بھوپال میں ایم بی اے کے طالب علم نے بناء دعوت شادی میں کھانا کھالیا، پکڑے جانے پر برتن دُھلوائے گئے : ویڈیو وائرل

بھوپال میں ایم بی اے کے طالب علم نے بناء دعوت شادی میں کھانا کھالیا
پکڑے جانے پرمنتظمین نے برتن دھلوائے : ویڈیو وائرل

بھوپال: 04۔ڈسمبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

اکثر دعوتوں میں چند کھانےکے شوقین یا پھر ہوٹلوں کے بِلس ادانہ کر پانے والے یا غیرمقامی افراد کا داخل ہوکر کھانا عام سی بات ہے۔تاہم یہ معیوب مانا جاتا ہے۔اور اس کی ممانعت بھی کی گئی ہے۔کیونکہ اس سےکبھی کبھار اصل دعوتیوں کو کھانا کم پڑجاتا ہے۔وہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ” جس کے مقدر کا کھانا جہاں ہوگا وہیں ملے گا۔”، ” دانے دانے پر لکھا ہے کھانے والے کا نام ” والا محاورہ بھی مشہور ہے۔

عامر خان کی مشہور فلم تھری ایڈیٹس 3Idiots# میں بھی ایک ایسا ہی منظر دکھایا گیاتھا جہاں عامر خان اور ان کے دو دوست اداکار شرمن جوشی اور آر مادھون اس فلم کے ایک سین میں اداکارہ کرینہ کپور کی بہن کی شادی میں بناء دعوت کے پہنچ جاتے ہیں۔اسی دؤران وہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد  کسی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہوتے ہوئے خود کومصیبت میں پھنسنے سے بچالیتے ہیں۔یہ تو تھا ایک فلم کا تذکرہ لیکن

مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں ایک ایم بی اے کا طالب علم اتنا خوش قسمت ثابت نہیں ہوپایا جو بناءدعوت نامہ کے ایک تقریب میں پہنچ گیا اور کھانا کھاتے ہوئے پکڑا گیا۔جس کے بعد دعوت کےمنتظمین /میزبانوں نے اس طالب علم سے سزاء کے طور پر جھوٹے برتن دھلوائے اور ساتھ ہی یہ غیر انسانی حرکت بھی کی کہ اس واقعہ کا ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دیا جو کہ وائرل ہوتے ہوتے ٹوئٹر اور دیگر پلیٹ فارمز تک پہنچ گیا۔شکر ہے کہ وائرل شدہ ویڈیو میں اس ایم بی اے کے طالب علم کا چہرہ چھپایا گیا ہے۔

ٹوئٹر پر یکم ڈسمبر کو اس واقعہ کا ویڈیو صحافی اشونی سریواستوا نے ٹوئٹ کرتےہوئےلکھا ہے کہ”ایم بی اے کا ایک طالب علم شادی کی تقریب میں بنا بلائے کھانا کھانے پہنچ گیا، میزبانوں نے اس نوجوان سے برتن دھلوائے۔

اس ویڈیو میں سناجاسکتا ہے کہ میزبان اس طالب علم سےکہہ رہے ہیں کہ "دھو برتن دھو،کیوں آیا تھا تُو ادھر؟ ” تو طالب علم کہتا ہے کہ کھانا کھانے! پھر میزبان کہتا ہےکہ” کسی نے دعوت دی تھی تم کو۔؟؟” تو لڑکا اپنا سر نہ کہ انداز میں ہلاتا ہے۔میزبان پھر کہتا ہے کہ” یونہی آگئے تھے کھانے فری میں؟” معلوم ہے تو تمہیں فری میں کھانا کھانے کی سزاء کیا ہے؟” وہیں کوئی اور وہاں اس طالب علم سے کہہ رہا ہے کہ دھو زرا ، اچھا دھو ،

پھر بیچارہ ایم بی اے کے اس طالب علم کے سامنے برتن دھونے کے لیے ایک کپڑا بھی پانی کے ٹب میں پھینکا جاتا ہے۔
میزبان اس طالب علم سے پوچھتا ہے کہ ” گھر میں دھوتے ہو نہ؟” کیا کرتے ہو؟ "ارے کام کیا کرتے ہوے؟؟

لڑکا جواب دیتا ہے اسٹڈی کرتا ہوں،میزبان پھر پوچھتاہے کہ ” کاہے میں پڑھ رہے ہو؟ "تب یہ لڑکا بتاتا ہے کہ ایم بی اے میں پڑرہا ہے۔

اس لڑکے سے میزبان نے کالج کا نام بھی پوچھا تاہم صحافتی قواعد و اقدار کے تحت اس ویڈیو میں اس لڑکے کی شناخت چھپانے کی غرض سے کالج کے نام کو چھپادیا گیا۔ جو کہ ضروری اور لازمی تھا۔مقام کے متعلق پوچھے جانے پر لڑکا بتاتا ہے کہ وہ جبلپور کا ہے۔

اس دعوت کے میزبانوں کی سخت دلی ،کوتاہ ذہنی اور غیرانسانی حرکت کا پتہ اس وقت بھی چلتاہےجب وہ اس طالب علم سے پوچھتا ہےکہ” کیسالگ رہا ہےبرتن دھوتے ہوئے؟؟ ” پھر کہتا ہے کہ ” فری میں کھانا کھایا ہے تو کچھ تو کرنا پڑے گا!! "

اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تہلکہ مچادیا ہے۔زیادہ ترسوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ دعوت کے منتظمین کا یہ اقدام غیر انسانی ہے کہ بناء دعوت کے کھانا کھانے پر اس طرح ایک ایم بی اے کے طالب علم سے سب کے سامنے برتن دھلواتے ہوئے اس کی بےعزتی کی گئی اور اس پر اس شرمناک واقعہ کا ویڈیو بھی لیا گیا۔جو کہ انتہائی غلط اور قابل مذمت حرکت ہے۔

ٹوئٹر پر تو اس طالب علم کی عزت بچانے اور اس کی شناخت ظاہر نہ کرنے کے لیے اس صحافی نے اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔تاہم محسوس ہوتا ہے کہ اس ویڈیو کو سوشل میڈیا کےمختلف پلیٹ فارمز پر بھی شناخت چھپائے بغیر وائرل کیا گیا ہوگا؟جو کہ اس طالب علم کی ہتک کے مماثل ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو پر اپنے کمنٹس میں لکھاہے کہ بعض اوقات ہمیں بھی بناءدعوت نامہ کے شادی کا گیٹ پھلانگنے کی خواہش ہوتی ہے،کیوں کہ کوئی بھی پسند کے ریستوراں میں شادی کے ماحول جیسے لطف سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔جبکہ دیگر نے اپنے کمنٹس میں لکھا ہے کہ اس طالب علم کا ایسا کرنا کسی بھی حال ٹھیک کام نہیں تھا۔اطلاعات کے مطابق اس معاملہ کی کسی نے بھی پولیس سے شکایت نہیں کی ہے۔