سورج کے اطراف” قوسِ قزح (رینبو) ” کی شکل کا دلکش ہالہ، نادر نظارہ عوام کے موبائل فونس میں قید

وقارآباد؍تانڈور :2؍جون(سحرنیوزڈاٹ کام)
آج دوپہر سخت چلچلاتی دھوپ کے دؤران بشمول حیدرآباد ریاست تلنگانہ کے مختلف مقامات پر سورج کے اطراف ایک دائرہ کی شکل میں ہالہ نظرآنا عوام کیلئے تجسس کیساتھ ساتھ آسمان پر انتہائی دلکش منظر پیش کررہا تھا۔ماہرین نے بتایا کہ یہ دائرہ 22 ڈگری پر محیط تھا۔

اس نادر و نایاب منظر کو عوام نے اپنے موبائل فونس کے کیمروں میں قید کرلیا اور دیکھتے دیکھتے اس خوبصورت منظر کے فوٹوز اور ویڈیوس سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگئے۔
چند لوگوں کیلئے یہ منظر انوکھا اور دلکش تھا تو چند لوگوں کیلئے تجسس بھرا تھا۔
اس دؤران سورج کی روشنی بھی انتہائی چلچلاتی اور چبھتی ہوئی محسوس کی گئی جسے عام آنکھوں سے دیکھنا مشکل ہی ہورہا تھا۔دوپہر 12؍بجے سے قبل یہ منظر آسمان پر سورج کے اطراف ابھر ایہ ہالہ اپنی وسعت بڑھاتا چلا جارہا تھا۔اس دلکش نظارے کے دؤران سورج کبھی بادلوں کے پیچھے چھپتا رہا تو کبھی بادل سورج کے اطراف اس ہالہ کو گھیرے ہوئے بھی نظر آئے۔

اس سلسلہ میں سحر نیوزڈاٹ کام کے نمائندہ نے ان مناظر کو اپنے موبائل کیمرہ میں قید کرلیا اور اس سلسلہ میں پرنسپل سائنٹسٹ و ہیڈ زرعی ریسرچ سنٹر تانڈور ڈاکٹر سدھاکر چورات سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ہوا میں نمی Humidity کم ہونے کی وجہ سے شاذ و نادر ایسا نظارہ دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چونکہ کئی ریاستوں میں حالیہ دنوں میں طوفان آئے تھے اور اب مانسون کا سیزن بھی شروع ہونے والا ہے تو اس نمی نے سورج کے اطراف اپنا ہالہ بنایا ہے۔

پرنسپل سائنٹسٹ اور ہیڈ زرعی ریسرچ سنٹر تانڈور ڈاکٹر سدھاکر چورات نے انکشاف کیا کہ انہوں نے بھی ایسا دلکش اور نادرمنظر گزشتہ 20-25 سالوں کے دؤران کبھی بھی نہیں دیکھا تھا۔
ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ اس کو سائنسی زبان میں Halo phenomenon کہا جاتا ہے۔
اس سوال پر کہ کیا یہ صرف آسمانی منظر ہے یا پھر سورج سے کوئی شعاع خارج ہورہی ہے؟
وقارآباد کے آسمان پر سورج کے اطراف قوس قزح کا ہالہ اور بادلوں کے غول کا نادر اور خوبصورت نظارہ۔ (ویڈیو)
ڈاکٹر سدھاکر چورات نے بتایا کہ یہ صرف آسمانی منظر ہے سورج سے کوئی شعاع خارج نہیں ہورہی ہے کیونکہ زمین سے 6-7 کلومیٹر کے بعد تو ہوا اور آکسیجن بھی نہیں ہوتی۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ایسا نظارہ ہر مقام پر نظر نہیں آتا صرف دوچار اضلاع میں یہ نظارہ دیکھا گیا ہوگا جس میں ضلع وقارآباد ضلع بھی شامل ہے۔

کیونکہ سورج جب اپنا زاویہ بدلتا ہے تو یہ منظر غائب ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر سدھاکر چورات نے بتایا کہ 25؍مئی کو ایسا ہی نظارہ بنگلور میں بھی دیکھاگیا تھا۔

اسی دؤران دو گھنٹوں کے طویل وقفہ کے بعد دوپہر دیڑھ بجے کے قریب سورج کے اطراف موجود اس قوس قزح کی شکل والے ہالہ کی وسعت اور گہرائی کم ہونا شروع ہوگئی اور دو بجے دن یہ خوبصورت منظر سورج کے اطراف سے غائب ہوگیا۔
حیدرآباد ، ظہیرآباد ، وقارآباد اور تانڈور میں بھی یہ دلکش نظارہ انتہائی واضح طور پر دیکھا گیا۔
