مردہ خانہ سے بیٹے کی لاش حوالے کرنے 50 ہزار روپئے کا مطالبہ،غریب ماں باپ نے رقم جمع کرنے بھیک مانگی

دنیا پہ ایسا وقت پڑے گا کہ ایک دن
انسان کی تلاش میں انسان جائے گا
مردہ خانہ سے بیٹے کی لاش حوالے کرنے 50 ہزار روپئے کا مطالبہ
غریب ماں باپ نے رقم جمع کرنے گلی گلی گھوم کر بھیک مانگی

پٹنہ/سمستی پور:09۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

بوڑھے باپ کے کاندھوں پر نوجوان بیٹے کی نعش کو دنیا کا سب سے بڑا بوجھ کہا جاتا ہے۔لیکن اس سے قبل ہی ریاست بہارکےایک سرکاری مردہ خانہ کے رشوت خورعملہ نے ایک غریب اور لاچار و بےبس ضعیف باپ اور ماں کے کاندھوں پر بیٹے کی نعش حوالے کرنے کے لیے 50,000 روپئے کی رشوت طلب کرتے ہوئے ایک اور بوجھ ڈال دیا۔

جوان بیٹے کی موت سے مایوس و پریشان ماں باپ نے رشوت کی رقم جمع کرنے کے لیے گاؤں اور گلیوں میں،گھر گھر گھوم کر بھیک مانگی تاکہ رشوت کی رقم ادا کرکے ان کے بیٹے کی نعش مردہ خانہ سے حاصل کرتے ہوئے اس کی آخری رسومات ادا کرسکیں۔

ہر درد مند انسان کو لرزہ اور انسانیت کو شرمندہ کرنے والے اس واقعہ کا ویڈیو وائرل ہوا ہے۔

ریاست بہار کےسمستی پور ضلع کے تھانے تاج پور کے موضع وہار کے بدقسمت باپ مہیش ٹھاکر کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہے جن کی کمائی ایسی نہیں ہے کہ وہ اپنے خاندان کو دو وقت کی روٹی فراہم کرسکیں۔مہیش ٹھاکر کا بیٹا سنجیو ٹھاکر(24 سالہ)بیروزگار تھا اورملازمت کی تلاش میں مصروف تھا۔

اطلاعات کے مطابق سنجیو ٹھاکر 25 مئی کو جب گھر واپس نہیں ہوا تو اس کے ماں باپ پریشان ہوگئے۔ہر جگہ تلاش کے باوجود ان کو اپنے بیٹے کا کوئی سراغ نہیں ملا۔اسی دؤران 7 جون کو مہیش ٹھاکر اور ان کی بیوی کو اطلاع ملی کہ مسری گھراری تھانے کے علاقے میں پولیس کو ایک نامعلوم نعش دستیاب ہوئی ہے۔اس اطلاع پر دونوں پولیس اسٹیشن  پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ اس نعش کوپوسٹ مارٹم کی غرض سے صدر ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

دؤڑتے ہوئے ہسپتال کے مردہ خانہ پہنچے باپ مہیش ٹھاکر کے مطابق ان کی جانب سے لاکھ منت سماجت کے باجود شناخت کے لیے مردہ گھر میں رکھی گئی نعش انہیں نہیں دکھائی گئی۔وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ نعش ان کے لاپتہ بیٹے کی ہے یا کوئی اور ہے؟

لاکھ منت سماجت کےبعد مردہ گھر کے عملہ نے مہیش ٹھاکر اور ان کی بیوی کو وہ نعش دکھائی تو دونوں کے اؤسان خطا ہوگئے کہ وہ نعش ان کے بیٹے سنجیو ٹھاکر ہی کی تھی نعش کو دیکھتے ہی ماں بیہوش ہوکر مردہ گھر میں ہی گرگئی۔

مہیش ٹھاکر نے روتے ہوئے مردہ گھر کے ذمہ داران سے کہاکہ ان کے جواں سال بیٹے کی نعش ان کے حوالے کی جائے تاکہ زندگی میں جس جواں سال بیٹے کی خواہشات کو وہ پورا نہ کرسکا اور نہ ہی اسے دو وقت کی روٹی تک دے سکے کم ازکم اس کی نعش کو دوگز کا کفن تو دے سکیں اور آخری رسومات ادا کرسکیں۔

خبر رساں ادارہ اے این آئی کو باپ مہیش ٹھاکر نے بتایا کہ جب انہوں نے مردہ گھروالوں سے اپنے بیٹے کی نعش مانگی تو ایک ملازم نے ان کے بیٹے کی نعش حوالے کرنے کے لیے ان سے 50 ہزار روپئے کی رقم طلب کی۔انہوں نے کہا کہ ہم انتہائی غریب لوگ ہیں کہاں سے اتنی رقم دے پاتے؟

انسانیت کو شرمندہ کرنے والے اس مطالبہ کے بعد مجبور و لاچار باپ مہیش ٹھاکر اور ماں نے اپنے ہاتھ میں تولیہ لے کر گھر گھر،دکان دکان،  گلی گلی گھوم کر بھیک جمع کی تاکہ مردہ گھر کے اس گِدھ نما ملازم کو یہ رقم دے کر اپنے بیٹے کی نعش حاصل کرسکیں۔

جونہی یہ اطلاع سوشل میڈیا کےذریعہ عام ہوئی ہسپتال نےفوری طور پراس نعش کو پولیس کے حوالے کردیا جسے بعدازاں ماں باپ کے حوالے کردیا گیا۔

اس واقعہ کا ویڈیو اور تصاویرسوشل میڈیاپر وائرل ہوئی ہیں۔جس کی ہرطرف سے شدید مذمت کی جارہی ہے۔ہسپتال نے اس معاملہ میں سخت کارروائی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اے این آئی نے سمستی پور کے سول سرجن ڈاکٹر ایس کے چودھری کے حوالہ سے کہا ہے کہ ہم یقینی طور پر اس معاملے میں سخت کارروائی کریں گے،ذمہ دارپائے جانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔

مندر۔مسجد،حجاب،حلال،نسل کشی اور مذہبی اشتعال انگیزی میں مصروف اس ملک کے اس منافرتی ٹولے کے لیے یہ واقعہ ایک پیغام ہے کہ اپنی اس نفرتی ذہنیت کوختم کریں جو صدیوں قدیم تاریخ کو توڑ مروڑ کر زندہ انسانوں کی نسل کشی کی دھمکیاں دیتے ہیں،جن کےسروں پر یہ جنون سوار ہوگیاہے کہ دیگر مذہب والوں کی عبادت گاہوں یا اس ملک کی تاریخی عمارتوں کی کھدائی کریں تو اپنے مذہب کی نشانیاں نکلیں گی؟۔

ضرورت ہے کہ ملک میں امن و امان کی فضا قائم کریں اور معلوم نہیں کہ ملک کے کس کونے میں ایسے کئی مہیش ٹھاکر،سنجیو ٹھاکرکے علاوہ دیگرمذاہب کے ماننے والے کن کن مشکلات سے گزر رہے ہوں گے؟ان جیسوں کی بلا مذہبی تفریق مدد کی جائے۔انہیں ملازمتیں اور روزگار حاصل ہوں تاکہ یہ لوگ بھی باعزت طریقہ سے چین و سکون کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرسکیں۔

 

"اس واقعہ کی تفصیلات پرمشتمل Article19 India کے بیباک صحافی نوین کمار کا ساحرلدھیانوی کے شہرہ آفاق کلام کے ساتھ اس دس منٹ کے ویڈیو کو ضرور دیکھیں”