"بُلّی بائی ایپ” معاملہ :ممبئی پولیس نے 21سالہ نوجوان کو بنگلورو سے گرفتارکرلیا،مزید تحقیقات جاری

بُلّی بائی ایپ معاملہ "
ممبئی سائبر کرائم پولیس نے ہراج کی غرض سےمسلم خواتین کی تصاویر
ایپ پر لگانے والے 21 سالہ نوجوان کو بنگلورو سے گرفتارکرلیا

ممبئی/بنگلورو: 04۔جنوری
(سحر نیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

پوری دنیا اور پورا ملک کورونا وبا اور اومیکرون سے پریشان اور خوفزدہ ہے لیکن ایسے دؤر میں بھی اس ملک میں مذہبی منافرت،ایک مخصوص فرقہ کے خلاف زہرافشانی اور دھمکیوں کا سلسلہ الگ جاری ہے۔

گزشتہ چند سال سے ایک مخصوص ذہن کی پیداوار اور مخصوص نسل کے زہریلے گروپس کا معمول بن کر رہ گیا ہے کہ ان کی جانب سے روزآنہ صبح سے رات تک اور پھر رات سے صبح  تک قرآن کریم، پیغمبر اسلامﷺ اور مذہب اسلام کے خلاف سوشل میڈیا پر زہرافشانی اور نفرت انگیز مہم جاری رہتی ہے!

پھر بھی ان کے خلاف نہ مرکزی حکومت کوئی کارروائی کرتی ہے،نہ مرکزی وزارت داخلہ اورنہ ہی مرکزی ایجنسیاں اور مخصوص ریاستوں کی پولیس اس مہم کے خلاف کسی کارروائی کے موڈ میں نظرآتے ہیں!!

اب یہ مخصوص ذہنیت کے جنونی اور نفرت کی ناجائز پیدائش گروپس کی جانب سے انٹرنیٹ پر انتہائی فحش اور نازیبا لفظ پرمشتمل” بُلی بائی ایپ” "Bulli Bai App ” کے ذریعہ زائد از 113 با اثر ،عزت دار اور اپنے پیشہ میں ماہر مسلم خواتین اور لڑکیوں کی تصاویر اپ لوڈ کرکے” ڈیل آف دی ڈے”کے آفر کے ساتھ ان کا ہراج شروع کیا گیا اور اسی قبیل کے لوگ ان باعصمت،بے باک اور غیور خواتین اور لڑکیوں کی بولی لگانے میں مصروف تھے۔  

یکم جنوری کو یہ بلی بائی ایپ منظر عام پر آیا تھا جس میں ملک کی کئی نامورمسلم خواتین بشمول صحافی،سماجی جہدکار،طالبات اور دیگر شعبہ جات سے وابستہ شخصیات کی تصاویر کو انتہائی نازیبا اور ناقابل قبول الفاظ کے ساتھ شیئر کی گئیں۔جہاں کھلے عام ان کی بولیاں لگائی گئیں۔

اس کے ذریعہ بالخصوص ان مسلم خواتین اور لڑکیوں کو نشانہ بنایا گیا جو کہ این آر سی اور سی اے اے کے خلاف مہم میں آگے تھیں اور سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف چلائی جانے والی مذموم مہم کی مخالفت کرتی ہیں! ان میں حیدرآباد کی دو خواتین بھی شامل ہیں جنہوں نے پولیس میں شکایت درج کروائی ہے۔

ٹوئٹر کے علاوہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر بڑی تعداد میں صارفین نے اس ایپ اور ان کی کمینگی کی شدید مذمت کرتے ہوئےمطالبہ کیا کہ فوری طور پر خاطیوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

شیوسینا کی رکن راجیہ سبھا پرینکا چترویدی نے 2 جنوری کو ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یکم جنوری کو ویسٹ زون ریجن سائبر کرائم پولیس اسٹیشن، ممبئی نے اس بلی ایپ اور گٹ ہب اور نامعلوم خاطیوں کے خلاف کرائم نمبر 01/2022 یو/ایس 153اے” 153 بی” 295 اے” 354 ڈی” 509″ "500 آئی پی سی” آر/ڈبلیو 67 آئی ٹی ایکٹ کی دفعات کے تحت ایک کیس درج رجسٹر کرلیا ہے۔گٹ ہب نے اس ایپ کو اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر پروموٹ کیا تھا۔جسے ٹوئٹر نے شکایت کے بعد بند کردیا۔

سابق صدر کل ہند کانگریس و رکن پارلیمان راہول گاندھی نے بھی 2 جنوری کو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ” خواتین کی تذلیل اور فرقہ وارانہ نفرت تب ہی بند ہوگی جب ہم سب اس کے خلاف ایک آواز میں کھڑے ہوں گے۔سال بدل گیا،حال بھی بدلو -اب بولنا ہوگا!”

صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن لوک سبھا حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے بھی حیدرآباد کی دو نامور خواتین کی تصاویر اور ملک کی دیگر مسلم خواتین و لڑکیوں کی تصاویر اس ایپ پر ڈالنے کے خلاف پولیس میں باقاعدہ شکایت درج کروائی ہے۔

جبکہ دہلی ویمنس کمیشن نے بھی اس بلی بائی ایپ کے خلاف سائبر کرائم سیل،دہلی پولیس میں باقاعدہ شکایت کے ذریعہ مجرموں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا!

 

ان کے علاوہ ملک کی کئی ایک نامورشخصیتوں اور کئی کھلے ذہن کے ٹوئٹر صارفین نے اس” بلی بائی ایپ” کے خلاف مہم چلارہے ہیں اور اس ذلیل حرکت کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔

اس سلسلہ میں تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے 3 جنوری کو ممبئی سائبر کرائم پولیس نے ایک مشتبہ 21 سالہ نوجوان کو کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو سے گرفتار کرتے ہوئے ممبئی منتقل کیا ہے۔تاہم سائبر کرائم پولیس نے اس نوجوان کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے اور اسے بنگلورو کے کس مقام سے پکڑا گیا ہے اس کا بھی انکشاف نہیں کیا ہے۔

مہاراشٹرا کے ریاستی وزیر داخلہ و انفارمیشن ٹیکنالوجی ستیج پاٹل نے بھی بنگلورو سے بلی بائی ایپ کے سلسلہ میں ایک نوجوان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے بھی اس نوجوان کے متعلق مزید تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ممبئی سائبر کرائم پولیس مزید تحقیقات میں مصروف ہے اور شناخت واضح کرنے سے تحقیقات پر اثر پڑے گا۔

مہاراشٹرا کے ریاستی وزیر داخلہ و انفارمیشن ٹیکنالوجی ستیج پاٹل نے سائبر کرائم پولیس کو ہدایت دی ہے کہ اس معاملہ میں سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ستیج پاٹل نے مرکزی وزیر انفارمیشن و ٹیکنالوجی اشونی ویشنو سے استفسار کیا کہ کیوں مرکزی حکومت نے قبل ازیں ” سُلی ڈیلس ” کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی؟ 

 

” سُلّی ڈیلس اور بُلّی بائی ایپ کے متعلق مکمل تفصیلات بیرسٹر اسدالدین اویسی کا مذمتی بیان اس ویڈیو پر موجود ہیں”

https://www.youtube.com/watch?v=HN1xsD_weQE

"مشہور صحافی راویش کمار نے 3 جنوری 2022ء کے اپنے پرائم ٹائم شو میں اس ” بُلی بائی اور سلی ڈیلس ایپس "کے متعلق تفصیلات پیش کی ہیں جو اس ویڈیو میں دیکھی جاسکتی ہیں ” 

” سُلّی ڈیلس کے متعلق 10 جولائی کی سحرنیوز ڈاٹ کام کی اس تفصیلی رپورٹ کو اس لنک پر پڑھا جاسکتا ہے "

فرقہ پرستوں کے نشانہ پر اب مسلم خواتین!معروف خواتین کا ڈیٹا چوری کرکے انہیں ویب سائٹ پر "برائے فروخت” پیش کیا گیا