بنگلورو کا ایک ایسا جوڑا جو روزآنہ 12 لاکھ روپئے کے سموسے بیچتا ہے، سالانہ 45 کروڑ روپئے کا ٹرن اوور

جو یقین کی راہ پر چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پہ بہک گئے

بنگلورو کا ایک ایسا جوڑا جو روزآنہ 12 لاکھ روپئے کے سموسے بیچتا ہے
سالانہ 45 کروڑ روپئے کا ٹرن اوور، ملازمتیں چھوڑکر کاروبار کا آغاز

حیدرآباد/بنگلورو: 18۔مارچ
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

کہتے ہیں کہ کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔بس کسی کام اور کاروبار کو انجام دینے کے لیے حوصلہ،محنت،لگن،خوداعتمادی اور نیک جذبہ کا ہونا لازمی ہے۔اور اس کے ساتھ کسی اپنوں کی مکمل مدد، مشورے، تائید اور حوصلہ افزائی کا ہونا آکسیجن کا کام کرتا ہے۔اکثر  نوجوانوں سے پوچھیں کہ کیا کررہے ہو؟ جواب آتا ہے کچھ بھی نہیں، نوکری کی تلاش میں ہوں یا کوئی اچھا کاروبار کرنا چاہتا ہوں۔!!

موجودہ دؤر میں دنیا ایک گلوبل ولیج میں تبدیل ہوگئی ہے۔آن لائن کاروبار کے ذریعہ کئی لوگ ماہانہ ہزاروں،لاکھوں روپئے کما رہے ہیں۔وہیں کئی باصلاحیت لوگ سوشل میڈیا کے فیس بک، یوٹیوب اور انسٹاگرام پر مختلف ویڈیوز اور ریلز Reels# کے ذریعہ بھی ماہانہ ہزاروں روپئے کمانے میں مصروف ہیں۔کئی ایسی با پردہ خواتین بھی ہیں جومختلف پکوان اور بیوٹی ٹپس کے ذریعہ ویڈیو بناتےہوئے اپنے اپنے یوٹیوب چینل اور انسٹا گرام سے باعزت طریقہ سے ماہانہ ہزاروں روپئے کما رہی ہیں۔

نوجوانوں کی بڑی تعداد ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ماہانہ ہزاروں روپئے کی تنخواہوں کے ساتھ ملازمت کرنے میں مصروف ہیں۔ان میں بھی خواتین شامل ہیں۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ وہ زمانے گئے جب گھر کا کوئی ایک فرد کماتا تھا تو سارے گھر کی ضرورتیں پوری ہوجایا کرتی تھیں لیکن اب لازمی ہوگیا ہے کہ گھر میں دو چار کمانے والے ہوں تو ہی زندگی سکون اور آرام کے ساتھ گزرتی ہے پھر بھی کوئی کمی رہ ہی جاتی ہے۔!

ایسے میں کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو کا ایک نوجوان جوڑا ان دنوں میڈیا اورسوشل میڈیا کی سرخیوں میں واہ واہ بٹورنےمیں مصروف ہے۔جو سموسے  بیچ کر ماہانہ لاکھوں روپئے کما رہا ہے اور اس جوڑے کے معمولی سمجھے جانے والے اس کاروبار کا سالانہ ٹرن اوور 45 کروڑ روپئے ہے۔

سموسہ ملک کے تقریباً تمام شہروں، ٹاؤنس اور دیہاتوں میں بہت شوق سےکھایا جاتا ہے۔اس اسٹریٹ فوڈ سموسہ نےبنگلورو کے ایک پڑھے لکھے جوڑے کی زندگی بدل کر رکھ دی ہے جو کہ تعلیمیافتہ ہیں اور ان کے پاس اونچی تنخواہ والی ملازمتیں بھی تھیں لیکن انہوں نے کچھ نیا کرنے کی ٹھان لی اور اپنے اس مقصد میں کامیاب بھی ہوگئے۔اس جوڑے نے بنگلورو میں سموسے فروخت کرنا شروع کر دیا۔اب یہ جوڑا منافع بخش ملازمتوں سے کہیں زیادہ کما رہا ہے۔

دی منٹ کی رپورٹ کےمطابق ندھی سنگھ اور ان کے شوہر شکھر ویر سنگھ کی شادی پانچ سال قبل ہوئی تھی۔ان کی پہلی ملاقات ہریانہ میں بائیو ٹیکنالوجی میں بی ٹیک کرنےکےدوران ہوئی بعدازاں شکھرویرسنگھ نے حیدرآباد کے انسٹی ٹیوٹ آف لائف سائنسس سے ایم ٹیک مکمل کیا۔ویر سنگھ نے بائیوکون میں پرنسپل سائنٹسٹ کے طور پر کام کیا۔

انہوں نے اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے 2015ء میں اپنی ملازمت چھوڑ دی جب کہ ندھی سنگھ گرو گرام میں ایک فارما کمپنی میں ملازمت کررہی تھیں جہاں ان کی تنخواہ کا پیکج 30 لاکھ روپئےسالانہ تھا۔اس جوڑےنے 2015ء میں فوڈ اسٹارٹ اپ کھولنے کےلیے اپنی اپنی ملازمتیں چھوڑ دیں اور بنگلورو میں ” سموسہ سنگھ ” کے نام سے سموسہ کی فروخت کا آغاز کردیا۔

شکھر ویرسنگھ کوسموسےکے کاروبار کاخیال اس وقت آیاجب وہ تعلیم حاصل کررہےتھے۔تاہم ندھی سنگھ نےانہیں سائنسدان بننے کا مشورہ دیا۔

ایک دن شکھر ویر سنگھ نے ایک فوڈ کورٹ میں ایک لڑکے کو سموسے کےلیے روتےہوئے دیکھا اور ان کا خیال تھاکہ سموسہ کا کاروبار شروع کرنے کا ان کا خیال بالکل درست تھا،کیونکہ یہ سب سے زیادہ پسندیدہ ہندوستانی ناشتہ ہے۔اس کےبعد انہوں نے اپنی ملازمت چھوڑ دی اور ” سموسہ سنگھ ” کھولنے کے لیے بنگلورو منتقل ہوگئے۔ان کے مینو میں سموسوں کی ایک جدید قسم ہے جسے کڑھائی پنیر سموسہ کہتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق معاشرے کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس جوڑے کےلیے اچھی خاصی ملازمتیں چھوڑکر کاروبار شروع کرنا آسان کام نہیں تھا۔لیکن انہوں نے اپنی بچت کو کاروبار شروع کرنےکے لیے استعمال کیا، بعد میں جب کاروبار میں اضافہ ہوا اور انہیں باورچی خانے کے لیے ایک بڑی جگہ کی ضرورت پڑگئی تو انہوں نے اپنا اپارٹمنٹ فلیٹ بھی بیچ دیا اور بنگلورو میں ایک فیکٹری کرایہ پر لے لی۔

منٹ کے مطابق اب شکھر ویر سنگھ اور ندھی سنگھ کا یہ کاروبار اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ آج ان کی سموسہ سنگھ کمپنی کا روزآنہ کا کاروبار 12 لاکھ روپئے سے زائد ہے اور اس کمپنی کا سالانہ کاروبار 45 کروڑ روپئے ہے۔

ہندوستان بھر میں ندھی سنگھ اور شکھر ویرسنگھ 40 سے زیادہ آؤٹ لیٹس کے ساتھ وہ اپنے بٹر چکن سموسے اور کڑھائی پنیر سموسوں کے لیے جانے جاتے ہیں اور اب وہ اپنے کاروبار کو مزید ذائقوں کے ساتھ اور بہت سے شہروں میں پھیلانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔وہ پانی پوری،دہی پوری،مسالہ پوری،وڑا پاو، دبیلی،سموسے کا تھال،جاجیرا، گلاب جامن،مونگ دال کا حلوہ اور بہت کچھ چٹ پٹی اشیا بھی بیچتے ہیں۔اب وہ اپنے کاروبار کو بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

ندھی سنگھ اور شکھر ویر سنگھ اور ان کے اس کاروبار کی کامیابی بالخصوص ان نوجوانوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ انسان اگر ٹھان لے تو چٹان ان کے قدموں میں ہوسکتی ہے۔مواقع کی تلاش،کم ہمتی،غیر ذمہ داری اور بہانہ بازی کرنے والوں کےلیے قسمت اور کامیابی کبھی اپنی بانہیں نہیں کھولتی۔کسی شاعر نے کہا ہے کہ ؎

جو یقین کی راہ پرچل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرادیا وہ قدم قدم پہ بہک گئے