کرناٹک!جہاں ہورہا ہے روز ایک”نیا ناٹک”!
اب حلال گوشت کے خلاف مہم میں شدت
چیف منسٹر نے کہا سنگین اعتراضات پر حکومت غور کرے گی!
کیا بی جے پی کرناٹک کے راستے جنوبی ہند میں داخل ہونا چاہتی ہے!!
بنگلورو: 31۔مارچ (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ریاست کرناٹک جو کہ ہمیشہ امن کا گہوارہ رہا ہے اور عصری ٹیکنالوجی کے معاملہ میں ریاست کے دارالحکومت بنگلورو کو ملک کی”سلیکون ویلی” Silicon Valley کہاجاتاہے۔جہاں دنیا بھر کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر موجود ہیں اور ملک بھر میں بنگلور کو آئی ٹی کمپنیوں کا ہب مانا جاتا ہے۔جبکہ بنگلورو پہلے ہی سے”باغوں کا شہر” City Of Gardens "کے نام سے بھی شہرت رکھتا ہے۔
حجاب تنازعہ کے دؤران کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ سے قبل چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے باقاعدہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ "بنگلورو ملک بھر میں سلیکون ویلی کی حیثیت رکھتا ہے اگر وہاں اس طرح مذہبی جنونیت کو ہوا دی گئی تو کون سرمایہ کاری کرے گا؟”
دیکھا جارہا ہے گزشتہ چند ماہ سے اس خوبصورت اور پُرامن ریاست جہاں اب تک فرقہ وارانہ فسادات کا فیصد ملک کی دیگر ریاستوں کی بہ نسبت انتہائی کم ہے کو پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی ہے کہ وہاں مذہبی منافرت اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بوئے گئے نفرت کے بیج خاردار پودوں میں اور اب یہی خار دار پودے تناور درخت بنتے جارہے ہیں!!۔
گزشتہ سال ڈسمبر میں کرناٹک کے چکمگلور ضلع کے چرچس پر حملے کیے گئے تھے۔
ریاست کرناٹک جہاں ان دنوں مذہبی جنونیت عروج پر ایسے میں ٹوئٹر پر آج پرتاپ Prathap@ کی جانب سے یہ ایک خوبصورت تصویر شیئر کی گئی ہے۔جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اسلام، عیسائی اور ہندو مذہب کے پیشواہان کسی تقریب میں محو گفتگو ہیں۔اس فوٹو کے ساتھ لکھا ہوا ہے”یہ ہے میرا کرناٹک"۔
افسوس تو یہ ہے کہ وہاں کی حکومت چند فرقہ پرست طاقتوں کے ہر اعتراض پرلبیک کہنے میں مصروف نظر آتی ہے!اسی کرناٹک کے اڑپی،منگلور،چکمگلور اور دیگر جنوبی اضلاع میں مسلم لڑکیوں کی جانب سے تعلیمی اداروں میں حجاب پہن کر آنے پر ایک منظم مہم چلائی گئی اور اس ناپاک مہم سے ساری دنیا واقف ہوگئی۔جس کے فوری بعد حکومت کرناٹک نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی عائد کردی جس پر کرناٹک ہائی کورٹ نے بھی تصدیق کی مہر ثبت کردی۔جس کے بعدمسلم طالبات اور ٹیچرس کو بے حجاب کرکے یہ ٹولہ خوش ہوا۔
پھر اس کے بعد کرناٹک کے کئی مندروں کے انتظامیہ نے بجرنگ دل،وشواہندو پریشد اور شری رام سینا کی جانب سے اعتراض کے بعد تہواروں کے موقع پر پابندی عائد کردی کہ مسلم دکاندار ان تہواروں کے موقع پر مندروں کے قریب اپنی دکانات نہیں لگاسکتے۔جو کہ پھل،پھول،ناریل اور کھلونے فروخت کیا کرتے تھے۔جس پر کرناٹک کے سینئر سیاسی رہنما اور بی جے پی کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر اے ایچ وشواناتھ کو کہنا پڑا تھا کہ یہ مذہبی پاگل پن ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس معاملہ حکومت کرناٹک خاموش کیوں ہے؟
بی جے پی قانون ساز کونسل کے رکن اے ایچ وشواناتھ نے سوال کیا کہ وہ مسلمان جو مندروں کے پاس پھول،پھل اور پوجا کا سامان بیچتے ہیں اپنی روزی روٹی کیسے کمائیں گے؟”یہ اچھوت کے مترادف ہے”۔انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہاں تک پوچھا کہ”اگرمسلم اکثریتی ممالک بھی وہاں موجود ہندوؤں کے ساتھ یہاں مسلمانوں کے ساتھ کیے جارہے جیسا سلوک کرنے لگیں تو حکومت کیا کرے گی؟انہوں نے کہا کہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے مذہب کوکبھی استعمال نہیں کرنا چاہیے،یہ خطرناک عمل ہے۔”مذہبی سیاست کا استعمال کرتے ہوئے کوئی کب تک زندہ رہ سکتا ہے؟
کرناٹک میں پھر یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ تدریسی نصاب سے ٹیپوسلطان پرمشتمل مواد ہٹادیا جائے۔
اب اسی کرناٹک میں ایک نئی مہم حلال گوشت کے خلاف شروع کی گئی ہے۔اور باقاعدہ اس کے خلاف گھر گھر گاؤں،گاؤں اور دُکانات پر گھوم کر زعفرانی ٹولیاں پرچے تقسیم کررہی ہیں کہ وہاں کے برادران وطن حلال گوشت کا مکمل طور پر بائیکاٹ کردیں۔اس کا مقصد بھی واضح ہے کہ مٹن اور چکن بیچنے مسلم طبقہ کو بے روزگار بنایا جائے اور صرف ہندو دکانداروں سے ہی چکن اور مٹن خریدا جائے!!
اس طرح کرناٹک جیسی ریاست میں مذہبی منافرت کو ہوا دیتے ہوئے روز ایک "نیا ناٹک”کھیلاجارہا ہے۔حلال گوشت کے خلاف شروع کی گئی مہم پر چیف منسٹر کرناٹک مسٹر بسواراج سومپا بومئی (بی ایس بومئی) جن کی شبیہ انتہائی بہتر مانی جاتی ہے کہ وہ فرقہ پرست ذہنیت کے حامل نہیں ہیں اور ماضی میں ان کا تعلق کانگریس پارٹی سے رہا ہے۔جو کہ سابق چیف منسٹر کرناٹک ایس آر بومئی کے فرزند ہیں نے کہا ہے کہ”حلال گوشت کے سنگین اعتراضات پر حکومت غور کرے گی”!!
ان سارے معاملات میں سابق چیف منسٹر کرناٹک مسٹر بی ایس ایڈی یورپا کی سراہنا کی جاسکتی جنہیں کنڑا میڈیا نے”راجہ ہولی” (کنگ ٹائیگر) کا لقب دیا ہے نے بحیثیت چیف منسٹر اپنی دو معیادوں کے دؤران کرناٹک میں فرقہ پرستی اور مذہبی جنونیت کو پنپنے نہیں دیاتھا۔جنہوں نے پارٹی کی ہدایت کے بعد 27 جولائی 2021 کو عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا!!۔
بی جے پی پر یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ جنوبی ہندوستان میں داخل ہونے کے لیے کرناٹک کو”باب الداخلہ”کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے کیونکہ اس کی سرحدیں تمل ناڈو، تلنگانہ اور آندھراپردیش سے بھی ملتی ہیں!!۔
رہی بات حلال یا حرام گوشت کھانے کی تو یہ عوام کی اپنی پسند اور ناپسند ہے۔جس پر کسی کو زبردستی مجبور کرنا یا حجاب کی طرح پابندی کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہی کہا جاسکتا ہے!۔
آج جو نئی نسل حلال گوشت کے خلاف مہم چلانے میں مصروف ہے وہ نہیں جانتی کہ جس وقت پولٹری چکن کا رواج نہیں تھا ان کے بڑوں نے اس وقت مسلمانوں کو تلاش کر کر کے اپنے گھروں میں دعوتوں کے مواقعوں پر اور پکوان کے لیے بکرے اور مرغیاں ذبح کروائی تھیں۔
یہی وہ ناسمجھ اور جذباتی نوجوان ہیں جن پر کبھی مساجد کے باہر ہر نماز کے بعد اماموں،موذنوں اورمصلیوں نے "دم” کر کر کے پھونک ماری تھی۔جب ان کے والدین انہیں اپنی گودوں میں اٹھائے مساجد کے باہر کھڑے ہوکر کہتے تھے کہ”دعا پھونک دیں بچہ روتا بہت ہے،ضدی ہوگیا ہے،غذا نہیں کھارہا ہے یا پھر اسے نظر لگ گئی ہے!”
کوئی تو آخر انہیں سمجھائے کہ نفرت نے ہر دؤر میں اس دنیا کو صرف تباہی ہی دی ہے۔امن و سکون تو صرف ایک دوسرے کے مذہبی،انسانی جذبات کی قدر کرنے،آپس میں محبت تقسیم کرنے اور ایک دوسرے کی مدد کے ذریعہ ہی حاصل ہوتا ہے۔بقول شبینہ ادیب
یہ کیسی تصویر بنادی تم نے ہندوستان کی؟
اسی دؤران سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی)نے کل یکم اپریل کومسلم دکانداروں کو منادر کے قریب دکانات نہ لگانے کی ہدایت پر ریاست کرناٹک میں احتجاج منظم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

