اللہ کے بعد مقام اور مرتبہ میں نبی اکرمﷺ کو ساری کائنات میں سب سے بڑا درجہ حاصل ہے
دنیا کے تمام تعلیمی ادارے ڈگریاں دے سکتے ہیں تربیت نہیں،والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں
تانڈورمیں جمعیت اہلحدیث کے جلسہ اصلاح معاشرہ سےمولانا جرجس انصاری اور مولانا حسین مدنی کا خطاب
حیدرآباد/تانڈور:30۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
مولانا جرجس انصاری نے کہا کہ اللہ کے بعد مقام اور مرتبہ میں نبی اکرمﷺکو ساری کائنات میں سب سے بڑا درجہ حاصل ہے اور یہ مقام کسی کو حاصل نہ تھا اور حاصل ہوبھی نہیں ہوسکتا وہ گزشتہ رات جمعیت اہلحدیث تانڈور کے زیر اہتمام نیشنل گارڈن، حیدرآباد روڈ، تانڈورضلع وقارآباد میں ایک جلسہ عام بعنوان ” اصلاح معاشرہ ” سے خطاب کررہے تھے۔
مہمان مقرر مولانا جرجس انصاری نے اس جلسہ سے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن کریم کے نزول کے بعد اللہ سبحانہ تعالیٰ نے مکہ کو ام القرا بنادیا، نبی اکرمﷺ تمام پیغمبروں کے سردار بنائے گئے، جبرئیل ؑ کو تمام فرشتوں کا سردار،قرآن کی برکت سے ماہ رمضان کو تمام مہینوں کا سردار اور جس رات میں قرآن کریم نازل ہوا اس رات کو لیلتہ القدربنادیا۔

معاشرہ میں بالخصوص خواتین میں سوشل میڈیا کی بڑھتی خرافات پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے مولانا جرجس انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ نبی اکرمﷺکی تعلیمات سے دوری کا یہ نتیجہ ہے۔انہوں نے معاشرہ کی لڑکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ والدین کو پورا حق حاصل ہوتاہے کہ وہ اپنے بچوں سے ان کے معمولات پر سوال اور حساب پوچھیں۔
مولانا جرجس انصاری نے سوشل میڈیا کی خرافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بشمول جنوبی ہند ملک کی مختلف ریاستوں میں سوشل میڈیا کی خرافات پھیل رہی ہیں۔
مولانا نے کہا کہ باپ کبھی اپنے بچوں کا برا نہیں سوچتے،ماں کا پہلا فرض ہوتا ہے کہ وہ بالخصوص اپنی بچیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں
مولانا جرجس انصاری نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسکولوں، کالجس اور یونیورسٹیوں میں بچوں کو تعلیم دلا کر انہیں وکیل، ڈاکٹر یا کوئی اور ڈگری دلوائی جاسکتی ہے لیکن ماں جیسی تربیت کسی بھی اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں نہیں ملے گی۔
مولانا نے کہا کہ ماں اور باپ اپنے بچوں کی زندگیوں میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں انہوں نے والدین سے استفسار کیا کہ انہوں نے کبھی اپنے بچوں کی تربیت اور سرگرمیوں پر نظر رکھی ہے؟ اور ایسے والدین علماء کرام سے کہتے ہیں کہ ماں باپ کی فضیلت پرخصوصی بیان کریں۔مولانا نے کہا کہ بچوں پر بھی والدین کے حقوق ہوتے ہیں۔
اپنے خطاب میں تاسف کا اظہار کرتے ہوئے مولانا جرجس انصاری نے استفسار کیا کہ کہاں گئیں یہ وفاداری کی قسمیں؟ نوجوانوں کی سرگرمیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا جرجس انصاری نے کہا کہ ہمارے نوجوان رات رات بھر جاگ کر کرکٹ اور کیرم بورڈ کھیلتے ہیں اور خرافات میں اپنا وقت ضائع کردیتے ہیں جبکہ کسی بھی انسان کے لیے نیند ضروری ہوتی ہے۔مولانا جرجس انصاری نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ عبادتوں کی جانب راغب ہوں۔
اس جلسہ اصلاح معاشرہ سے مولانا حسین مدنی،ناظم اعلیٰ جمعیت اہلحدیث تلنگانہ نے” خواتین میں شرکیہ و بدعیہ عقائد اور اس کا علاج” کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مبلغ اور مصلح کا کردار ادا کرنا ضروری ہے اور ہم اپنی موجودہ روِش کو تبدیل نہیں کریں گے تو پتہ نہیں حالات کونسا رخ اختیار کریں گے۔!

مولانا نے کہا کہ خواتین کے شرکیہ اور بدعیہ عقائد کو دور کرنا ضروری ہے اور اس کا ازالہ خواتین کی اداکرسکتی ہیں۔مسلمانوں کے لیے عقیدہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے جو اسلام سے جوڑکر رکھتا ہے۔
مولانا آصف عمری،امیرجمعیت اہلحدیث تلنگانہ نے جمعیت اہلحدیث تانڈور کے زیراہتمام منعقدہ اس جلسہ اصلاح معاشرہ سے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کی ملی، دینی اور اخلاقی ذمہ داری اصلاح معاشرہ ہے،عمومی طور پر سارےمسلمان اپنا گھر،اپنا سماج، اپنا معاشرہ اور اپنا ملک ان سب کی اصلاح کرنا مسلمانوں کا فریضہ ہے۔کیوں کہ رب العالمین نے ہمیں خیرالامت کہا ہے۔
مولانا آصف عمری نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم خیر کا کام کریں کیوں کہ اللہ تعالی زمین پر فتنہ اور فساد کو پسند نہیں کرتے اور اصلاح کرنا آج کے دور کی اہم ضرورت ہے اور اس کے لیے قرآن پاک کا حکم اور نبی اکرمﷺ کا اسوہء حسنہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرہ اور سماج کی اصلاح سے پہلے خود کی اصلاح ضروری ہے۔
صدرجمعیت اہلحدیث تانڈور مولانا عثمان غنی نے خطبہ استقبالیہ دیا۔جبکہ مولانا نذیر احمد جامعی امیرجمعیت اہلحدیث ضلع وقارآباد نے اس جلسہ کی نظامت کے فرائض انجام دئیے۔

اس جلسہ اصلاح معاشرہ میں نائب امراءجمعیت اہلحدیث تلنگانہ محمد الیاس،محمد لیا قت علی،نائب ناظم عبدالقدیر،خازن جمعیت اہلحدیث تلنگانہ فیروز خان،مولانا عبدالرحیم جامعی رائچور،مولانا عارف جامعی کے علاوہ مقامی ذمہ داران مولانا خلیل الرحمن محمدی،عبداللہ مجاہدی،
عبدالستار مجاہدی(گولکنڈہ)،حسن الدین صدیقی،عبدالرحمن مجاہدی،مولانا محمدشکیل عمری،عبدالغفار مجاہدی اور دیگر موجود تھے۔
مولانا عبدالرشید جامعی نائب ناظم جمعیت اہلحدیث تلنگانہ نے اختتامی کلمات کے ذریعہ اس جلسہ کے مقررین اور تانڈور کے علاوہ مختلف مقامات سے شرکت کرنے والے حاضرین کی کثیر تعداد کا شکریہ ادا کیا۔اس جلسہ میں خواتین کی بھی کثیر تعداد نے شرکت کی جن کے لیے پردہ کا علحدہ نظم کیا گیا تھا۔

