پانی پوری کا دوسرا نام ٹائیفائیڈ! عوام امراض سے بچنے کے لیے فی الوقت پانی پوری کھانا بند کردیں: تلنگانہ ہیلتھ ڈائرکٹر کا عوام کو مشورہ

پانی پوری کا دوسرا نام ٹائیفائیڈ!
امراض سے بچنے کے لیے فی الوقت پانی پوری کھانا بند کردیں
ڈائرکٹر تلنگانہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ کا عوام کو مشورہ
حیدرآباد:12۔جولائی(سحرنیوزڈاٹ کام)
پانی پوری جسے حرف عام میں”گپ چپ” کہا جاتا ہے کو کھانا کسے پسند نہیں!بالخصوص خواتین اور بچے اس پانی پوری کے دیوانے ہوتے ہیں وہیں روز پانی پوری کھانا کئی لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔
لیکن آج ریاستی ڈائرکٹر ہیلتھ ڈپارٹمنٹ تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے جاریہ شدید بارش کے دؤران موسمی امراض سے چوکس رہنے اور ان سے تحفظ کے لیے تمام احتیاطی اقدامات کرنے کا عوام کو مشورہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنڈیو ں اور کھلے مقامات پر عوام پانی پوری نہ کھائیں۔انہوں نے انتباہ دیا کہ اس سے مختلف بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔ ریاستی ڈائرکٹر ہیلتھ ڈپارٹمنٹ تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے کہا کہ پانی پوری کی بنڈیوں سے ہی ٹائیفائیڈ پھیل رہا ہے۔انہوں نے ریمارک کیاکہ پانی پوری کا نام ٹائیفائیڈ دیا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بنڈیوں پر پانی پوری بیچنے والے مزید احتیاطی اقدامات کریں اور صاف صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
آج حیدرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی ڈائرکٹر ہیلتھ ڈپارٹمنٹ تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتہ سے ریاست میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے اورعوام کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اب کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ موسمی امراض سے بھی لڑنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب بیکٹیریا اور وائرس کے باعث موسمی امراض میں اضافہ ہوتا ہے وہیں سانپ کاٹنے کے واقعات بھی پیش آتے ہیں۔
ریاستی ڈائرکٹر ہیلتھ ڈپارٹمنٹ تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نےبتایاکہ ریاست میں ملیریا کے کیس بھی درج ہورہے ہیں۔ان میں 115 ملیریا کے کیس بھدرادری ضلع میں،ملگ میں 113،نلگنڈہ میں پانچ،بھوپال پلی میں چار،آصف آباد میں تین کیس درج کیے گئے ہیں۔انہوں نےانکشاف کیا کہ ریاست میں ماہ مئی میں چکن گنیا کے تین کیس ریکارڈ ہوئے ہیں۔جبکہ جاریہ ماہ ریاست میں 6.000 دست و قئے کے کیس درج ہوئے ہیں وہیں جاریہ سال ٹائیفائیڈ کے کیس بھی زیادہ ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
ریاستی ڈائرکٹر ہیلتھ ڈپارٹمنٹ تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے عوام کو مشورہ دیا کہ موسمی و دیگر امراض سے محفوظ رہنے کے لیے تغذیہ بخش غذا کا استعمال کریں۔اور ساتھ ہی گرم غذا کو ترجیح دیں،صاف شفاف پانی کا استعمال کریں یا پھر پانی کو اُبالنے کے بعد ٹھنڈا کرکے پئیں۔ انہوں نے کہا کہ بیماریوں سے تحفظ کے لیے لازمی ہے کہ تمام طرح کے احتیاطی اقدامات پرسختی کے ساتھ لازمی طور پرعمل کیا جائے۔انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ دست و قئے اور بخار کی علامات پر فوری ڈاکٹرس سے رجوع ہوں۔

انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ بازاروں میں کھلے عام فروخت کی جانے والی غذائی اشیاءکے استعمال میں احتیاط کریں اوربالخصوص پانی پوری اور دیگر چیزیں کھانے سے قبل صفائی کا خاص خیال رکھیں۔انہوں نےکسی بھی بیماری کی علامت کو معمولی نہ سمجھنے کا مشورہ بھی دیا۔