حیدرآباد: معین آباد میں 65 درخت کاٹنے پر رئیل اسٹیٹ کمپنی کو چار لاکھ روپئے کا جرمانہ
فاؤنڈر گرین انڈیا چیلنج و رکن راجیہ سبھا سنتوش کمار نے کارروائی کی ستائش کی
حیدرآباد: 30۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
حکومت تلنگانہ گزشتہ پانچ سال سے ریاست کا جنگلاتی علاقہ بڑھانے اور ریاست کو سرسبز و شاداب بنانے کے لیے "ہریتا ہارام پروگرام” کے تحت ہر سال ریاست میں کروڑوں پودے لگانے میں مصروف ہے۔
اس مہم کے آغاز کے بعد ریاست کے کئی اضلاع میں جنگلات کے رقبہ میں اضافہ ہوا ہے اور ساتھ ہی شہروں اور ٹاؤنس میں شجرکاری کے باعث فضائی آلودگی میں کمی بھی واقع ہو رہی ہے۔اور ضرورت بھی شدید ہے کہ شہری علاقوں میں مزید بڑے پیمانے پر پودے لگائے جائیں۔اس کے لیے عوام بھی اس جانب راغب ہو کیونکہ درخت انسانی بقا کے لیے لازمی ہیں جہاں درخت ہوں گے ان علاقوں میں بارش بھی زیادہ ہوگی،صاف و شفاف آب ہوا کے ساتھ ساتھ زیر زمین آبی ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک جانب جہاں ہریتا ہارم کے تحت پودے لگائے جارہے ہیں تاکہ آنے والے دنوں میں ماحول فضائی آلودگی سے پاک ہو وہیں اب بھی درختوں کی بے دریغ کٹائی کا سلسلہ جاری ہے۔
ایسے ہی ایک معاملہ میں حیدرآباد کے مضافاتی ضلع رنگاریڈی کے معین آباد منڈل کے چلکور میں ویسٹ سائڈ نامی ایک رئیل اسٹیٹ وینچر کے ذمہ داران کی جانب سے گزشتہ ایک ہفتہ کے دؤران ان کی اراضی میں موجود 65 درختوں کو کاٹ دیا گیا جبکہ کسی بھی درخت کو کاٹنے سے قبل اس کی جائز وجہ بتاتے ہوئے مقامی محکمہ جنگلات کے عہدیداروں سے اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔

مقامی افراد کی اطلاع پرمحکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے جائے مقام پر پہنچ کر مشاہدہ کیا جہاں واقعی درختوں کو کاٹ دیا گیا تھا اس کے بعد محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے والٹا قانون کے تحت ویسٹ سائڈ کے مالکین پر چار لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد کیا اور ساتھ ہی نوٹس بھی تھمادی جس میں ہدایت دی گئی ہے کہ جن درختوں کو کاٹا گیا ہے انہی مقامات پر دوبارہ پودے لگائے جائیں اور ان کے تحفظ کے تمام انتظامات کیے جائیں۔

ساتھ ہی یہ انتباہ بھی دیا گیا کہ اگر پودے نہیں لگائے گئے تو مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیے جائیں گے۔
محکمہ جنگلات کی جانب سے کی گئی اس کارروائی کی تمام گوشوں سے سراہنا کی جارہی ہے کہ اس کے بعد کسی بھی کمپنی یا رئیل اسٹیٹ مالکین کی جانب سے درختوں کی اس طرح کٹائی ممکن نہیں ہوگی۔
اس سلسلہ میں فاؤنڈر گرین انڈیا چیلنج و ٹی آرایس رکن راجیہ سبھا سنتوش کمارنے محکمہ جنگلات کی اس کارروائی کی تائید کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے۔
اس ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا ہے کہ غلطی کرنے والے چاہے کوئی بھی ہوں وہ قانون سے نہیں بچ سکتے۔انہوں نے درختوں کی کٹائی کے خلاف فوری کارروائی کرنے پر محکمہ مال اور جنگلات کے عہدیداروں کی ستائش کی ہے۔
فاؤنڈر گرین انڈیا چیلنج و ٹی آرایس رکن راجیہ سبھا سنتوش کمارنے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ من مانی کرنے والوں کے لیے یہ کارروائی ایک انتباہ ہے کہ جوسوچتے ہیں کہ وہ جو چاہیں وہ کرسکتے ہیں!
یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ گرین انڈیا چیلنج کے تحت ریاست تلنگانہ میں اب تک کروڑہا پودے لگائے گئے ہیں۔
فاؤنڈر گرین انڈیا چیلنج و ٹی آرایس رکن راجیہ سبھا سنتوش کمار کی قیادت میں 5 جولائی کو ضلع عادل آباد میں ایک ہی گھنٹہ میں دس لاکھ پودے لگانے کا ریکارڈ قائم کیا گیا تھا جس میں 30 ہزار والینٹئرس، ٹی آر ایس پارٹی کارکن اور نوجوانوں نے حصہ لیا تھا۔
وہیں اس گرین انڈیا چیلنج مہم میں مشہور اداکار امیتابھ بچن، عامر خان،ناگ ارجن اور دیگر فلمی،سیاسی اور سماجی شخصیتوں نے حصہ لے کر پودے لگائے ہیں۔
آج ہی فاؤنڈر گرین انڈیا چیلنج رکن راجیہ سبھا سنتوش کمار کی قیادت میں سری لنکا کے ڈپٹی ہائی کمشنر ڈاکٹر ڈی۔وینکٹیشورن نے گرین انڈیا چیلنج میں حصہ لیتے ہوئے جوبلی ہلز کے پرشاسن نگر پارک میں پودے لگائے۔
اس موقع پر انہوں نے حکومت تلنگانہ کی ستائش کی کہ تشویشناک حد تک زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے دؤران ہریتا ہارم پروگرام کے تحت شجرکاری ماحولیات کے لیے ایک اچھا اقدام ہے۔انہوں نے فاؤنڈر گرین انڈیا چیلنج و رکن راجیہ سبھا سنتوش کمار کی بھی ستائش کی کہ وہ اس پروگرام کے ذریعہ ماحول کو بہتر بنانے میں مصروف ہیں جس سے آنے والی نسلوں کو بھی فائدہ ہوگا۔

