گھریلوپکوان گیس سیلنڈر کی قیمت میں 50 روپئے کا اضافہ، مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے اچھے دنوں کی ایک اورسوغات

گھریلو پکوان گیس سیلنڈر کی قیمت میں 50 روپئے کا اضافہ
مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے اچھے دنوں کی ایک اور سوغات
کئی گھریلو اشیا پر بھی 18 جولائی سے جی ایس ٹی لاگو ہوگا

نئی دہلی:06۔جولائی(سحرنیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

تمام اشیائے ضروریہ سےلیکر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کی آسمان چھوتی مہنگائی سےپہلے ہی سے پریشان عوام کو اچھے دنوں کا وعدہ کرنے والی حکومت کے دؤر میں آئیل کمپنیوں نے 14.2 کلو کےحامل گھریلو پکوان گیس کی قیمت میں فی سیلنڈر 50 روپئے اضافہ کرتے ہوئے آج ایک اور جھٹکا دیا ہے اضافہ شدہ قیمت کا آج سے ہی اطلاق ہوگا۔گزشتہ تین ماہ کے دؤران پکوان گیس کی قیمت میں جملہ 153.50 روپئے کا اضافہ کیاگیا ہے۔قبل ازیں 19 مئی کو گھریلو پکوان گیس کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تھا۔

یکم جولائی کو 19 کلو کے حامل کمرشل ایل پی جی کی قیمت میں 198 روپے کمی کی گئی تھی جو بین الاقوامی سطح پر نرمی کی شرح کےمطابق تھی 

مرکزی حکومت کی جانب سے پٹرولیم اشیا پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے واہ واہ سمیٹی جاتی ہےلیکن چند دنوں میں دوبارہ قیمتوں میں اضافہ کی سوغات اب تو عام بات بن کر رہ گئی ہے۔

آج اضافہ شدہ قیمتوں کے بعد دہلی میں فی گیس سیلنڈر کی قیمت 1,053 روپئے،ممبئی میں1,052روپئے،چنئی میں1,068روپئے،کولکاتا میں 1,079روپئے ،بنگلورو میں 1,055 روپئے،جموں و کشمیر میں 1,169روپئے،شملہ میں 1,100 روپئے اور حیدرآباد میں 1,105 روپئے ہوگئی ہے۔

دوسری جانب ترکاری سے لے کر گوشت تک اور گوشت سے لے کر پھلوں تک کی قیمتیں اس سطح پر پہنچ چکی ہیں کہ انہیں خریدنا تو دور اب عوام صرف انہیں دیکھنے پر ہی اکتفا کرنے لگے ہیں۔کیونکہ بڑھتی مہنگائی اور پھر دو سال تک کوویڈ وبا کے باعث جہاں لاکھوں افراد بے روزگار ہوگئے وہیں وہیں لاکھوں افراد کی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ملک میں بیروزگاری اپنی اونچائی کی سطح پر ہے،ہندوستانی روپیہ کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلہ میں تاریخی طورپر 80 روپئے کے قریب پہنچ گئی ہے پھر بھی سب مزے میں ہیں،80کروڑ غریبوں کو مفت راشن دیا جارہا ہے اور متوسط طبقہ پریشان ہے۔عوام کو مذہب کی افیون چکھاکر چھوڑدیا گیا ہے جو دن رات سوشل میڈیا پر اتنے مصروف ہوگئے ہیں کہ انہیں پتہ ہی نہیں چل پارہا کہ ان کے گھر کا دسترخوان کتنا سمٹ گیا ہے!!

وہیں پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور بڑھتی مہنگائی کے دؤران ملک کی اپوزیشن پارٹیوں کے قائدین ایک ٹوئٹ کرکے اپنی ذمہ داری سے بری ہوجاتے ہیں۔

دوسری جانب گزشتہ دنوں منعقدہ جی ایس ٹی کونسل کے 47ویں اجلاس میں مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتا رامن کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ18 جولائی سے کئی اشیا پر جی ایس ٹی لاگو ہونے والا ہے یا پھر جن اشیا پر جی ایس ٹی پہلے سے لاگو ہے اس میں اضافہ کااعلان کیا گیا ہے۔

گھریلو اشیاء جیسے ایل ای ڈی لیمپ، پرنٹنگ/ڈرائنگ انک، برقی سے چلنے والے پمپس، ٹیٹرا پیاک کی قیمتوں میں 12 فیصد سے 18 فیصد،سولار واٹر ہیٹر کے لیے،تیار چمڑے کے لیے5 فیصدجی ایس ٹی کو بڑھاکر 12 فیصد تک شرح میں اضافہ ہوگا۔چیک جاری کرنے پر 18 فیصد جی ایس ٹی عائد کیا جائے گا۔

پہلے سے پیاک شدہ اور پہلے سے لیبل والی کھانے کی اشیاء جیسے اناج،دہی،لسی،پنیر،گڑ،گیہوں کا آٹا،پفڈ چاول،چھاچھ اور گوشت/مچھلی (تازہ اور منجمد کے علاوہ) کے لیے بھی چھوٹ واپس لے لی جائے گی۔ایسی کھانے پینے کی اشیاء پر اب برانڈیڈ اشیاء کے برابر 5 فیصد ٹیکس عائد ہوگا اب 12 فیصد جی ایس ٹی ایسے ہوٹل کے کمروں پر عائد ہوگا جس کا کرایہ 1,000روپئے یومیہ ہے۔اور 5,000 روپئےروزانہ سے زیادہ ہسپتال کے کمرے کے کرائے پر 5 فیصد جی ایس ٹی ادا کرنا ہوگا جبکہ آئی سی یو پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔