڈائس پر بٹھایا نہ ہی بھولے سے بھی ان کا ذکر کیا۔! جو بھی ہو،تقاریب ہوچکیں۔مگر اس کی تلخ اور خوشگوار یادیں ایک عرصہ تک ذہنوں میں محفوظ رہیں گی۔

ان تمام کوتاہیوں کے باوجود ہم حیدرآبادیوں کا یہ فریضہ تھا کہ ہم ایسے پروگرامس کی بھرپور حمایت کرتے اور اسے کامیاب بنانے میں مدد کرتے۔میرا اپنا بھی بزم صدف کے ذمہ داروں سے بعض معاملات پر اختلاف ضرور رہا۔مگر یہ اختلافات ہماری صحافتی ذمہ داریوں پر اثر انداز نہیں ہوا۔

ہم ورکنگ جرنلسٹ ہوں یا اخبار کے ایڈیٹر،ہمیں ہمیشہ اسپورٹس مین اسپرٹ اختیار کرنی چاہئے۔ہمارا اخبار عوام کا ترجمان بنے۔ہم اپنے نظریات اور خیالات کو عوام پر مسلط نہ کریں۔ہمارا کسی سے لاکھ اختلاف سہی مگر اس کی سرگرمیوں کی خبر کو ہمارے اخبارات کے صفحات پر جگہ ملتی ہے تو ہمارا مخالف بھی ہماری کشادہ دلی اور اعلیٰ ظرفی کا علی الاعلان نہ سہی،دل میں تو اعتراف کرنے کے لئے مجبور ہوگا۔

سینئر صحافی جناب سہیل انجم ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے۔

ویمنس کالج میں نظام کی یوم پیدائش کے موقع پر منعقد ہونے والے عالمی اردو سیمینار یا کانفرنس کو غیر اردو اخبارات نے زیادہ اہمیت دی۔بیشتر اردو داں طبقہ نے اس پروگرام سے خود کو اس لئے دور رکھا کہ اس میں آر ایس ایس لیڈر راشٹریہ مسلم منچ کے صدر مسٹر اندریش کمار مہمان خصوصی تھے۔

حالیہ عرصہ کے دوران آپ نے دیکھا ہوگا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے وائس چانسلر نجمہ اختر ہوں کہ مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے امیر جامعہ پروفیسر عین الحسن،انہوں نے اپنے عہدہ کا جائزہ لینے سے پہلے اندریش کمار کا آشیرواد لیا اور یہ تصاویر باقاعدہ اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔

مسلم راشٹریہ منچ آر ایس ایس اور مسلمانوں کے درمیان خلیج کو دور کرنے کی کوشش میں ہے۔نظام دکن کو جس طرح سے اندریش کمار نے خراج عقیدت پیش کیا وہ تعجب خیز ہے کیوں کہ سوائے ٹی آر ایس اور اس کے صدر و وزیراعلیٰ تلنگانہ کے سی آر کے ابھی تک ہرسیاسی جماعت نے نظام کی مخالفت کی،ان پر تنقید کی۔ان کے دورِ اقتدار کے دوران بغاوت کی مہم چلائی۔

مسٹر اندریش کمار نے حکومت ہند کو نظام دکن کی جانب سے دی جانے والی امداد (5 ٹن سونا)،ان کی مذہبی رواداری،ان کے ترقیاتی اقدامات کی ستائش کی۔یہ ایک خوشگوار تبدیلی ہے۔

اچھا ہی ہوا کہ تلگو اور انگریزی اخبارات نے مسٹر اندریش کمار کی تقریر کو نمایاں انداز میں شائع کیا۔اردو اخبارات میں سے اکثر نے اس خبر کو بلیک آؤٹ کیا۔ویسے اردو اخبارات نمایاں طور پر شائع کرتے بھی تو اس سے کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔

انگریزی اور تلگو اخبارات میں مسٹر اندریش کمار کے خیالات کی اشاعت سے کم از کم غیرمسلم نوجوان نسل اور فرقہ پرست ذہنیت کاحامل تعلیم یافتہ طبقہ پر کچھ نہ کچھ تو مثبت اثر ہوگا۔

مسٹراندریش کمار نے جو کچھ بھی کہا ہوگا یقیناً یہ ان کے اپنے ذاتی خیالات نہیں رہے ہوں گے۔یقیناً پارٹی کی اجازت کے بغیر تو انہوں نے ایسا نہیں کہا ہوگا!اس سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں آر ایس ایس اقلیتی طبقہ کو اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش کرے گی۔

یہ تبدیلی آرایس ایس کے ساتھ ساتھ بی جے پی میں بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔یو پی الیکشن میں یوگی کی قیادت میں بی جے پی کی کامیابی اور اقتدار پر واپسی کے بعد کابینہ میں دانش آزاد انصاری کو وزیر اقلیتی بہبود و اوقاف کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔اس سے پہلے محسن رضا نمائندگی کیا کرتے تھے۔بی جے پی کو محسن رضا اور وسیم رضوی سے تلخ تجربات ہوئے۔

بی جے پی اور آر ایس ایس قیادت کی خوشنودی غیر مسلم طبقہ میں اپنی منفرد پہچان بنانے کے چکر میں محسن اور وسیم نے جس طرح سے بیانات دیئے محسن تو خیر بچ گئے وسیم نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا!بلکہ اس نے ہندو دھرم میں پناہ لی تو اس کا ٹھکانہ جیل بنا۔یوپی حکومت کو ایک سنی مسلم وزیر کی شمولیت کا کیا اثر ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

حیدرآباد کے سینئر صحافی جناب سجادالحسنین ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے۔

بی جے پی کی مرکزی حکومت میں کبھی شاہنوازحسین ایک سنی وزیر تھے مگرانہیں بھی شیعہ ہی سمجھا جاتا تھا۔کیوں کہ شیعہ برادران کی ایک بڑی تعداد بی جے پی کی حمایتی ہے۔شاہنواز حسین کو حیدرآباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ وضاحت کرنی پڑتی تھی کہ وہ حضرت چراغ حسن دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خانوادہ سے تعلق رکھتے اور سنت الجماعت سے ان کا تعلق ہے۔شاہ نواز یوپی میں ایم ایل سی ہیں، ایک عرصہ سے اقتدار سے دور ہیں۔بلکہ بی جے پی کی لہر میں بھی وہ بھاگلپورسے ہارے ہیں یا ہرائے گئے ہیں۔جو بھی ہو، یوگی کا تجربہ کیسا ہوگا اور دانش انصاری کس حد تک یوپی کے مسلمانوں کی امیدوں کی کسوٹی پر کھرے اُترتے ہیں؟ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

آر ایس ایس لیڈر راشٹریہ مسلم منچ کے صدر اندریش کمار نے نظام دکن کے علاوہ اردو زبان کی بھی تعریف کی۔جس کے بعد یہ بحث عام لوگوں میں چھڑی ہوئی ہے کہ کیا مسلمانوں کو اُن جماعتوں اور قائدین سے بات چیت میں پہل کرنی چاہئے؟ کیا اردو تہذیب اور مسلم ثقافتی تقاریب میں انہیں مدعو کیا جانا چاہئے۔کیا ان قائدکے الفاظ اور خیالات کا اعتبار کیا جاسکتا ہے؟اس کا فیصلہ کون کرے گا؟

بعض مسلم قائدین نے بہت پہلے اپنی رائے دی تھی کہ مسلم دشمن جماعتوں اور ان کے قائدین سے بات چیت کرنی چاہئے۔جس پر کڑی تنقید ہوئی۔یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب تک ہم بات چیت نہ کی جائے،اپنے خیالات کا تبادلہ نہ کیا جائے تو نفرت،دشمنی ختم کیسے ہوگی؟