اپنے قتل سے چند گھنٹے قبل ہی مقتول حامد نے پولیس سے تحفظ کی درخواست کی تھی!،کمشنرپولیس حیدرآباد نے سب انسپکٹر کو معطل کردیا

اپنے قتل سے چند گھنٹے قبل ہی مقتول حامد نے پولیس سے تحفظ کی درخواست کی تھی!!
کمشنر سٹی پولیس حیدرآباد نے تساہلی برتنے والے سب انسپکٹر چندرائن گٹہ کو معطل کردیا 

حیدرآباد: 13۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

حیدرآباد کے قدیم شہر کے علاقہ چندرائن گٹہ میں آج ایک سنسنی خیز قتل کی واردات کے چند گھنٹوں بعد کمشنر سٹی پولیس حیدرآباد انجنی کمار نے سب انسپکٹر چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن ایس۔وینکٹیش کو فوری طور پر معطل کردیا۔

بتایا جاتا ہے کہ مقتول حامد بن الزبیدی اپنے قتل سے محض چند گھنٹے قبل ہی چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن پہنچ کر شکایت درج کروائی تھی کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے!!

تاہم اس کے چند گھنٹوں بعد ہی چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن کے حدود میں،بنڈلہ گوڑہ،ہاشم آباد میں دن دہاڑے چار نامعلوم حملہ آوروں نے مہلک ہتھیاروں سے حملہ کرتے ہوئے ان کا بہیمانہ قتل کردیا۔

اس معاملہ میں کہا جارہا ہے کہ اگر حامد بن الزبیدی کی شکایت کے فوری بعد سب انسپکٹر چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن ایس۔وینکٹیش اس سلسلہ میں کسی کارروائی کا آغاز کرتے تو شاید یہ قتل کی واردات پیش نہ آتی!

مقتول حامد بن الزبیدی 37 سالہ ساکن بارکس،ملینیئم ٹراویلس اور ویسٹرن یونین منی ٹرانسفر کے کاروبار سے منسلک تھے۔

 مقتول حامد بن الزبیدی اور معطل کیے گئے سب انسپکٹر پولیس چندرائن گٹہ ایس۔وینکٹیش۔

عینی شاہدین اور مقامی افراد کے مطابق تین تا چار نامعلوم افرد نے کار میں جارہے حامد بن الزبیدی کی کار کو روک دیا اور انہیں کار سے باہر کھینچ کر مہلک ہتھیاروں سے ان کا گلا کاٹا اور ان پر حملہ کرکے قتل کردیاتھا۔

اس قتل کے واقعہ کی اطلاع کے فوری بعد چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن کے عہدیدار اور ساؤتھ زون ٹاسک فورس کے عہدیدار جائے مقام پر پہنچ گئے تھے اور قاتلانہ حملہ میں شدید زخمی حامد بن الزبیدی کو عثمانیہ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں بعد معائنہ ڈاکٹرس سے انہیں مردہ قرار دیاتھا۔

حامد بن الزبیدی کے قتل کے بعد بالخصوص حیدرآباد میں سنسنی کی لہر دؤڑگئی ہے اور شہریوں کی جانب سے حیدرآباد میں بڑھتی قتل اور دیگر جرائم کی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔