ٹماٹر کی آسمان چھوتی قیمتوں پر بے بس و لاچار اور روتے ہوئے دہلی کے سبزی فروش کا وائرل شدہ جذباتی ویڈیو موضوع بحث

ہنستی آنکھوں میں جھانک کر دیکھو
کوئی آنسو کہیں چھپا ہوگا

ٹماٹر کی آسمان چھوتی قیمتوں پر بے بس و لاچار اور روتے ہوئے
دہلی کے سبزی فروش کا وائرل شدہ جذباتی ویڈیو موضوع بحث

حیدرآباد : 31۔جولائی
(سحر نیوز / سوشل میڈیا ڈیسک)

ملک میں مذہبی منافرت کے ساتھ ساتھ مہنگائی، بیروزگاری اور آمدنی میں کمی اپنے عروج پر ہے۔عام طور پر دو تا پانچ روپئے کلو فروخت ہونے والا ٹماٹڑ جو کہ ہر ہانڈی کے لیے اہم مانا جاتا ہے اب غریب طبقہ تو دور متوسط طبقہ کی پہنچ سے بھی دور ہوتا جارہا ہے۔دو دن سے ملک کے مختلف شہروں میں ٹماٹر 200 روپئے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔جاریہ ماہ جولائی ٹماٹر کی مہنگائی میں ہی گذرگیا۔ٹماٹر کی قیمتوں میں اس حیران کن اضافہ کی روک تھام پر نہ مرکزی حکومت دھیان دینے تیار نظر آتی ہے اور ریاستی حکومتیں کسی اقدام سے قاصر نظر آتی ہیں۔!!

چیف منسٹر آسام نے کہا کہ اس کے لیے میاں مسلم ذمہ دار ہیں،جبکہ اتر پردیش کی ایک خاتون وزیر محترمہ نے عوام کو مشورہ دیا کہ ٹماٹر کھانا چھوڑ دیں اور خود ہی گھروں میں اس کی کاشت کرلیں۔جس میڈیا کا کام عوام کی مشکلات کو حکومتوں تک پہنچانا ہوتا ہے اس کے نمائندے ٹوئٹ کر رہے ہیں کہ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، ہر سال بارش کے موسم میں ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ عام بات ہے۔جبکہ باقاعدہ ٹماٹر کھانے کے نقصانات پر مشتمل پروگرام اور مضامین پر گھنٹوں صرف کر دئیے جا رہے ہیں۔!!

ٹماٹر کی قیمت میں حالیہ ہفتوں میں 440 فیصد سے زیادہ اضافہ نےدکانداروں اورصارفین کو پہلے ہی سے درپیش کئی مسائل میں اضافہ کردیا ہے۔

مہنگائی،بیروزگاری اور ذریعہ آمدنی میں کمی نےکئی گھروں میں دسترخوانوں اور ڈائننگ ٹیبل کےسائز کو چھوٹا کرکے رکھ دیاہے۔پکوان گیس سے لے کر ٹماٹر تک اور زیرہ سے لےکر خوردنی تیل تک کی قیمتوں سےعام آدمی پریشان ہے۔ایسے میں وزیراعظم نریندرمودی نےکل اپنے خطاب میں یہ کہہ کرعوام کی ہمت بندھائی کہ اگر آج پرانی حکومتیں ہوتیں تو دالوں کی قیمت فی کلو 500روپئے اور دودھ فی لیتر 300 روپئےفروخت ہورہاہوتا۔

اسی دؤران مشہور میڈیا ادارہ للن ٹاپ Lallantop# کا ایک ویڈیو اور اس کے چھوٹے چھوٹے کلپ گذشتہ دو، تین دن سے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز  پر سونامی کی طرح وائرل ہوئے ہیں۔ جسے دیکھ کرسخت سےسخت دل انسان کی آنکھیں بھی نم ہوجائیں۔واقعی اس ویڈیو نے انسانیت کا درد رکھنے والے ہر انسان کی آنکھوں کو نم کر کے رکھ دیا ہے۔زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ آج ہر دوسرے انسان کا یہی درد ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب اور ذات ،پات سے ہو۔!!

ملک کی منڈیوں اور بازاروں میں ٹماٹر کی بڑھتی قیمت کےدوران یہ وائرل شدہ ویڈیو دہلی کے آزاد پور بازار میں ایک ٹھیلہ راں سبزی فروش کی بے بسی،لاچاری،محرومی اور غربت کی منہ بولتی تصویر ہے۔جو کہ ٹھوک مارکیٹ میں ٹماٹر کی بے تحاشہ قیمتوں کے باعث خرید کر انہیں بازار میں فروخت کرنے سے یکسر قاصرہے۔ٹھیلہ بنڈی پر فروخت کے لیے ٹماٹر نہ خریدنے کے سوال پر سبزی فروش اس رپورٹر بھانو کمار جھا کو بتاتا ہے کہ”ہمیں یہ بھی یقین نہیں ہےکہ ہم اسے کس قیمت پر بیچ سکیں گےبھی یا نہیں۔اگر وہ بارش میں نرم پڑجاتےہیں توہم کو نقصان ہوگا۔”

" مکمل ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "

https://www.facebook.com/khanyahiya276/videos/1397283857489121

اس سبزی فروش کے اس ایک ویڈیو سےمحسوس کیا جاسکتا ہے کہ سبزیوں اور دیگر اشیاء کی مہنگائی نے عام لوگوں کو کس قدر متاثر کیا ہے۔

دل دہلا دینے والے اس ویڈیو کلپ میں جو کہ للن ٹاپ کے رپورٹر بھانو کمارجھا کی جانب سے اچانک لیا گیا ہے۔اس سبزی فروش کو پہلے ہلکی مسکراہٹ کےساتھ بات کرتےہوئے پھر اپنے رندھے ہوئےگلے کےساتھ اپنا چہرہ ایک طرف پھیرنے کے بعد چند لمحوں کی روح کو فرسا دینے والی خاموشی اور اس کا پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئےرومال سے اپنی آنکھوں کو صاف کرنےوالے اس نظارے نے دیکھنے والوں کی آنکھوں کو بھی نم کرکے رکھ دیا ہے۔

رامیشور نامی یہ سبزی فروش رپورٹر سے بات کرتےہوئے کہتاہے کہ” ٹماٹر بہت مہنگے ہیں،میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اسے خرید سکوں۔جونہی میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کا جملہ رامیشور کی زبان سے ادا ہوتاہےفوری خود اس کی آنکھوں میں آنسوؤں چھلک جاتے ہیں۔پھر اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔جس پر رپورٹر اس کی ڈھارس باندھتا ہے۔پھر رامیشور کہتا ہے کہ ” دیگر سبزیوں کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔ہر چیز مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔”

رامیشور اس رپورٹر کےسوال پر بتاتا ہے کہ وہ جہانگیر پوری میں کرایہ کے مکان میں رہتا ہے۔جب رپورٹر اس سے پوچھتا ہے کہ مکان کا کرایہ کتنا ہے تو وہ بتاتا ہے کہ 4 ہزار روپئے۔پھر رپورٹر پوچھتا ہےکہ روز کتنا کمالیتے ہو؟ رندھے ہوئے گلے سے اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے رامیشور بتاتا ہے کہ روز 100 روپئے اور کبھی کچھ بھی نہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو نے ایک گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے۔بہت سے لوگوں کا کہناہےکہ "یہ موجودہ صورتحال کو ظاہر کرتا ہے جس کا عام لوگوں کو سامنا ہے۔”

اس ایک منٹ 36 سیکنڈ والے ویڈیو کے ایک حصہ کو ٹوئٹ کرتے ہوئے راہول گاندھی نے لکھا ہے کہ ” ملک کو دو طبقوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے! ایک طرف اقتدار کو تحفظ دینے والے طاقتور لوگ ہیں،جن کے اشاروں پر ملک کی پالیسیاں بن رہی ہیں۔ اور دوسری جانب ہے عام ہندوستانی،جس کی پہنچ سے سبزیوں جیسی بنیادی چیزیں بھی دور ہوتی جارہی ہیں۔ہمیں امیر اور غریب کےدرمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو پُر کرنا اور ان آنسوؤں کو پونچھنا ہوگا۔”

جنرل سیکریٹری کانگریس پرینکا گاندھی واڈرا نےبھی اس سبزی فروش کا ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئےلکھا ہےکہ”حکمران جماعت کے ارکان پارلیمنٹ میں بغیر کسی ایشو کے شور مچا رہے ہیں۔وزیراعظم نئے سبز باغ دکھا رہے ہیں۔میڈیا چینلز عوام کے مسائل سے کوسوں دور حکومت کے بھونپو بنے ہوئے ہیں۔ان سب میں مہنگائی اور گھٹتی آمدنی سےلڑتے ہوئے عام لوگوں کے دکھ درد اورسسکیوں کی کسی کو پرواہ نہیں۔ہماری سیاست عام لوگوں کے اس دکھ کو بانٹنے کی کوشش ہے۔اس تکلیف کی پراہ کروانے اور اسے دور کروانے کی کوشش ہے۔”

نامور صحافی راج دیپ سر دیسائی نے اتوار کو اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ” تمام ہفتہ کے آخر میں میں نے اس آدمی کے بارے میں سوچا ہے، ہم اسے تلاش کرنےکی کوشش کررہے ہیں اور امیدہے کہ اس کی مدد کریں گے۔’’ دو ‘‘ ہندوستان ہیں،ایک تیز رفتاری پر، دوسرا پیچھے رہ گیا ۔ امید ہے کہ ایک دن ہم اس فرق کو تھوڑا سا پر کر سکتے ہیں اور ایک زیادہ مساوی معاشرہ بنا سکتے ہیں۔”

اس ویڈیو کو دیکھنے کےبعد ہمارابھی فرض بنتا ہےکہ اپنے اطراف موجود ان چہروں کی شناخت کرتے ہوئے ان کی مناسب مدد کریں۔تاکہ ایسے لوگ اپنے چھوٹےچھوٹے کاروبار کرکے اپنا اور اپنے افراد خاندان کی باعزت طریقہ سے کفالت کرسکیں۔ایسے زیادہ تر لوگ کسی کےسامنے ہاتھ بھی نہیں پھیلاتے، مگر ان کے چہروں پر مسکراہٹ ضرور ہوتی ہے۔بقول جاوید اختر ؎

ہنستی آنکھوں میں جھانک کر دیکھو
کوئی آنسو کہیں چھپا ہوگا

" یہ بھی پڑھیں "

شدید بارش کے دوران انسانوں کے ساتھ ہرنوں نے بھی پناہ لی، دلنشین وائرل ویڈیو کو 34 لاکھ سے زائد ٹوئٹر صارفین نے دیکھا

 

حیدرآباد ایئر پورٹ پر چنئی سے آنے والے مسافر کے قبضہ سے 81 لاکھ روپئے مالیتی ایک کلو سے زائد سونا ضبط