ملک کو بچانے کے لیے بی جے پی مُکت بھارت ضروری، گجرات ماڈل کے نام پر دھوکہ، چپل اٹھانے والوں اور مذہبی جنونیوں سے ہوشیار : وزیراعلیٰ تلنگانہ کے سی آر

ملک کو بچانے کے لیے بی جے پی مکت بھارت ضروری
گجرات ماڈل کے نام پر دھوکہ، چپل اٹھانے والوں اور مذہبی جنونیوں سے ہوشیار
پیدا پلی میں وزیراعلیٰ تلنگانہ چندراشیکھرراو کا خطاب،وزیراعظم پر تنقید 

حیدرآباد/پیداپلی:29۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام)

وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہاہےکہ گجرات ماڈل کےنام پر پورے ملک کودھوکہ دینے والی بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرتے ہوئے بی جے پی مکت بھارت بنانا ملک کے مفاد میں ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی قیادت میں ملک کو تما م محاذوں پرکمزور کردیا گیا ہے ملک اور عوام کے بہترمستقبل اور بہتر زندگی کے لیے بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنا ضروری ہے۔

آج ریاست کے پیداپلی ضلع مستقر میں دفتر کلکٹریٹ کی جدید عمارت کے افتتاح کے بعد جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ تلنگانہ کے ۔ چندراشیکھرراؤ نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 2024ءکےانتخابات میں بی جے پی کوشکست دینا لازمی ہوگیا ہے اور اس کے لیے سب کو تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ تلنگانہ نے اپنےخطاب میں کہا کہ مختلف ہتھکنڈوں اور دھوکہ دہی کے ذریعہ مہنگائی سے پریشان عوام کومزید پریشان کیاجارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بالخصوص ملک کا غریب طبقہ مہنگائی سے پریشان ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی دور حکومت میں عوام کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے سی آر نے کہا کہ پکوان گیس،پٹرول اور ڈیزل کے ساتھ ساتھ تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں۔یہاں تک کے شمشان میں استعمال کی جانے والی اشیا،دودھ اور دیگر اشیا پر تک بی جے حکومت نے ٹیکس عائد کیا ہے۔اس طرح ہر شئے کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگئی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس طرح بی جے پی حکومت غریبوں کی بددعائیں لے رہی ہے۔

وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے اپنےخطاب میں الزام عائد کیا کہ دوسری جانب بی جے پی قیادت والی مرکزی حکومت این پی اے کے نام پرلاکھوں کروڑ روپئے کےخانگی کمپنیوں کے قرض معاف کررہی ہے۔انہوں نےالزام عائد کیاکہ یہ بھی ایک اسکام ہے۔انہوں نے ریمارک کیا کہ بی جے پی کا نام ہی بدعنوانی ہے۔

اس جلسہ سے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ مہاتما گاندھی کےجائے پیدائش گجرات میں شراب بندی کے نام پر شراب کا غیر قانونی کاروبار چلایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا حالیہ دنوں میں گجرات میں نقلی شراب پینے سے 79 امواتیں ہوئیں لیکن اس کی تحقیقات تک نہیں کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ جتنی اسکیمات پر ریاست تلنگانہ میں عمل کیاجارہا ہے ان میں سےایک اسکیم بھی ریاست گجرات میں نہیں ہے۔انہوں نے تلنگانہ میں 24گھنٹے برقی سربراہی،آروگیہ شری اور آسراسکیم کے تحت ماہانہ وظیفہ سمیت مختلف اسکیمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صرف لوٹ کھسوٹ کے علاوہ گجرات میں کچھ بھی نہیں کیا جارہاہے۔

گزشتہ دنوں صدر تلنگانہ بی جے پی و رکن پارلیمان بنڈی سنجےکمار کی جانب سےمرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے جوتے اٹھائے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ گجرات سے آنےوالے چوروں کے جوتے اٹھانے والے ہمارے پاس چندلوگ موجود ہیں جن سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ کے سی آر نےعوام سے سوال کیاکہ کیا وہ 60 سال کی لڑائی اور جدوجہد کےبعد حاصل کی گئی ریاست تلنگانہ کی عزت نفس اور ریاست کو بی جے پی کے حوالے کریں گے؟

اس جلسہ عام سے خطاب کرتےہوئے وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہاکہ گزشتہ دنوں ملک کی 26 ریاستوں کے 100کسان قائدین نے تلنگانہ کا دورہ کرتے ہوئے یہاں کسانوں کو دی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا اور ان سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کی ہر طرح سے امداد صرف ریاست تلنگانہ میں کی جارہی ہے۔اور ان سے خواہش کی کہ وہ ملکی سیاست میں قدم رکھیں اور موجودہ حالات میں ملک کو ان کی شدید ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گجرات ماڈل کے نام پر وزیراعظم نریندرمودی ملک کےعوام کودھوکہ دے رہے ہیں اورشعبہ زراعت کوبربادکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں چاول سمیت دیگراجناس کی قلت پائی جاتی ہے۔لیکن مرکزی حکومت ہمارےکسانوں سے دھان خریدنے تیار نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ کےسی آر نے الزام عائد کیاکہ مودی حکومت ہرمعاملہ میں جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی کا خاتمہ ہوگا اور کسانوں کی حکومت قائم ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ ہر شعبہ میں اور عوامی ترقی میں کامیابی کی منازل طئے کرتی جارہی ہے لیکن چند مذہبی جنونی طاقتیں تلنگانہ کے عوام میں تفرقہ پیدا کرنے اور ان میں پھوٹ ڈال کر تلنگانہ کو لوٹنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں جس سے عوام کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ اس سے ریاست اور خود عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ کا 15 منٹ طویل جلسہ سے خطاب یہاں سنا جاسکتا ہے ⬇️ ”

https://www.facebook.com/KalvakuntlaChandrashekarRao/videos/806416170699766