حیدرآباد :شمس آباد کی مسجدخواجہ محمود کو شہید کیے جانے کے ذمہ دار کون؟ تلنگانہ کےمسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر، مسلمانوں کا شدید احتجاج

حیدرآباد:شمس آباد کی مسجد خواجہ محمود کو شہید کیے جانے کے ذمہ دار کون؟
تلنگانہ کے مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر،دفتر کلکٹریٹ و بلدیہ پر شدید احتجاج
مسجد کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ،مسلم قائدین کی جانب سے بھی شدید مذمت

حیدرآباد:03۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام)

بی جے پی اقتدار والی چند ریاستوں سے اکثر مساجد پر صرف پتھراؤ کی اطلاعات عام ہیں۔لیکن ایک سیکولر وزیراعلیٰ کی شبیہ رکھنے والے کے۔ چندراشیکھرراؤ کی قیادت والی ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے مضافاتی ضلع رنگاریڈی کےشمس آباد میں 2 اگست کو نصف شب کے بعد رات کی تاریکی میں بھاری پولیس جمعیت اور بلدیہ و محکمہ مال کے عہدیداروں کی موجودگی میں مسجد خواجہ محمود کو بلڈوزر کے ذریعہ شہید کیے جانے کے افسوسناک واقعہ کے بعد ریاست بھر کے مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دؤڑ گئی ہے۔اور اس بات پر حیرت کا اظہار کیاجارہا ہے کہ بناء حکومت کی اجازت کے کس طرح ایک آباد مسجد کو شہید کرتے ہوئے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کردیا گیا؟

https://www.facebook.com/AZADREPORTERABUAIMAL/videos/373120761642172

اس سلسلہ میں سوشل میڈیا پر سوال اٹھائے جارہےہیں کہ اس کے لیے ذمہ دار کون ہیں؟ کمشنر بلدیہ صابرعلی یا ضلع کلکٹر رنگاریڈی ؟؟ کیونکہ مسلمانوں کے لیے اتنے حساس اور کربناک معاملہ میں ضلعی سطح کے عہدیداروں کی جانب سے اچانک اتنا بڑا اقدام کرنا ممکن نہیں ہے؟! 

اور ساتھ ہی ریاستی حکومت،وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ،ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے۔تارک راما راؤ،وزیر اقلیتی بہبود کوپولا ایشور،وزیر داخلہ محمدمحمود علی اور ریاستی وقف بورڈ پر شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے کہ”خود کو سیکولر اور اقلیتوں کی چمپئین قرار دینے والی ٹی آرایس حکومت کے دؤر اقتدار میں مساجد کی شہادت کا سلسلہ کب تھمے گا؟تلنگانہ کے قیام کے بعد سے آٹھ سال کے دؤران بشمول سیکریٹریٹ نصف درجن سے زائد مساجد کو شہید کیا گیا ہے”!!

https://www.facebook.com/Amjed.Ullah.Khan.fanspage/videos/578764607206198

 

وہیں دوسری جانب جنرل سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی،امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ مولانا حامد محمدخاں،مولاناجعفر پاشاہ،سابق وزیروسینئر کانگریسی قائد محمدعلی شبیر،صدرجمعیتہ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش مولانا حافظ پیر شبیر احمد،صدرتحریک مسلم شبان وجوائنٹ ایکشن کمیٹی محمدمشتاق ملک،امجد اللہ خان خالد ترجمان مجلس بچاؤ تحریک،ریاستی صدرموومنٹ فار چیف اینڈجسٹس(ایم پی جے) محمد عبدالعزیز اور دیگر مسلم قائدین نے اپنے صحافتی بیانات میں شمس آباد میں مسجد خواجہ محمود کو بلدیہ کی جانب سے شہیدکیے جانے کی شدید مذمت کی ہے اور اسےمسلم دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے حکومت سے جواز طلب کیا ہے۔

https://www.facebook.com/AZADREPORTERABUAIMAL/videos/380438440888982

یاد رہے کہ بلدیہ شمس آباد کےعہدیداروں کی جانب سے 2 اگست کی نصب شب کے بعد ساڑھے تین بجے،رات کے اندھیرے میں گرین ایونیو کالونی پہنچ کر پورے علاقہ کا پولیس کے ذریعہ محاصرہ کرلیا گیا۔اوراس علاقہ کی برقی منقطع کرنے کے بعد مقامی مسلمانوں کےمکانات کے دروازوں کو باہر سے بند کر کے مسجد پر بلڈوزر چلائے گئے!۔

https://www.facebook.com/AZADREPORTERABUAIMAL/videos/464745951831770

 

اس انہدامی کارروائی میں شامل عہدیداروں پر یہ الزام بھی عائد کیا جارہا ہے کہ انہدامی کارروائی کے موقع پروہاں موجود چند ایک مسلمانوں نے جب اس واقعہ کی اطلاع موبائل فون کے ذریعہ ذمہ داران کو دینے کی کوشش کی تو ان کے فونس بھی چھین لیے گئے اور انہدامی کارروائی کی ویڈیوز اور فوٹوز نہ لی جائیں اس کا خاص خیال رکھا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ مسجد خواجہ محمودتین سال قبل تعمیر کی گئی تھی جس میں باقاعدہ پنچ وقتہ نمازیں ادا کی جارہی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق گرین ایونیو کالونی پندرہ ایکڑ اراضی پرمحیط ہے اور سال 2018 میں پرسیٹیج انفرا کے مالکین طبیب علی اور طاہرعلی نے شمس آباد گرام پنچایت سے درکار اجازت حاصل کرنے کے بعد 50سے زائد پلاٹس بناکر فروخت کیے تھےاور مسجد کی تعمیرکے لیے باقاعدہ ڈھائی ڈھائی سو مربع گز کی اراضی مختص کی تھی کیونکہ اس کالونی میں 90 فیصد سے زائد مسلمان آباد ہیں۔

https://www.facebook.com/AZADREPORTERABUAIMAL/videos/550460876849552

کالونی کے مکینوں نے تین سال قبل تعمیری کام شروع کیا تھا اور اس میں باقاعدہ نماز پنجگانہ کا اہتمام کیا جارہا تھا۔تاہم مسجد سے متصل مکان مالک وشال سنگھ پر الزام ہے کہ انہوں نے بلدی عہدیداروں سے مسجد کی غیر قانونی تعمیر کی شکایت کی اور اس سلسلہ میں دونوں فریقین کے درمیان عدالت میں ایک مقدمہ بھی زیر دوراں ہے۔

یہاں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس مسجد کا مقدمہ عدالت میں زیر دوراں ہے اس مسجد کو بلدی عہدیداروں بالخصوص کمشنر بلدیہ شمس آباد صابر علی نے مسجد کی انتظامی کمیٹی یا پھر گرین ایونیو کالونی کی سوسائٹی کو نوٹس جاری کیے بناء ہی کس طرح رات کے اندھیرے میں بھاری پولیس جمعیت کے ساتھ مسجد خواجہ محمود کو شہید کیا۔؟بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں پہلے ہی مقامی مسلمانوں نے ریاستی وزیر داخلہ اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کو اس تنازعہ سے متعلق واقف کروادیا تھا!

شمس آباد میں مسجدخواجہ محمود کوشہید کیے جانے کی اس گھناؤنی حرکت کےخلاف بلالحاظ سیاسی وابستگی دو دنوں سے دفتر کلکٹریٹ ضلع رنگاریڈی اور دفتر بلدیہ شمس آباد کے علاوہ دیگر مقامات پر برہم مسلمان کی بڑی تعداد کی جانب سے شدید احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔اور مسجد کی شہادت،انہدامی کارروائی کے دؤران قرآن مجید اور دیگر مذہبی کتب کی بے حرمتی کے خلاف سیاسی سماجی اور مذہبی قائدین شہید مسجدکے ملبے کے پاس پہنچ کر جذبات سے مغلوب ہوگئے جنہیں پولیس نے گرفتار کیا۔

مجلسی رکن اسمبلی حلقہ کاروان کوثر محی الدین کی قیادت میں سینکڑوں مجلسی قائدین اور کارکنوں نے آج دفتر کلکٹریٹ پر احتجاجی دھرنامنظم کرتےہوئے ضلع کلکٹر کے خلاف نعرے لگائے۔ان کا مطالبہ تھا کہ مسجد کی شہادت میں ملوث عہدیداروں کو معطل کیا جائے اور دوبارہ اسی مقام پر مسجد کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے۔بعدازاں پولیس نے رکن اسمبلی سمیت دیگر مجلسی قائدین کو گرفتار کرلیا۔

https://www.facebook.com/AZADREPORTERABUAIMAL/videos/368902305422416

دوسری جانب شمس آباد میں ایرپورٹ روڈ پر سینکڑوں برہم مسلمانوں نے مسجد خواجہ محمود کی رات کےاندھیرے میں شہید کیےجانے کےخلاف شدید احتجاج منظم کیا۔اور وزیراعلیٰ کے سی آر،وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر،ضلع کلکٹر رنگاریڈی اور کمشنر بلدیہ شمس آباد کےخلاف نعرے لگائے۔ان میں خود کئی برسر اقتدار ٹی آر ایس پارٹی کے مقامی مسلم قائدین اور کارکن بھی شامل تھے۔

جبکہ آج ہی دفترکلکٹریٹ ضلع رنگاریڈی پرعثمان بن محمدالہاجری اور صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مینارٹی سیل شیخ عبداللہ سہیل کی قیادت میں بھی دفتر کلکٹریٹ رنگاریڈی پر شدید احتجاج منظم کیا گیا۔ان کی جانب سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ مسجد کو شہید کرنے والے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور فوری اسی مقام پر دوبارہ مسجد کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے۔ 

https://www.facebook.com/mohammed.alhajri.73594/videos/582589593540609/?d=n

"ویڈیولنکس بشکریہ: آزاد رپورٹر ابو ایمل(فیس بک پیج)”