کروز منشیات معاملہ : بمبئی ہائی کورٹ میں آریان خان کی درخواستِ ضمانت پر کل تیسرے دن بھی ہوگی سماعت

کروز منشیات معاملہ:
بمبئی ہائی کورٹ میں آریان خان کی درخواستِ ضمانت پر کل تیسرے دن بھی ہوگی سماعت

بمبئی: 27۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

کروز منشیات معاملہ میں بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کے 23 سالہ فرزند آریان خان اور ارباز مرچنٹ و مون مون دھمیچا کی درخواست ضمانت پر آج دوسرے دن بھی بمبئی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔

تاہم آج بمبئی ہائی کورٹ نے اس سماعت کو کل 28 اکتوبر تک موخر کردیا اب ان ضمانت کی درخواستوں پر کل ڈھائی بجے دن دوبارہ سماعت ہوگی۔

نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے وکلا کل درخواست گزاروں کے دلائل کا جواب دیں گے۔ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ وہ ایک گھنٹے میں دلائل مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔

 

آریان خان کی درخواست ضمانت پر کل 26 اکتوبر کو بمبئی ہائی کورٹ میں زائد از ڈھائی گھنٹہ تک بحث و مباحثہ کے بعد عدالتی کارروائی کو آج 27 اکتوبر کو ڈھائی بجے دن تک کے لیے موخر کردیا گیا تھا۔

بمبئی ہائی کورٹ کے معزز جسٹس نتن ڈبلیو سامبرے کی ایک رکنی بنچ نے آریان خان کی درخواست ضمانت کی سماعت کی۔

آریان خان کیس میں سابق اٹارنی جنرل مکل روہتگی اور ستیش منشنڈے عدالت میں پیش ہوئے تھےجبکہ نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی جانب سے اڈویٹ سیٹھنا اور ان کی ٹیم عدالت میں موجود تھی۔

آج ارباز مرچنٹ کے وکیل امیت دیسائی نے اپنے موکل کی پیروی کرتے ہوئے ہائی کورٹ کو بتایا کہ ان کے موکل کی گرفتاری غیرقانونی ہے۔امیت دیسائی نے دعویٰ کیا کہ گرفتاری میمو کے مطابق ان تینوں پر این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت بیان کردہ استعمال کا الزام نہیں ہے۔وہیں مون مون دھمیچا کی جانب سے ان کے وکیل علی کاشف خان نے پیروی کی۔

ارباز مرچنٹ کے وکیل امیت دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ عدالت میں آنے سے پہلے ہی واٹس ایپ چاٹ میڈیا تک کیسے پہنچی؟یہ وہ دنیا ہے جس میں ہم رہتے ہیں!

انہوں نے کہا کہ 65 B سرٹیفکیٹ کے بغیر واٹس ایپ چیٹس ناقابل قبول ہیں ڈیجیٹل شواہد کی تصدیق کرنی ہوگی پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے این ڈی پی ایس معاملے میں ایسا کہا تھا۔

بعدازاں آریان خان کے وکیل مکل روہتگی نے درخواست ضمانت پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ گرفتاری کے میمو میں گرفتاری کی صحیح بنیادیں نہیں دی گئیں۔

مون مون دھمیچا کے وکیل علی کاشف خان نے اس مباحثہ میں حصہ لیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ کروز پر ان کی موکل کو مدعو کیا گیا تھا اور وہ سومیا اور بلدیو کے ساتھ کمرے میں تھیں جب این سی بی عہدیدار مبینہ تلاشی کے لیے وہاں پہنچے تھے۔لیکن سومیا اور بلدیو کو جانے دیا گیا۔

اور وہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ وہ منشیات کون لایا جنہیں مجھ (دھمیچا)سے جوڑ دیا گیا ہے۔

اور اگر وہ یہ نہیں ڈھونڈ سکتے کہ یہ کہاں سے آیا ہے تو ان تمام 1300 لوگوں کو اس کیس میں گرفتار کیا جائے جو اس وقت کروز میں موجود تھے۔علی کاشف خان نے کہا کہ ان کی موکل منشیات کا استعمال نہیں کرتیں اور یہ کیس مکمل طور پر بناوٹی ہے۔

 

نوٹ: اس عدالتی کارروائی کی ترتیب میں ” لائیو لا ” کے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل سے مدد لی گئی ہے۔جس کے لیے لائیو لاء کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔