عدالت نے آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر و صحافی محمد زبیر کو چار دن کے لیے پولیس ریمانڈ میں دے دیا

عدالت نے آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر و صحافی محمد زبیر کو
چار دن کے لیے پولیس ریمانڈ میں دے دیا
پولیس نے دفعات 153 اور 295 کے تحت کل گرفتار کیا تھا

نئی دہلی: 28۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

سوشل میڈیا اور نیوز چینلوں پر پیش کیے جانے والی بناوٹی اور جھوٹی خبروں کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے اسے درست یا غلط یا پھر قدیم قرار دینے کے لیے مشہور فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز AltNews# کے معاون فاؤنڈر نامور و نوجوان صحافی محمد زبیرMohammed Zubair@ کو کل دہلی پولیس نے کل ایک کیس کے سلسلہ میں پوچھ تاچھ کے لیے طلب کرتے ہوئے ان پر سوشل میڈیا پر مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ا نڈین پینل کوڈ کی دفعہ 153(فساد پھیلانے کی غرض سے اکسانا) اور دفعہ 295A (مذہب کی توہین)کےالزامات کے تحت گرفتار کرلیا تھا۔

بعدازاں رات ہی ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرتے ہوئے سات دنوں کے لیے پولیس ریمانڈ کی درخواست کی تھی تاہم معزز مجسٹریٹ نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ایک دن کی پولیس ریمانڈ دیتے ہوئے ہدایت دی تھی کہ انہیں آج 28 جون کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

پولیس نے محمد زبیر کو آج دہلی کی پٹیالہ ہاؤز عدالت میں پیش کرتے ہوئے پانچ دنوں کی پولیس ریمانڈ طلب کی تھی۔وہیں عدالت نے محمد زبیر ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں چار دنوں کے لیے پولیس ریمانڈ میں بھیج دیا ہے۔دہلی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ محمد زبیر تحقیقات میں تعاون ہیں کررہے ہیں۔سینئر وکیل محترمہ ویرندا گروور نے عدالت میں محمد زبیر کی پیروی کی۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محمد زبیر کی وکیل محترمہ وریندرا گروور نے دہلی کی ایک عدالت کو محمد زبیر کے احساسات سےواقف کرواتے ہوئے بتایا کہ انہیں 2018 کے ایک ٹوئٹ کے لیےگرفتار کیا گیا ہے۔یہاں تک کہ یہ فلم سنسر بورڈ کی جانب سے کلیئر کردہ 1983 کی فلم کا اسکرین شاٹ ہے۔وکیل وریندا گروور نے مسٹر زبیر کے مسلمان اور صحافی ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ” بہت سے لوگوں نے ایک ہی ٹوئٹ کیا ہے،ان ہینڈلز اور میرے درمیان فرق صرف میرا ایمان،میرا نام اور میرا پیشہ ہے۔

"مارچ 2018 کے ٹوئٹ میں نوجوان صحافی محمد زبیر جو کہ جھوٹی خبروں اور نفرت انگیز وائرل شدہ مواد کے حقائق کی جانچ کرنے والی ویب سائٹ آلٹ نیوز کے بانیوں میں سے ایک ہیں نے ہرشی کیش مکھرجی کی کلاسک "کسی سے نہ کہنا” کی ایک تصویر شیئر کی تھی۔یہ ایک ہوٹل کا سائن بورڈ دکھاتا ہے جس پر ہندی میں”ہنومان ہوٹل” لکھاہوتا ہے۔لیکن پینٹ کے نشانات بتاتے ہیں کہ اسے پہلے "ہنی مون ہوٹل” کہا جاتا تھا۔محمد زبیر نے اس تصویر والے ٹوئٹ کے ساتھ لکھا تھا کہ” 2014 سے پہلے”ہنی مون ہوٹل 2014 کے بعد ہنومان ہوٹل”۔!جس میں 2014 میں بی جے پی کے برسراقتدار پر آنے کا حوالہ موجود تھا۔

محمدزبیر کے وکیل نے پولیس کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ انہوں نےتصویر میں ترمیم کی تھی اور کہاکہ”مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے یا دشمنی کو فروغ دینے کے الزامات کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔”یہ عبادت گاہ نہیں ہے،یہ سہاگ رات کا مذاق ہے…سارا معاملہ بیہودگی پر ہے۔”

محمد زبیر کی وکیل محترمہ وریندرا گروور ضمانت کی دلیل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ”پولیس اپنے اختیارات کا غلط استعمال کررہی ہے۔” انہوں نے استفسار کیا کہ اس ٹوئٹ کی وجہ سے 2018-2022 کے درمیان کیا ہوا؟…

محترمہ وریندرا گروور نے عدالت سے کہا کہ”میرے مؤکل محمد زبیر کو ان کے کام کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔وہ طاقتور لوگوں کوچیلنج کر سکتے ہیں۔لیکن یہ ان کی ہراسانی کی وجہ نہیں ہوسکتی۔”

تاہم دہلی پولیس کے وکیل نے کہا کہ محمد زبیر محض شہرت حاصل کرنے کی غرض سے حقائق کی جانچ کرنے والے فرد ہیں!انہوں نے محمدزبیر کے خلاف درج دیگر ایف آئی آر کا حوالہ دیتے ہوئے پانچ دن کی تحویل کا مطالبہ کیا۔کیوں کہ یہ ایک مسلسل جرم ہے پولیس کے وکیل نے ایک ٹوئٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی جس میں محمد زبیر نے لکھا تھا”ہنومان سے دعا کرو،بندر آپ کوپریشان نہیں کریں گے۔”

جس پر محمدزبیر کی وکیل نے کہا کہ محمد زبیرمحض ایک وزیراعلیٰ (اتر پردیش کے یوگی آدتیہ ناتھ) کے بیان کو دہرایا تھا”۔