ہائی الرٹ : گلاب طوفان کا اثر،حیدرآباد میں 28،27 اور 29ستمبر کو شدید ترین بارش کی پیش قیاسی

ہائی الرٹ
گلاب طوفان کا اثر،حیدرآباد میں 27, 28 اور 29ستمبر کو شدید ترین بارش کی پیش قیاسی
گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں اور عوام کو چوکس رہنے کی ہدایت

حیدرآباد :26۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

خلیج بنگال میں ہوا کے دباؤ میں شدید کمی کے باعث اٹھنے والے گلاب طوفان نے آج اتوار کی نصف شب کے بعد ساحلی آندھرا اور جنوبی اڈیشہ کے ساحل کو عبورکرلیا ہے۔محکمہ موسمیات کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آئندہ پانچ گھنٹوں کے دؤران اس کی شدت میں اضافہ کے بعد کمزور پڑنے کا امکان ہے۔

اس گلاب طوفان کے اثرات سے وشاکھا پٹنم میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ وہاں نشیبی علاقے اور سڑکیں زیر آب آگئی ہیں۔عہدیداروں کے مطابق گلاب طوفان سنتا بومالی اور وجراپورکوتور کے درمیان ساحل کو عبورکرگیا ہے۔

اسی دؤران آج رات ڈائرکٹوریٹ آف انفورسمنٹ ،ویجلنس،اینڈ ڈیزاسٹرمینجمنٹ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) نے اپنالیٹر نمبر No. 6138/DIR/EV&DM//GHMC/2021 کے ذریعہ ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ انڈین میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (آئی ایم ڈی) حیدرآباد نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کے حدود میں 27 ستمبر بروز پیر ، 28 ستمبر بروز منگل اور 29 ستمبر بروز چہارشنبہ کو شدید ترین بارش کی وارننگ دیتے ہوئے پیش قیاسی کی ہے۔

محکمہ موسمیات کی اس پیش قیاسی کے بعد جی ایچ ایم سی الرٹ ہوگیا ہے۔

ڈئرکٹر انفورسمنٹ،ویجلنس،اینڈ ڈیزاسٹرمینجمنٹ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے زونل کمشنران،ڈپٹی کمشنران اور ایچ او ڈیز کو ہدایت جاری کی ہے کہ تمام احتیاطی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔نشیبی علاقوں پر گہری نظر رکھی جائے ،فون کالس پر فوری امدادی کاموں کا آغاز کیا جائے۔

ساتھ ہی ڈئرکٹر انفورسمنٹ ،ویجلنس ،اینڈ ڈیزاسٹرمینجمنٹ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) نے یہ ہدایت بھی جاری کی ہے کہ شدید ترین بارش کی پیش قیاسی کو دیکھتے ہوئے کشتیوں ، پانی خالی کرنے کے لیے پمپس اور دیگر ضروری سامان کو تیار اور ہمہ وقت دستیاب رکھا جائے۔

اور نشیبی علاقوں کا دؤرہ کرتے ہوئے جائزہ لیا جاتا رہے، ماضی کے واقعات کے پیش نظر قبل از وقت اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

تمام عہدیداروں اور عملہ کی ہفتہ واری تعطیلات کوایک ہفتہ کے لیے منسوخ کرتے ہوئے منصوبہ بند طریقہ سے اقدامات کیے جائیں،قدیم اور مخدوش عمارتوں،نشیبی علاقوں سے عوام کو محفوظ مقامات پر روانہ کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ ذرائع کا قبل ازیں نظم کیا جائے اور پہلے سے ریلیف کیمپس تیار رکھے جائیں ان میں تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا بندوبست کیا جائے۔

ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ نشیبی علاقوں کے مکینوں کو پہلے ہی ان تین دنوں کے دؤران شدید ترین بارش کی پیش قیاسی سے واقف کروایا جائے اور انہیں ہمہ وقت چوکس رہنے کی ہدایت دی جائے۔