حیدرآباد میں ڈی سی ایم ڈرائیور پر ٹریفک پولیس کاظلم،مسلم مخالف گالی گلوچ، کہا پاکستان چلاجائے
صدرمجلس ورکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹراسدالدین اویسی کی مذمت،خاطی پولیس ملازمین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
حیدرآباد:19۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام)
تلنگانہ پولیس فخریہ طور پر خود کو Friendly Police (دوستانہ پولیس ) کہتی ہے اور اس کے چند عہدیداروں اور ملازمین کے ذریعہ اس دوستانہ پولیس کے مناظر سوشیل میڈیا پر نظربھی آجاتے ہیں جس کی ہرطرف سے سراہنا کی جاتی ہے۔
لیکن اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ان میں چند عہدیدار اور ملازمین مسلم دشمنی کے عارضہ میں مبتلاء بھی نظرآتے ہیں یہ اور بات کہ یہ خبریں بہت کم منظرعام پر آتی ہیں۔
ضرورت شدید ہیکہ سیکولر ریاست تلنگانہ کے حکمران ایسے عہدیداروں اور ملازمین پولیس کی شناخت کریں اور انکے ذہنوں میں موجود فرقہ پرستی کے زہر کو زائل کریں ورنہ یہ خود حکومت اور نیک نامی حاصل کرچکے محکمہ پولیس کیلئے بدنامی کا باعث بن سکتے ہیں!!
اس سلسلہ میں آج صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے لگاتار چار ٹوئٹ کرتے ہوئے ٹریفک پولیس کے ظلم کے شکار بننے والے ایک مسلم ڈی سی ایم ڈرائیور کے ویڈیوس شیئر کیے ہیں۔
بیرسٹراسد الدین اویسی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ایک ڈی سی ایم ڈرائیور سبحان کو ٹریفک پولیس نے حیدرآباد ایرپورٹ کے قریب روک لیا اور اس کی پٹائی کردی بعد ازاں سبحان کو پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا اور وہاں اسکی مخالف مسلم الفاظ استعمال کرتے ہوئے گالی گلوچ کے ذریعہ توہین کی گئی اور ٹریفک پولیس کے چند ملازمین کی جانب سے کہا گیا کہ وہ پاکستان چلاجائے!
اور اس واقعہ کی اطلاع انہیں کل موصول ہونے کے بعد انہوں نے فوری سرکل انسپکٹر پولیس سے بات کی تو سبحان کو رہاء کردیا گیا۔
صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اپنے دوسرے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ اس ڈی سی ایم ویان میں 40 ہزار روپئے مالیتی اشیاء تھیں جسے پولیس نے ضبط کرلیا اور حالیہ بارش کے باعث یہ اشیاء بھی خراب ہوگئیں۔
بیرسٹر اسدالدین اویسی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ انہوں نے اس سلسلہ میں ریاستی ڈی جی پی مسٹر ایم۔مہندرریڈی سے بھی شکایت کی تو انہوں نے تیقن دیا ہے کہ اس معاملہ میں ملوث ملازمین پولیس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

بیرسٹر اسدا لدین اویسی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ متاثرہ ڈی سی ایم ڈرائیور سبحان سے انہوں نے آج ملاقات کی جس نے انہیں بتایا کہ اس واقعہ میں ملوث ملازمین پولیس اس سے اپیل کررہے ہیں وہ اس معاملہ میں خاموش رہے اور وعدہ کر رہے ہیں کہ اس کے نقصان کی وہ پابجائی کریں گے۔
صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے اپنے ٹوئٹ کے ذریعہ مطالبہ کیا کہ اس سارے واقعہ میں ملوث ملازمین پولیس کو فوری معطل کیا جائے اور انکے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور اس معاملہ میں کوئی رعایت نہ دی جائے۔
بیرسٹر اسدالدین اویسی نے اپنے ٹوئٹ میں کمشنر سائبرآباد کو ٹیاگ کرتے ہوئے انہیں یاد دلایا ہے کہ آپ کی شبیہ فوری انصاف فراہم کرنے والے عہدیدار کی ہے اور امید ہے کہ آپ اس معاملہ میں بھی فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے امید ظاہر کی ہے کہ ڈی جی پی تلنگانہ اس معاملہ میں فوری کارروائی کو یقینی بنائیں گے!

