حیدرآباد: نواسہ نے آن لائن گیم کھیل کر اپنے نانا وسابق ایس آئی کابینک اکاؤنٹ خالی کردیا،سائبر کرائم پولیس نے 11لاکھ روپئے واپس دلوائے

موبائل فونس میں مصروف اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں
حیدرآباد میں نواسہ نے آن لائن گیم کھیل کر اپنے نانا کا بینک اکاؤنٹ خالی کردیا
سابق ایس آئی کی شکایت پر سائبر کرائم پولیس نے ساڑھے 11 لاکھ روپئے واپس دلوائے

حیدرآباد: 16۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

گزشتہ سال کورونا وبا کے آغازکے بعد سے بالخصوص لاک ڈاؤن کے دؤران اسمارٹ موبائل فونس،سوشل میڈیا کا استعمال اور بچوں میں آن لائن گیمس کھیلنے میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

اسی دؤران کورونا وبا کی رفتار میں کمی کے بعد بندتعلیمی اداروں کی جانب سے طلبہ کے لیے آن لائن کلاسیس کا آغاز کیا گیا تھا۔جس کے دؤران اسکولوں میں زیرتعلیم کم عمر طلبہ کے لیے اپنے والدین کا موبائل استعمال کرنا لازمی ہوگیا تھا کیونکہ کالج جانے والے زیادہ تر نوجوانوں کے پاس اپنے خود کے موبائل فونس ہوتے ہیں۔

تاہم افسوس کی بات یہ ہے اب جبکہ اسکولوں کاآغاز ہوگیا ہے لیکن اس کے بعد بھی زیادہ تر بچے اپنے والدین کے موبائل فونس کے ذریعہ ویڈیو گیمس کھیلنے کی عادت میں مبتلا ہوگئے ہیں اور بڑوں کی طرح بچوں کے لیے بھی اب موبائل فونس لازمی ہوگیا ہے!

دوسری جانب موبائل فونس پر زیادہ تر ویڈیوگیم کمپنیاں ان بچوں سے بڑی مقدار میں رقم کھینچنے میں مصروف ہوگئے ہیں اب باقاعدہ یہ ایک کاروبار کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

اگر آپ اپنے موبائل فونس کے ذریعہ نیٹ بینکنگ،گوگل پے،فون پے یا کوئی اور منی ٹرانسفر ایپ استعمال کرتے ہیں تو اب آپ کے چوکس ہوجانے کا وقت آگیا ہے۔

وہیں چند نوجوان اور بچے ایسے بھی ہیں جو کہ والدین کے خوف سے اپنے والدین کے ان منی ٹرانسفر اکاؤنٹس کے بجائے اپنی جمع کردہ رقم یا پھر اپنے مکانات میں موجود رقم کا سرقہ کرتے ہوئے کسی اور کے ذریعہ ان ویڈیو گیم کمپنیوں کو رقم ادا کرنے میں مصروف ہیں!!

حیدرآباد میں ایک ایسا ہی چونکا دینے والا واقعہ منظر عام پر آیا ہے جہاں ایک نواسہ نے اپنے نانا جو کہ ایک سابق سب انسپکٹر پولیس ہیں کے موبائل فون کو آن لائن کلاسیس کے دؤران استعمال کرتے ہوئے ان کے بینک اکاؤنٹ میں موجود ساڑھے 11 لاکھ روپئے کی خطیر رقم ویڈیو گیمس پر لگادی۔

تاہم خوش قسمتی سے سائبر کرائمس وِنگ،سائبرآباد نے پانچ ماہ کی کوشش کے بعد سنگاپور میں موجود اس ویڈیو گیم کمپنی کے پاس سے نانا کو ان کی رقم واپس دلوائی۔

اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق حیدرآباد کے ساکن سید اصغر علی نیشنل پولیس اکیڈیمی میں بحیثیت سب انسپکٹر پولیس خدمات انجام دینے کے بعد وظیفہ حسن خدمات پرسبکدوش ہوگئے۔طویل صبرآزما ملازمت کے بعد ریٹائرڈ ہونے کے بعد انہیں جو ان کی زندگی بھر کی کمائی حاصل ہوئی تھی انہوں نے اسے بینک کے اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروادی کہ ان کی اور ان کے افراد خاندان کی زندگی سکون کے ساتھ گزرے۔

اسی دؤران پانچ ماہ قبل سید اصغرعلی نے اپنا موبائل فون اپنے 8 سالہ نواسہ کو آن لائن تعلیم کے دؤران استعمال کرنے کے لیے دیا تھا لیکن اس لڑکے نے موبائل فون پر آن لائن گیمس کھیلنا شروع کردیا۔

اس دؤران اس ویڈیو گیم ایپ نے جو جو سوال کیے اس لڑکے نے اوکے کردیا اس کے بعد سابق سب انسپکٹر پولیس سید اصغر علی جن کا فون نمبر ان کے بینک اکاؤنٹ سے منسلک تھا نواسہ کے گیم کھیلنے کے دؤران وقفہ وقفہ سے ان کے بینک اکاونٹ سے 11 لاکھ 50 ہزار روپئے موبائل گیم کمپنی کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتے چلے گئے۔

اس کے بعد ماہ جولائی میں سید اصغر علی سائبر کرائمس وِنگ،سائبرآباد پولیس سے رجوع ہوتے ہوئے اس کی شکایت درج کروائی۔

اس شکایت پر سائبر کرائم پولیس نے ایک کیس درج رجسٹر کرتے ہوئے تحقیقات کیں تو انکشاف ہوا کہ یہ آن لائن گیمنگ کمپنی سنگاپور میں موجود ہے۔

اس کے بعد سائبر کرائم پولیس نے اس کمپنی سے رابطہ قائم کیا اور سائبر آباد کے سائبر کرائم پولیس کی جانب سے مسلسل پانچ ماہ تک اس کمپنی کا تعاقب کرنے اور اسے قانونی کارروائی کا انتباہ دینے کے بعد بالآخر اس ویڈیو گیمنگ کمپنی نے کل ان کی مکمل 11 لاکھ 50 ہزار روپئے کی رقم سابق سب انسپکٹر پولیس سید اصغرعلی کے بینک  اکاؤنٹ میں منتقل کردی۔

زندگی بھر کی کمائی ہوئی اتنی بڑی رقم کے واپس ہونے پر جس کا امکان کم ہی تھا سابق سب انسپکٹر پولیس سید اصغرعلی اور ان کے افراد خاندان نے سکون کی سانس لی اور اس سلسلہ میں سائبر آباد کے سائبر کرائم پولیس شعبہ کا شکریہ ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس طرح کے کئی واقعات پیش آرہے ہیں بعض والدین پولیس سے شکایت کرتے ہیں تو زیادہ تر بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کے بعد خاموش ہوجاتے ہیں کہ گئی ہوئی رقم واپس نہیں آسکتی!

لیکن سائبر کرائم پولیس میں ایسی کسی بھی آن لائن دھوکہ دہی کی شکایت درج کروائی جاسکتی ہے اور یہ ممکن بھی ہے کہ آپ کی رقم دوبارہ آپ کو واپس مل جائے جیسا کہ سابق سب انسپکٹر پولیس کے اس واقعہ میں ہوا ہے۔