آئندہ انتخابات میں حلقہ اسمبلی تانڈور سے میں ہی مقابلہ کروں گا
پارٹی مجھے ہی ٹکٹ دے گی،صدرنشین بلدیہ اپنی پانچ سالہ معیاد مکمل کریں گی
ارکان بلدیہ کی تائید حاصل،تحریک عدم اعتماد سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں
پریس کانفرنس میں ایم ایل سی مہندر ریڈی کےسنسنی خیز اعلانات
وقارآباد/تانڈور25۔فروری
( نمائندہ سحرنیوزڈاٹ کام)
رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی نے آج بالآخر سنسنی خیز اعلان کردیا کہ وہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں حلقہ اسمبلی تانڈور سے ہی مقابلہ کریں گے۔ساتھ ہی انہوں نے اس احساس کا اظہاربھی کیا کہ انہیں یقین ہے کہ ٹی آر ایس پارٹی انہیں ہی ٹکٹ دے گی۔
یہاں اپنی رہائش گاہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی نے کہا کہ حلقہ اسمبلی تانڈور سے ان کا مقابلہ کرنا تقریباً طئے ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ارکان اسمبلی کو ٹکٹ دینا یا نہ دینا اس کا فیصلہ پارٹی ہائی کمان کرے گی۔کیونکہ اس سے قبل پارٹی نے وقارآباد اور میڑچل اسمبلی حلقہ جات سے موجودہ ارکان اسمبلی کو ٹکٹ نہیں دئیے تھے۔اور انہیں مکمل یقین ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی ٹکٹ انہیں ہی حاصل ہوگا۔
رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ چند مفاد پرست افراد ہی رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کے پیچھے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ سب ان کے ربط ہیں اور انہیں جب وہ طلب کریں گے ان کے پاس آجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ انہیں حلقہ کے عوام کی تائید و حمایت بھی حاصل ہے۔
ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی نے مضحکہ خیز انداز میں کہا کہ رکن اسمبلی تانڈور کے پیچھے صرف کانگریسی کار والے ہی ہیں! ریاستی کابینہ میں ردو بدل اور ان کے وزارت حاصل کرنے کے سوال پر رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہندرریڈ ی نے کہا کہ یہ معاملہ پارٹی ہائی کمان کے ہاتھ میں ہے اور وہ سب وزیراعلیٰ کے سی آر کے فیصلہ اور ہدایت کے پابند رہیں گے۔
رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہندرریڈ ی نے صدرنشین بلدیہ کے عہدہ کی منتقلی کے سوال پر کہا کہ موجودہ صدر نشین بلدیہ تانڈور تاٹی کونڈا سواپنا پریمل اپنی پانچ سالہ معیاد مکمل کریں گی۔انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ارکان بلدیہ کی تائید انہیں حاصل ہے اور ان کے عہدہ کو کوئی دھوکہ نہیں ہے۔
رکن قانون ساز کونسل ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی نے دوٹوک لہجہ میں کہا کہ اگر صدرنشین بلدیہ تانڈور کے خلاف کسی کو تحریک عدم اعتماد پیش کرنا بھی ہو تو چار سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے اگر اس وقت بھی کوئی تحریک عدم اعتماد پیش کرتے ہیں تو ان کی ہی کامیابی یقینی ہے۔
یہاں یہ تذکرہ لازمی ہے کہ ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی چار مرتبہ حلقہ اسمبلی تانڈور سے منتخب ہوچکے ہیں 2014ء میں ٹی آر ایس پارٹی کے ٹکٹ پر ان کے کامیاب ہونے کے بعد انہیں وزیراعلیٰ کے سی آر کی کابینہ میں وزیر ٹرانسپورٹ کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی۔تاہم 2018ء میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی کو اس وقت کے کانگریسی امیدوار پائلٹ روہت ریڈی کے ہاتھوں 3,500 ووٹوں کی اکثریت سے شکست ہوئی تھی۔
بعدازاں موجودہ رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی کے ساتھ ٹی آرایس میں شامل ہوگئے تھے۔اس کے بعد ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی کو پارٹی نے رکن قانون ساز کونسل بنایا تھا۔پھر دوسری معیاد کے لیے بھی گزشتہ سال کے اواخر میں قانون ساز کونسل کے لیے وہی امیدوار تھے اور بلا مقابلہ منتخب ہوگئے تھے۔
جبکہ جنوری 2020 میں ہونے والے بلدی انتخابات کے بعدرکن قانون ساز کونسل ڈاکٹر مہندر ریڈی اور رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی کے گروپس کے درمیان بلدیہ تانڈور کی صدارت کے لیے ڈھائی،ڈھائی سال کی معیاد کے لیے مفاہمت کی اس وقت اطلاعات عام ہوئی تھیں۔اس طرح موجودہ صدر نشین بلدیہ کی ڈھائی سالہ معیاد جون/جولائی میں ختم ہونے والی ہے اور صدرنشین بلدیہ کے عہدہ کی بقیہ ڈھائی سالہ معیاد کے لیے موجودہ نائب صدر نشین بلدیہ پٹلولا دیپا نرسملو آغاز ہی سے مقابلہ میں ہیں۔!!
ٹی آر ایس پارٹی ہائی کمان کے ساتھ ساتھ حلقہ اسمبلی تانڈور کے عوام بھی اس بات سے واقف ہیں کہ تانڈور میں ٹی آر ایس ان دونوں گروپس میں تقسیم ہے!!اور وقتاً فوقتاً ان کے اختلافات سامنے بھی آتے رہتے ہیں!

