یہ دنیا نفرتوں کے آخری اسٹیج پہ ہے
علاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
حیدرآباد:عابڈس کی مسجد عامرہ میں برادرانِ وطن کے لیے دعوت افطار کا نظم
پولیس عہدیداروں اور مشہور شوروم مالکین کی شرکت،گنگاجمنی تہذیب کا پرچم بلند
حیدرآباد: 16۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام)
مسلمانوں نے برادران وطن کے ساتھ مل کرملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی،محبت،اخوت اور بھائی چارہ کی جو روایت قائم کی ہے ہمیں اس تہذیبی ورثے اور گنگاجمنی تہذیب کو نہ صرف بچانے کے ضرورت ہے،بلکہ اسے موجودہ نفرت انگیز دؤر میں مزید فروغ دینے کی شدید ضرورت ہے۔
کہتے ہیں کہ چراغ سے چراغ جلائے جاتے ہیں تاکہ رؤشنی بڑھتی جائے،بے گناہوں،غریبوں اورمعصوم انسانوں کے گھرنہیں جلائے جاتے جسے وہ زندگی بھر تنکا تنکا جوڑ کر بناتے ہیں۔

شہر حیدرآباد کی بنیاد ہی محبت کے پتھر سے رکھی گئی ہے۔یہاں کی گنگاجمنی تہذیب ساری دنیا میں مثال مانی جاتی ہے۔حیدرآباد صرف ایک شہر ہی نہیں اس میں پورا ایک ملک سمایا ہواہے۔جہاں غیرملکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کےغیر ملکی ملازمین مقیم ہیں اور ساتھ ہی ملک کی ہر ریاست کے خاندان حیدرآباد میں فرقہ پرستی کی لعنت سے دور امن و سکون کے ساتھ رہتے اور بستے ہیں۔
2014 میں وجود میں آنے والی ریاست تلنگانہ بالخصوص اس کا دارالحکومت حیدرآباد انتہائی تیزرفتاری کے ساتھ مختلف شعبہ جات میں ابھررہی ہے۔بڑے پیمانے پر یہاں سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔اور پوری دنیا میں یہاں کے لوگوں کا آپسی میل ملاپ ایک نظیر مانی جاتی ہے۔
اس کا سہرہ حکومت اورمحکمہ پولیس کے سر باندھا جاسکتاہے کہ سوائے ایک دو ناخوشگوار واقعات کے 2014 میں ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے امن و امان کا بول بولا ہے۔
یہ الگ بات کہ چند مٹھی بھر طاقتیں لگاتار یہاں کی پرامن فضا کو نفرت انگیز نعروں،بیانات اور تقاریر کے ذریعہ مذہبی منافرت پھیلاتے ہوئے حیدرآباد کی پرامن فضا کو مکدر کرنے کی کوشش میں ہیں!!لیکن انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑرہا ہے۔کیونکہ ملک کی مختلف ریاستوں میں جاری مذہبی منافرت کے کھیل سے واقف دونوں جانب کے امن پسند لوگ ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو پرسکون طور پر گزارنے میں مصروف ہیں۔
حیدرآباد ہمہ اقسام کے خوبصورت پھولوں سے سجا ہوا ایک حسین و دلکش گلدستہ کی شکل میں موجود ایک ایسا واحد شہر ہے جہاں آپ کو اردو،تلگو،پنجابی،تمل،کیرالا،گجراتی،مارواڑی،،مراٹھی،بھوجپوری کے علاوہ ملک بھر کی علاقائی اور مادری زبانیں بولنے،سمجھنے اور ان زبانوں سے محبت و انسیت رکھنے والے مل جائیں گے۔یہی اس شہر کی سب سے بڑی خوبصورتی بھی ہے اور طاقت بھی ہے۔
جمعہ 15 اپریل کی شام حیدرآباد کے قلب میں واقع مشہور تجارتی علاقہ عابڈس کی مسجد عامرہ میں پہلی مرتبہ اس وقت ایسے ہی دلنشین اور قلب کو سکون دینے والے نظارے دیکھے گئے جب مسجد کی انتظامی کمیٹی کی جانب سے” ایک خصوصی دعوت افطار” کا اہتمام کیا گیا۔
اس دعوت افطار کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں مشہور تجارتی علاقہ عابڈس کے کاروباری اداروں،شورومس کےغیرمسلم برادران وطن،مالکین اور انتظامیہ،محکمہ پولیس کے عہدیداروں اور ملازمین کوخصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔اس دعوت افطار میں 75 سے زائد غیرمسلم برادران وطن نے شرکت کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ” ہم سب ایک ہیں”۔
حیدرآباد کے تجارتی علاقہ کے عابڈس کی مسجد عامرہ میں ترتیب دی گئی دعوت افطار میں عابڈس علاقہ میں موجودمشہور جگدمبا جیولرس،چھگن لال جیولرس،بجرنگ جیولرس،لدبھی واچس،ملبوسات کے شوروم سلک سنٹر،ہالی ووڈ فٹ ویئر،مالکین،ٹائٹان شوروم،کنشک کے مالکین اور دیگر،اے سی پی مسٹروینکٹ ریڈی،موبائل فونس اور دیگر الیکٹرانک اشیا کے لیے عابڈس کی مشہور جگدیش مارکیٹ کی دکانات کے ہندو اور سکھ برادران وطن،سرکل انسپکٹر پولیس عابڈس پولیس اسٹیشن پرساد راؤ،سب انسپکٹران پولیس نریش اور نرنجن،عابڈس پولیس اسٹیشن سے وابستہ دیگر ملازمین پولیس کے علاوہ برادران وطن نے شرکت کی۔
ان تمام معززین نے خصوصی طور پر ترتیب دی گئی دعوت افطار میں مسلم روزہ داروں کے ساتھ افطار کرتے ہوئے انتہائی خوشی و مسرت کا اظہار کیا۔بعدازاں یہ تمام معزز شخصیتیں مسلمانوں کی جانب سے باجماعت نمازمغرب کی ادائیگی کا روح پرور منظر بھی دیکھ کر خوش ہوئے۔
اس دعوت افطارمیں مسجد عامرہ کی انتظامی کمیٹی کے صدر جناب دوست خان،نائب صدر مزمل جنیدی،جنرل سیکریٹری محمدسلیم،خازن بابو بھائی اور اشرف بھائی نے مہمانوں کی افطاری سے تواضع کی۔اس موقع پر عابڈس علاقہ کےمختلف مسلم تاجرین اور دکانداروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

بعدازاں اس دعوت افطار میں شریک پولیس عہدیداروں اور مختلف شورومس کے غیرمسلم مالکین نے مسجد عامرہ کے انتظامیہ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج اس دعوت افطار کا اہتمام کرتے ہوئے حیدرآباد کی گنگاجمنی تہذیب کو مزید مضبوط بنایا ہے۔وہیں ان غیرمسلم بیوپاریوں نے کہا کہ وہ بھی اپنی جانب سے جلد ہی ایک دعوت افطار کا اہتمام کریں گے۔
ضرورت ہے کہ ملک اور ریاست کے تمام شہروں اور ٹاؤنس میں دونوں جانب کے ذمہ داران پہل کرتے ہوئے ایسی تقاریب کے ذریعہ ایک دوسرے سے قریب ہوں،اپنے آپسی تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں،امن و امان اور قومی یکجہتی کو مزید فروغ دیا جائے۔


