تلنگانہ میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دؤران شدید ترین بارش کی پیش قیاسی، ریڈ الرٹ جاری، حیدرآباد میں سیلابی صورتحال کا انتباہ

تلنگانہ میں 48 گھنٹوں کے دؤران شدید ترین بارش کی پیش قیاسی، ریڈ الرٹ جاری
کل جمعرات کو بشمول حیدرآباد 8 اضلاع میں انتہائی شدید بارش اور سیلابی صورتحال کی وارننگ
ریاستی ڈی جی پی انجنی کمار کی اضلاع کے کمشنران پولیس اور ایس پیز کے ساتھ ویڈیو کانفرنس
عوام اپنے مکانات سے باہر نہ آئیں، کنٹرول روم قائم، عہدیدار چوکس رہیں : ضلع کلکٹر وقارآباد

حیدرآباد/وقارآباد : 26۔جولائی (سحرنیوزڈاٹ کام)

ریاست تلنگانہ کےچند اضلاع میں آئندہ 48 گھنٹوں کےدوران 8 اضلاع میں شدید سےشدید ترین بارش،چند اضلاع میں اوسط بارش اورچنداضلاع میں موسلا دھار بارش کی محکمہ موسمیات نے پیش قیاسی کی ہے۔شدیدترین بارش کی پیش قیاسی کےساتھ ان دو دنوں کے دوران 8 اضلاع کے لیے ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیاہے۔جن میں اضلاع حیدرآباد،وقارآباد،سنگاریڈی،میدک،کاماریڈی،نلگنڈہ،سوریہ پیٹ اور کھمم شامل ہیں۔

آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران حیدرآباد میں بھی انتہائی شدید ترین بارش کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ساتھ ہی محکمہ موسمیات نےحیدرآباد میں سیلابی صورتحال کے امکان کا بھی انتباہ دیا ہے۔نشیبی علاقوں میں رہنے والوں اور گاڑی سواروں کوچوکس رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔عوام کو درختوں اور برقی کھمبوں سے بھی دور رہنےکےلیےکہاگیاہے۔ساتھ ہی متنبہ کیاگیاہےکہ ڈرینج نظام کی بدتری کےعلاوہ برقی،آبی مسدودی اور دیگر دشواریوں کے پیش آنے کی وارننگ دی گئی ہے۔

آئندہ 48 گھنٹوں کےدوران تلنگانہ کےمختلف اضلاع میں شدید سےشدیدترین بارش کی پیش قیاسی کےبعد ریاستی ڈی جی پی انجنی کمارنے ریاست کے محکمہ پولیس کو چوکس کردیا ہے۔ڈی جی پی انجنی کمار نے آج رات اضلاع کے پولیس کمشنران اور ضلع ایس پیز کے ساتھ ویڈیو کانفرنس منعقد کی۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈی جی جی پی لا اینڈ آرڈر  سنجے کمار جین بھی موجود تھے۔

تلنگانہ ڈی جی پی مسٹر انجنی کمار۔

بعدازاں ڈی جی پی تلنگانہ انجنی کمار نے کہاکہ محکمہ پولیس شدید بارش کی پیش قیاسی کے پیش نظر 24 گھنٹے مستعد رہتےہوئے خدمات انجام دے گا۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی قسم کی امداد کے لیے 100 نمبر پر یا مقامی پولیس اسٹیشنوں کو آگاہ کیا جائے۔جس کےفوری بعد امدادی اور راحتی کاموں کا آغاز کیا جائےگا۔ریاستی ڈی جی پی انجنی کمار نے کہاکہ جمعرات 27 جولائی کو ریاست کے 8 سرحدی،مشرقی اورمغربی اضلاع میں محکمہ موسمیات کی جانب سے شدید بارش کی پیش قیاسی کرتے ہوئے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

ریاستی ڈی جی پی انجنی کمار نے کہاکہ حیدرآباد میں ان دو دنوں کےدوران شدیدسے شدید ترین بارش کی بھی پیش قیاسی کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ پہلے ہی گذشتہ چند دنوں سےہونےوالی بارش کےباعث کئی پراجکٹس،ندیاں،تالاب اور کنٹے لبریز ہوگئےہیں۔ڈی جی پی نےپولیس عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ان ذخائر آب کے قریب عوام کو جانے کی اجازت نہ دی جائے۔

اسی طرح بارش سے تباہ سڑکوں اور سیلابی پانی سے لبریز راستوں سےعوام اور گاڑیوں کوگزرنے کی اجازت نہ دی جائے۔اوراحتیاطی اقدامات کے طور پر ان مقامات کی دونوں جانب بیریکیڈس لگائے جائیں اور وارننگ بورڈز نصب کرتےہوئےمحفوظ مقامات کی جانب ٹریفک کا رخ تبدیل کیا جائے۔ضرورت پڑنے پر نشیبی علاقوں سے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔

ریاستی ڈی جی پی تلنگانہ انجنی کمار نے محکمہ پولیس کو ہدایت دی کہ ہنگامی حالات میں نیشنل ڈیفنس ریسپانس فورسز (NDRF#) ٹیموں کی مدد لی جائے۔ساتھ ہی ڈی جی پی نے اضلاع کے پولیس عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعہ کسانوں کو برقی موٹروں اور تاروں سے دور رہنے اور دیگر احتیاطی اقدامات سے واقف کروائیں۔اور چھوٹے چھوٹے بریجوں پر سےسیلابی پانی کے گزرنےکےدوران ٹریفک کوروک دیا جائے کسی کو بھی اس سیلابی پانی میں سے گزرنے کی اجازت نہ دی جائے۔اور عوام کو ذخائر آب پر جانے سے روکا جائے۔

دوسری جانب کلکٹرضلع وقارآباد نارائن ریڈی نےبھی آج رات ضلع کےمتعلقہ محکمہ جات کےعہدیداروں کو ٹیلی کانفرنس کےذریعہ ہدایت دی ہے کہ ضلع وقارآباد میں بھی 48 گھنٹوں کےدوران شدید سے شدید ترین بارش کی پیش قیاسی کےبعد وہ ہمہ وقت چوکس رہیں۔ضلع کلکٹروقارآباد نارائن ریڈی نے ضلع کے عوام کو مشورہ دیا کہ ضلع میں اس بارش کے دوران 40 سنٹی میٹر بارش ریکارڈ ہونے کی پیش قیاسی کے پیش نظر وہ اپنے مکانات سے باہر نہ آئیں۔

ساتھ ہی ضلع کلکٹر وقارآباد نے کچے اور شکستہ مکانات میں مقیم خاندانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات کو منتقل ہوجائیں۔اور عوام کو مشورہ دیا ہےکہ دو دنوں کے دوران اپنے سفر کو ملتوی کر دیں۔ضلع کی تمام گرام پنچایتوں اور بلدیات کےعہدیداروں کو ضلع کلکٹر نے ہدایت دی ہے کہ وہ احتیاطی اقدامات کو یقینی بنائیں۔اور سیلابی پانی کے بلا رکاوٹ گزر جانے کے لیے ڈرینس اور موریوں کی فوری طورپر صفائی انجام دیں۔اور شکستہ مکانوں میں مقیم افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں۔

کلکٹر وقار آباد ضلع مسٹر نارائن ریڈی۔

محکمہ برقی کے عہدیداروں کو بھی ضلع کلکٹر نے ہدایت دی ہے کہ برقی سربراہی اور حادثات کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔اور بلاء وقفہ برقی سربراہی کو ممکن بنایاجائے۔ضلع میں لبریز ندیوں اور نالوں کی دونوں جانب بیریکیڈ اور انتباہی بورڈز لگاکر گاڑیوں اور پیدل چلنےوالوں کو متوازی راستہ فراہم کریں۔اور اس کے لیے پولیس اور محکمہ مال کے ملازمین کو نگرانی پر مامور کیا جائے۔ضلع کلکٹر وقارآباد نارائن ریڈی نے ہدایت دی کہ تمام مواضعات میں ڈھنڈورہ پٹوا کر عوام کو متنبہ کیا جائے کہ وہ اپنے مکانات سے باہر نہ نکلیں۔

ضلع کلکٹرنارائن ریڈی نے ہدایت دی کہ محکمہ پنچایت راج،آراینڈ بی،آبپاشی،بلدیہ،محکمہ برقی، پولیس اورمحکمہ مال کے تمام عہدیدار اور ملازم انتہائی چوکس رہیں تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ کیا جائے۔ضلع کلکٹر وقارآباد نے ان عہدیداروں سے کہا کہ پہلے ہی ضلع کے تمام ذخائر آب لبریز ہوگئے ہیں اور ان 48 گھنٹوں کے دؤران ضلع میں شدید ژالہ باری کے امکان کی پیش قیاسی کے پیش نظر قبل ازاقت ہی احتیاطی اقدامات کو یقینی بنائیں۔تاکہ کسی بھی قسم کے حادثات سے عوام کو محفوظ رکھا جاسکے۔

ضلع کلکٹر نارائن ریڈی نے عوام کو مشورہ دیا کہ ہنگامی حالات کے دوران حالات پر قابو پانے کے لیے دفتر کلکٹریٹ وقارآباد میں ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔عوام مدد کے لیے 7995061192 پر فون کریں۔

اس ٹیلی کانفرنس کےدوران ایس پی ضلع وقارآباد این۔کوٹی ریڈی آئی پی ایس،ایڈیشنل کلکٹرز،آر ڈی اوز،گرام پنچایت کےعہدیدار،کمشنران بلدیہ، محکمہ آر اینڈ بی، آبپاشی، برقی کے عہدیداروں کے علاوہ ڈی ایس پیز، تحصیلداران اور دیگر متعلقہ عہدیداروں نے شرکت کی۔

اردو میں موسم کی  پیش قیاسی "

دوسری جانب آج چہارشنبہ کی شام بھدرادری کوتہ گوڑم ضلع کےملکلاپلی منڈل میں ندی کےاوپر ایک نشیبی پل کوعبورکرنےکےدوران ایک خاتون ندی کے سیلابی پانی میں بہہ گئی۔خواتین کا ایک گروپ ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے اس ندی کےسیلابی پانی کوعبور کررہا تھا کہ بدقسمتی سے اس خاتون کا ہاتھ چھوٹ گیا اور وہ پھسل کر بہتی ندی کے سیلابی پانی میں بہہ گئی۔