اپنے نوجوان لڑکوں اور خود کو سوشل میڈیا کے بلیک میلرس سے محفوظ رکھیں،فحش ویڈیو کالس کے ذریعہ بلیک میلنگ زوروں پر

اپنے نوجوان لڑکوں اور خود کو سوشل میڈیا کے بلیک میلرز سے محفوظ رکھیں
فحش ویڈیو کالس کے ذریعہ بلیک میلنگ زوروں پر،کئی لوگ ٹھگے جارہے ہیں

نئی دہلی؍حیدرآباد :
(سحرنیوزڈیسک؍خصوصی رپورٹ)

اس سے قبل ہم نے سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک،واٹس ایپ اور انسٹاگرام کے ذریعہ بھولے بھالے صارفین کو کس طرح شکار کرکے لوٹا جارہا ہے اس سے متعلق کئی مضامین کے ذریعہ ہمارے قارئین کو آگاہ کیا تھا۔

(ان تمام مضامین کی لنکس نیچے دی جارہی ہیں جسے کلک کرکے تفصیلی طورپر پڑھا جاسکتا ہے)

آج جو انکشاف ہم کرنے جارہے ہیں ہوسکتا ہے کہ اس سے وہ قارئین بخوبی واقف ہوں گے جو سوشل میڈیا کے استعمال میں ماہر ہیں یا پھر زیادہ دنوں سے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمس استعمال کررہے ہیں۔

جب سے کورونا وباء کا آغاز ہوا ہے یہ گورکھ دھندہ بڑی تیزی کے ساتھ سراٹھانے لگاہے۔(اب اس کے لیے معاشی مشکلات یا روزگار سے محرومی بھی قرار دیا جاسکتا ہے!!)

قصہ یہ ہے کہ فیس بک اور انسٹاگرام پر لڑکیوں کی ڈی پی والی آئی ڈیز کے ذریعہ پہلے فرینڈ ریکویسٹ روانہ کی جاتی ہے۔

یاد رکھیں کہ اگر آپ کو کسی لڑکی والی ڈی پی سے فرینڈ ریکویسٹ آتی ہے تو پہلا کام یہ کریں کہ اس کی ٹائم لائن پر جاکر مکمل جائزہ لیں کہ کون ہے اور کہاں سے ہے؟ اور اس کی فرینڈ لسٹ میں کتنے اور کیسے دوست شامل ہیں؟ آیا ان میں آپ کے فیس بک دوست بھی موجود ہیں؟

 

اور وہ فیس بک آئی ڈی کتنی پرانی ہے؟اور اس کی جانب سے پوسٹ کردہ مواد کیا ہے اور اس نے اب تک کتنے پوسٹ کیے ہیں؟

گزشتہ چند ماہ سے فیس بک نے Lock Your Profile# جیسی ایک نئی تکنیک متعارف کروائی ہے جس سے سوائے دوستوں کے اس تکنیک کو استعمال کرنے والوں کی تفصیلات دیکھنا ممکن نہیں ہے۔جس فیس بک آئی ڈی سے آپ کو ریکویسٹ آتی ہے تو لاک کرکے رکھنے والی آئی ڈیز سے بہت زیادہ محتاط رہیں ہاں اس میں یہ ضرور نظرآتا ہے کہ ہماری آئی ڈی میں موجود کتنے فیس بک فرینڈس اس آئی ڈی میں موجود ہیں۔

تاہم بہت سے فیس بک صارفین ان سب پر دھیان نہیں دیتے اور زیادہ تر کسی بھی لڑکی والی ڈی پی سے آنے والی فرینڈ ریکویسٹ کو فوری قبول کرلیتے ہیں۔

اب فیس بک پر ایسی ہی آئی ڈیز کے ذریعہ کئی صارفین کو بلیک میل کیے جانے کی شکایات عام ہیں زیادہ تر اس سے متعلق شکایات عزت کے خوف سے پولیس تک نہیں پہنچ پاتیں اور فیس بک صارفین کو بلیک میل کرکے ہزاروں روپئے لوٹ لیے جارہے ہیں۔

اطلاع یہ بھی ہے کہ ملک کے کئی مقامات پر سائبر کرائم پولیس میں ایسی ہزاروں شکایتیں درج کروائی گئی ہیں اور ان سب کا نشانہ نوجوان لڑکے اور مرد ہی ہوئے ہیں۔

دراصل لڑکی کے نام اور تصویر والی فیس بک اور انسٹا گرام آئی ڈی سے پہلے فرینڈ ریکویسٹ بھیجی جاتی ہے پھر دو تین دن کے بعد میسیج کرکے کہا جاتا ہے کہ فیس بک پر چاٹ کرنا مشکل ہے اپنا واٹس ایپ نمبر دیں اور باقاعدہ چند ایک کی جانب سے اپنا واٹس ایپ نمبر بھی دے دیا جاتا ہے۔کھیل یہیں سے شروع ہوتا ہے!!

چند دن واٹس ایپ پر چاٹ کے بعد ویڈیو کال کے لیے آمادہ کیا جاتا ہے اور ویڈیو کال کے دؤران فحش حرکتیں شروع کردی جاتی ہیں پھر نوجوانوں اور مرد حضرات کو اکسایا جاتا ہے کہ وہ بھی اسی قسم کی فحش حرکتوں میں شامل ہوں اور ہوتا بھی یہی ہے۔

" فیس بک پر آنے والے میسیجیس"

چند دنوں کے بعد اس قسم کی خواتین کی جانب سے پہلے ہزاروں روپیوں کا مطالبہ شروع کردیا جاتا ہے کہ یہ رقم بٹ کوائن، گوگل پے یا فون پے پر بھیج دیں ورنہ آپ کی تمام تنہائی والی اب تک کی ویڈیو چاٹ کے دؤران اسکرین شاٹس کے ذریعہ لی گئیں فحش فوٹوز یا پھر کسی اور موبائل کی مدد سے لی گئیں ویڈیوس،فیس بک اور انسٹاگرام کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر وائرل کردی جائیں گی۔

اس دھمکی سے خوف زدہ کئی مرد اپنی عزت بچانے کی غرض سے اس مطالبہ کو مان بھی لیتے ہیں اور بڑی رقم ادا کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

دراصل اس کام میں وہ ایک خاتون ہی ملوث نہیں ہوتی بلکہ اب یہ کاروبار اب مافیا کی شکل لے چکا ہے اس خاتون کے پیچھے مرد بھی ہوتے ہیں! جو اس خاتون کے ساتھ کی گئی فحش ویڈیو کالس کے اسکرین شارٹس اور دوسرے موبائل سے اس موبائل پر چل رہے ویڈیوکالس کی ویڈیو لے لیتے ہیں ویسے بھی اب واٹس ایپ ویڈیو کال ریکارڈرس بھی موجود ہیں۔

دو دن قبل ڈپٹی کمشنر دہلی پولیس (روہنی) پرنوتیال نے میڈیا کو بتایا کہ راجستھان کے ضلع بھرت پور کے میوات کے رہنے والے جہل (25) اور مناج (23) کو راجستھان کے میوات میں دھاوےمنظم کرتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

جن کے خلاف دہلی کے ایک شخص نے ماہ جولائی میں بیگم پور تھانے میں شکایت درج کروائی تھی کہ انہوں نے فیس بک پر ایک خاتون کی فرینڈ ریکویسٹ قبول کی دونوں نے ایک دوسرے سے موبائل نمبروں کا تبادلہ کیا اور واٹس ایپ پر بات کرنا شروع کردیا۔

واٹس ایپ پر گفتگو کے دوران خاتون نے شکایت کنندہ کو کچھ جنسی سرگرمیوں پر اکسایا اور اس کی ویڈیو بنائی۔خاتون نے شکایت کنندہ کو دھمکی دی اور ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کے لیے 15 ہزار روپے طلب کیے شکایت کنندہ نے رقم ادا کی۔

پھر اسے ایک اور شخص کا فون آیا جس نے خود کو دُرگاپور کے سائبر سیل کا افسر بتاتے ہوئے شکایت کنندہ کو ہدایت دی کہ وہ یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس سے ان کا فحش ویڈیو فوری طور پر ڈیلیٹ کروائیں۔

جب شکایت کنندہ نے نام نہاد یوٹیوبر Youtuber# سے رابطہ پیدا کیا جس نے ویڈیو پوسٹ کی تھی،اس نے بھی ویڈیو کو حذف کرنے کیلئے رقم مانگی۔دہلی پولیس کے مطابق #یہ دونوں اب تک اسی طریقہ سے 250 سے زائد افراد سے لاکھوں روپئے وصول کر چکے ہیں۔یاد رہے کہ ایسے معاملات میں اگر بلیک میل نہیں کیا جاتا تو پھرایسے ویڈیوس PornSites# پر اپ لوڈ کرکے بھی رقم کمائی جاتی ہے!!

ایسی شکایتیں اب عام ہوگئی ہیں اس لیے فیس بک،انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر اس طرح کے جھانسوں کا شکار ہونے والے اور ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کواستعمال کرنےوالے صارفین محتاط رہیں اور بالخصوص ایسےمعاملات میں اپنے لڑکوں کے موبائل فونس پر گہری نظر رکھیں ایسے معاملات کا شکار کئی نوجوان پریشان ہیں جو ان بلیک میلرس کو وقفہ وقفہ سے بلیک میل BlackMail# کرتے ہوئے ڈیمانڈ کی جانے والی اتنی بڑی رقم ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہوتے۔

اب آئیں اس سے ہٹ کرانٹرنیٹ،انسٹاگرام اور فیس بک کی مدد سے واٹس ایپ پر بڑےپیمانے پر چل رہے ایک اور گورکھ دھندہ کی طرف!

 

دراصل انٹرنیٹ پر کئی ایسے موبائل نمبرس اور ویب سائٹس دستیاب ہیں یا پھر اسی فیس بک اور انسٹا گرام کےذریعہ رابطہ میں آجاتے ہیں جو اپنی جانب سے فحش ویڈیو پیش کرنے کا آفر دیتے ہیں۔ اور اس کے لیے باقاعدہ الگ الگ رقم بھی طئے شدہ ہوتی ہے۔

اس کےلیے گوگل پے،فون پے یا پھر پے ٹی ایم نمبر دیاجاتا ہے اس طریقہ سے بھی نوجوانوں اور مردوں کو لوٹا جارہا ہے اس سے بھی محتاط رہنے اور اپنے لڑکوں کے پاس اگر گوگل پے، فون پے یا پے ٹی ایم اکاؤنٹس موجود ہوں تو باقاعدہ طور پر انہیں چیک کرتے رہیں کہ کتنی رقم کب،کس کو اور کیوں بھیجی گئی؟ ان تمام منی ٹرانسفر ایپس کی Transection History# ڈیلیٹ کرنا ممکن نہیں ہے۔

افسوس کی بات یہ بھی ہےکہ موبائل گیم کھیلنے کےدؤران بھی کئی فحش ویب سائٹس،سیکس چاٹ،سیکس ویڈیو کالز والے ایپس کے اشتہارات بچوں کی نظر میں آجاتے ہیں۔اس طرح کے ایپس بھی بچوں کے موبائل فونس میں یا اپنے موبائل فونس میں چیک کرتے رہیں۔

۔۔۔

………. دیگر دھوکہ دہی کے واقعات کی تفصیلات اس لنک پر …….

فیس بک استعمال کرنے والے ہوشیار
جعلی اکاؤنٹ کے ذریعہ رشتہ داروں اور دوستوں سے ہنگامی حالات کے نام پر رقم منگوانے کے معاملات میں اضافہ
جعلی اکاؤنٹ یا ہراساں و پریشان کرنے والوں کی فیس بک آ ئی ڈیز کو کس طرح ڈیلیٹ کروایا جاسکتا ہے!

فیس بک استعمال کرنے والے ہوشیار، جعلی اکاونٹ کے ذریعہ رقم طلب کرنے کے معاملات میں اضافہ، صارفین پریشان