خطاوار سمجھے گی دنیا تجھے
اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے
بشیر بدر : ذاتی تجربات و مشاہدات کو فنکارانہ انداز میں لفظوں کا پیراہن عطا کرنے والے
نامور، پدما شری اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ 89 سالہ بزرگ شاعر کی سالگرہ پرخصوصی مضمون
حیدرآباد : 15۔فروری (سحر نیوز ڈیسک)
بشیر بدر اردو شاعری کی دنیا کا ایک معتبر نام،جن کے اشعار کسک،ملال،محرومی، درد اور حوصلہ کی دبیز چادر میں پوشیدہ ہیں۔بشیر بدر کی شاعری سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کے تلخ اور درد میں ڈوبے ہوئے تجربوں کا نچوڑ ہیں۔پدماشری اور ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ یافتہ 89 سالہ ممتاز بزرگ شاعر جنہوں نے بیسویں صدی کے آخری چار دہوں میں برصغیر سمیت اردو کی نئی بستیوں میں اپنی منفرد شاعری سے خود کو منوایا۔
ڈاکٹر بشیر بدر کو 1999ء میں حکومت ہند کی جانب سے "پدما شری ایوارڈ ” سے سرفراز کیے گئے تھے۔جبکہ 1999ء ہی میں ان کی شاعری پر انہیں "ساہیتہ اکاڈمی ایوارڈ ” بھی عطا کیا گیا۔ان کے علاوہ بھی بشیر بدر نے کئی ایوارڈز حاصل کیے۔
غزل کے حوالے سے اردو کے عظیم شاعر بشیر بدر ساہتیہ اکیڈمی سے شائع ہونے والی اپنی کتاب ” آس ” میں لکھتے ہیں کہ
” غزل کے حقیقی اشعار بچوں کی معصومیت ہیں جن میں ہزاروں سال کے بزرگ مسکراتے ہیں
اور پھر ساٹھ سالہ تجربہ کار ذہن و دل میں پھول جیسے بچے کچھ حاصل کرنے کی ضد میں مچلنے لگتے ہیں۔
شاید ہی کوئی لمحہ ایسا ہو جب سیاسی ذمہ داریوں اور عظمتوں کی حامل شخصیت اندرا گاندھی نے
اپنی ایک رازدار سہیلی ریتا شکلا ٹیگور،شیکھرپتھ، رانچی کو اپنے دل کا کوئی احساس
ان کے اس شعر کے وسیلے سے وابستہ کیا تھا۔”
اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہوجائے
بشیر بدر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر آج اردو کا سب سے بڑا شاعر مانا جاتا ہے۔ان کی شہرت اورمقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اردو زبان کے علاوہ ہندی زبان کے جاننے والے لوگ بھی بشیر بدرؔ کی شاعری سے بخوبی واقف ہیں۔ہندی رسم الخط میں ان کی تقریباً 15 کتابیں ان کی مقبولیت کاثبوت ہیں۔موضوعات کاتنوع،ڈکشن کی ندرت،علامات کی تازگی،امیجری کاحسن،اظہار خیال پرفنکارانہ دسترس اور سہل ممتنع نے ان کو اپنے عہد کا منفرد و ممتاز شاعر بنا دیا ہے۔
بشیر بدر کے اشعار میں آنسو،غم، خوشبو، پھول،سورج،پتھر اور محبت وغیرہ لفظوں نے پیکریت، ڈرامائیت اور جمالیاتی تجسیم میں جو کلیدی رول ادا کیا ہے اس کے سبب پیداہونے والی تازہ کاری نے ان کے غزلیہ اسلوب کو ایک نئی پہچان عطا کردی ہے۔بشیر بدرؔ کا ظاہری سراپا،ان کی پرکشش شخصیت اور ان کی دلچسپ و دل افروز شبنمی گفتگو اپنے مخاطب کو اولین ملاقات میں ہی اپنا گرویدہ بنالیتی ہے۔بشیر بدر نے زندگی کے اچھے اور بُرے دونوں رخ قریب سے دیکھے ہیں۔وہ ایک حساس انسان ہیں۔
اردو ادب کی دنیا میں ڈاکٹر بشیر بدر کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔بشیر بدر جہاں ایک استقامت آشنا، صاحب اسلوب تخلیق کار ہیں وہیں بحیثیت شاعر دنیا میں ان کا اعتبار، وقار اور افتخار قائم ہوچکا ہے۔شعری،فنی،جمالیاتی،عشقیہ اور نئی غزل کی حقائق وحقانیت کا جو منظر نامہ وہ گزشتہ ربع صدی سے سپرد تحریر کرتےرہے ہیں وہ جدید غزل اور اس سے وابستہ دوسرے علائم ور موزنیز قدیم تہذیب کے ساتھ ان کے داخلی و باطنی رشتے کی شہادت و صداقت کے لیے کافی ہیں۔
ڈاکٹربشیر بدر 15 فروری 1935ء کو ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں پیدا ہوئے۔حلیم کالج کانپور اوراسلامیہ کالج اٹاوہ میں تعلیم حاصل کی۔والد کے انتقال کےبعد کم عمری ہی میں ملازمت اختیارکرلی۔کیونکہ معاشی اعتبارسے ان کا خاندان کمزورتھا۔خانگی طور پر انہوں گرائجویشن کی تکمیل کی۔اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم۔اے کیا۔امتیازی کامیابی کی وجہ سےان کو یونیورسٹی کا میڈل اور رادھا کرشنن انعامات حاصل ہوئے۔زمانہ طالب علمی میں ہی علی گڑھ میگزین کے مدیر رہے۔مسلم یونیورسٹی سے جدید غزل پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹر آف فلاسفی کی ڈگری بھی حاصل کی۔درس و تدریس اور شعروشاعری ان کے خاص مشاغل رہے۔
ان کے اشعار میں دردمندی،کسک اور ملال کی جو دبیز لہر پوشیدہ ہے،وہ ان کے درد بھرے تجربات کی دین ہے۔درد و کسک کے اسی احساس نے ان سے روح و دل میں اتر جانے والے ایسے پُر اثر اشعار کہلوائے ہیں جوہر حساس دل کو متاثر کرتے اور اپنا ہم نوا اور معترف بنالیتے ہیں۔مثال کے طور پر یہ اشعار ملاحظہ کیجئے؎
زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
٭٭
اسی لیے تو یہاں اب بھی اجنبی ہوں میں
تمام لوگ فرشتے ہیں آدمی ہوں میں
٭٭
کبھی کبھی تو چھلک پڑتی ہیں یوں ہی آنکھیں
اداس ہونے کا کوئی سبب نہیں ہوتا
٭٭
اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا
ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے
٭٭
کبھی میں اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے نہیں الجھا
مجھے معلوم ہے قسمت کا لکھا بھی بدلتا ہے
٭٭
مخالفت سے مری شخصیت سنورتی ہے
میں دشمنوں کا بڑا احترام کرتا ہوں
٭٭
غزلوں کا ہنر اپنی آنکھوں کو سکھائیں گے
روئیں گے بہت لیکن آنسو نہیں آئیں گے
٭٭
وہ بڑا رحیم و کریم ہے مجھے یہ صفت بھی عطا کرے
تجھے بھولنے کی دعا کروں تو مری دعا میں اثر نہ ہو
٭٭
یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں
تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا
٭٭
اُداسی کا یہ پتھر آنسوؤں سے نم نہیں ہوتا
ہزاروں جگنوؤں سے بھی اندھیرا کم نہیں ہوتا
کبھی برسات میں شاداب بیلیں سوکھ جاتی ہیں
ہرے پیڑوں کے گرنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا
٭٭
انسان اپنے آپ میں مجبور ہے بہت
کوئی نہیں ہے بے وفا افسوس مت کرو
٭٭
ہر چیز ہے بازار میں،اِس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے
عزت گئی شہرت ملی، رُسوا ہوئے چرچا ہوا
٭٭
جس دن سے چلا ہوں،مِری منزل پہ نظر ہے
آنکھوں نے کبھی مِیل کا پتھر نہیں دیکھا
بے وقت اگر جاؤنگا سب چونک پڑیں گے
اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا
بشیر بدر نے اپنے ابتدائی مجموعوں امیج اور اکائی سے فنکارانہ صلاحیتوں کالوہا منوا لیا تھا۔مگر آمد تک آتے آتے ان کے اندر کامصور شاعر اس طرح ابھر کر سامنے آگیا کہ اردو کےسب سےسخت ناقد ڈاکٹرمحمدحسن کو بھی یہ کہنا پڑاکہ”غزل گو کی حیثیت سے بشیر بدرؔ کی صلاحیتوں پر ایمان نہ لانا کفر ہے۔”
بشیر بدر احساسات اور نازک جذبات کے شاعر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کا شعری سرمایہ غزلوں پرمشتمل ہے۔بشیر بدر کی غزلوں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ عصری مسائل کتنے ہی کرخت ہوں اور چاہے کسی بھی نوعیت کے ہوں وہ جمالیاتی لباس میں خوش اسلوبی سے ڈھالے ہوتے ہیں۔بشیر بدر نے زندگی کی دھوپ بھی دیکھی اور چاندنی بھی۔ان کا دامن آگ سےبھی آشناہے اورپھولوں سےبھی،اس کا اظہار ان کی غزلوں میں غیر معمولی شدت اور کثرت سے ملتا ہے۔اس لیے بجاطور پر انہیں زندگی کی دھوپ اور احساسات کے پھولوں کا شاعر کہاجاسکتا ہے۔بشیر بدر کی غزلیں اور ویڈیوز یہاں پیش ہیں؎
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
اور جام ٹوٹیں گے اس شراب خانے میں
موسموں کے آنے میں موسموں کے جانے میں
ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں
عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں
فاختہ کی مجبوری یہ بھی کہہ نہیں سکتی
کون سانپ رکھتا ہے اس کے آشیانے میں
دوسری کوئی لڑکی زندگی میں آئے گی
کتنی دیر لگتی ہے اس کو بھول جانے میں
٭٭٭٭٭٭٭
خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے
خطاوار سمجھے گی دنیا تجھے
اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے
ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں
صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے
غلامی کو برکت سمجھنے لگیں
اسیروں کو ایسی رہائی نہ دے
خدا ایسے احساس کا نام ہے
رہے سامنے اور دکھائی نہ دے
٭٭٭٭٭٭٭
پرکھنا مت پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا
کسی بھی آئنے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا
بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا
جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا
ہزاروں شعر میرے سوگئے کاغذ کی قبروں میں
عجب ماں ہوں کوئی بچہ مرا زندہ نہیں رہتا
محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے
کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا
٭٭٭٭٭٭٭٭
نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی
بڑی آرزو تھی ملاقات کی
اجالوں کی پریاں نہانے لگیں
ندی گنگنائی خیالات کی
میں چپ تھا تو چلتی ہوا رک گئی
زباں سب سمجھتے ہیں جذبات کی
مقدر مری چشم پر آب کا
برستی ہوئی رات برسات کی
کئی سال سے کچھ خبر ہی نہیں
کہاں دن گزارا کہاں رات کی
زندگی کی دھوپ،احساسات کے پھول،نئی غزل کے اسلوب و آہنگ اور اس کے حسن کی چاندنی کا یہ شاعر دراصل منفرد رنگ کا، یادوں کے اجالوں کا بھی شاعر ہے؎
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہوجائے
بشیر بدر کے اس خوبصورت شعر نے مقبولیت اور پسندیدگی کا ایک نیاعالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔بشیر بدر نے محبت کو ساری دنیا میں عام کرنے کے لیے محبت کا پیغام گھر گھر پہنچانے کے لیے غزل کو وسیلہ اظہار بنایا اور گھوم پھر کر زندگی کے سارے تجربات سے گزرنے کے بعد بھی انہوں نےمحبت کا دامن نہیں چھوڑاہے۔بشیر بدر کی شاعری پر یوں تو دنیا کےبڑے نقادوں نے اور ان کے چاہنے والوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔جن میں پروفیسر شمیم حنفی، آل احمد سرور، گوپی چند نارنگ، محمدحسن، نظام صدیقی، شارب ردولوی،ڈاکٹرجمیل جالبی،شہریار، ندا فاضلی،مخمور سعیدی اور دیگر شامل ہیں۔
بشیر بدر کے اشعار میں سادگی کا حسن ہے،ان کی لفظیات اور اسلوب و ادا روایت سے گہرے طور پر منسلک ہونے کے باوصف تازہ کاری پر دلالت کرتا ہے۔ بشیر بدر نے غزل کومقبولیت کے نئے دائروں تک پہنچانے اور خود اس کے دامن کو کشادگیوں مزید گہرا کر دیا۔
بشیر بدر اپنی ذات سے ایک دل نوازشخصیت کےمالک بھی ہیں،خلوص،محبت اور سادہ لوحی ان کے کردار کاحصہ ہیں۔مگرجہاں تک فنی مہارتوں کا تقاضہ ہے وہ ایک ذہین فنکار ہیں ان کی اس قابل رشک شہرت اور مقبولیت کے تانے بانے میں ان کی اس ذہانت کے ریشمی دھاگوں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔جو بنیادی طور پر عوامی نفسیات کے تاروں کواس طرح چھیڑتے ہیں کہ کسی جل ترنگ کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔بشیر بدر کے مزید چند مشہور اشعار یہاں پیش ہیں؎
پتھر مجھے کہتا ہے میرا چاہنے والا
میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا
٭٭
یہ کسک دل کی دل میں دبی رہ گئی
زندگی میں تمہاری کمی رہ گئی
٭٭
آنکھوں میں رہا، دل میں اتر کر نہیں دیکھا
کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا
٭٭
اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا
مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا
٭٭
سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہوجائے گا
اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا
٭٭
تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا
مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گاو
٭٭
گھڑی دو گھڑی مجھ کو پلکوں پہ رکھ
یہاں آتے آتے زمانے لگے ہیں
٭٭
یارو نئے موسم نے یہ احسان کیے ہیں
اب یاد مجھے درد پرانے نہیں آتے
٭٭
ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
تمہیں جس نے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو
مجھے اشتہار سی لگتی ہیں یہ محبتوں کی کہانیاں
جو کہا نہیں وہ سنا کرو، جو سنا نہیں وہ کہا کرو
٭٭
سوچو تو ساری عُمر محبت میں کٹ گئی
دیکھو تو اک پل بھی وہ ہمکو نہیں مِلا
٭٭
حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا
جو دل جلائے بہت پھر بھی دل رُبا ہی لگے
٭٭
یہ سوچ لو اب آخری سایہ ہے محبت
اس در سے اٹھوگے تو کوئی در نہ ملے گا
٭٭
چادرِ عجز گھٹا دیتی ہے قامت میرا
میں کبھی اپنے برابر نہیں ہونے پاتا
٭٭
احباب بھی غیروں کی ادا سیکھ گئے ہیں
آتے ہیں مگر دل کو دکھانے نہیں آتے
٭٭
پھول برسے کہیں شبنم کہیں گوہر برسے
اور اس دل کی طرف برسے تو پتھر برسے
٭٭
بہت عجیب ہے ،یہ قربتوں کی دوری بھی
وہ میرے ساتھ رہا ،اور مجھے کبھی نہ ملا
٭٭
اسی شہر میں کئی سال سے مرے کچھ قریبی عزیز ہیں
انہیں میری کوئی خبر نہیں مجھے ان کا کوئی پتا نہیں
٭٭
وہ شاخ ہے نہ پھول اگر تتلیاں نہ ہوں
وہ گھر بھی کوئی گھر ہے جہاں بچیاں نہ ہوں
٭٭
اگر یقیں نہیں آتا تو آزمائے مجھے
وہ آئینہ ہے تو پھر آئینہ دکھائے مجھے
عجب چراغ ہوں دن رات جلتا رہتا ہوں
میں تھک گیا ہوں ہوا سے کہو بجھائے مجھے
٭٭
میں جس کی آنکھ کا آنسو تھا اس نے قدر نہ کی
بکھر گیا ہوں تو اب ریت سے اٹھائے مجھے
٭٭
اس طرح بشیر بدر کی شاعری کےکئی رخ اور کئی العبادہیں۔جن میں فکر کی تابش بھی ہے اور تازگی بھی،فن کی جدت بھی ہے اور ندرت بھی ۔اور ایک بات یہاں یقیناً قابل ذکر ہے وہ یہ کہ بشیر بدر بات کو خوبصورتی سے اور نئے انداز سے کہنےکےعادی ہیں اس پر ان کا تجربہ مشاہدہ اور احساس کا نیاپن دو آتشہ کا کام کر جاتا ہے۔مثال کے طورپر ؎
کس کے آنسو چھپے ہیں پھولوں میں
چومتا ہوں تو ہونٹ جلتے ہیں
غزل کو نیا خون عطاکرنے میں وہ اپنے دور کےتمام شعراءکے پیش رو ہیں اور بھی وہ صنف سخن ہے جس میں ان کےذوق ادب کی عظمت کا راز پنہاں ہے اور ان کی انفرادیت کی شان نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ساتھ ہی ساتھ بشیر بدر اپنے رنگ کے منفرد نقاد بھی ہیں۔
بشیر بدر نے اپنے اشعارکے ذریعہ قوموں کے درمیان آپسی میل محبت اور بھائی چارہ کی بھی وکالت کی ہے۔پیش ہیں ان کے یہ شعر؎
سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں
آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت
٭٭
نئے دؤر کے نئے خواب ہیں نئے موسموں کے نئے گلاب ہیں
یہ محبتوں کے چراغ ہیں انہیں نفرتوں کی ہوا نہ دے
٭٭
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہوجائیں تو شرمندہ نہ ہوں
آج دنیا جس افراط اور تفریط میں گھری ہوئی ہے اس سے یہ قوی امکان ہے کہ تمام مذاہب اور تہذیبیں اپنی قدریں کھودیں گی! اور بے راہ روی کی فاحشہ مچھلی ہر جگہ حکمراں ہوگی۔اس واضح مستقبل کی عکاسی بشیر بدر نے یوں کی ہے ؎
سمندر سوکھ جائیں گے اور اِک فاحشہ مچھلی
ہمارے ساحلوں اور جنگلوں کی حکمران ہوگی !!
اس طرح ان کی شخصیت بڑی تہہ دار ہے۔وہ ایک فطری شاعر ہیں،انہوں نے بڑی گہرائی سے زندگی کا مطالعہ کیا ہے۔بشیر بدر بنیادی طور پر حسن اور کیفیت کے شاعر ہیں۔یہی وہ چیزیں ہیں جو انہیں دیگر شعراءکے مقابلہ اور اردو زبان میں نمایاں کرتی ہیں۔بشیر بدر کی شاعری ان کی شخصیت کا اظہارہے۔ان کے اشعار ان کی ذہنی پیکار کی حقیقی عکاسی کرتے ہیں۔کیونکہ انہوں نےاپنے جذبات تجربات اوراحساسات کونہایت کامیابی اور خوش اسلوبی کے ساتھ شعری پیکر عطا کیے ہیں۔
نامور غزل گلوکار جگجیت سنگھ نے بشیر بدر کی کئی غزلوں کو اپنی مخملی آواز میں گا کر انہیں مزید عروج پر پہنچا دیا۔
مجھ سے بچھڑ کے خوش رہتے ہو
میری طرح تم بھی جھوٹے ہو
اک دیوار پہ چاند ٹکا تھا
میں یہ سمجھا تم بیٹھے ہو
اجلے اجلے پھول کھلے تھے
بالکل جیسے تم ہنستے ہو
مجھ کو شام بتا دیتی ہے
تم کیسے کپڑے پہنے ہو
دل کا حال پڑھا چہرے سے
ساحل سے لہریں گنتے ہو
تم تنہا دنیا سے لڑو گے
بچوں سی باتیں کرتے ہو
وہ نہیں ملا تو ملال کیا،جو گزر گیا سو گزر گیا
اُسے یاد کرکے نہ دل دُکھا،جو گزر گیا سو گزر گیا
نہ گلہ کیا،نہ خفا ہوئے ، یونہی راستے میں جدا ہوئے
نہ تُو بے وفا،نہ میں بے وفا ، جو گزر گیا سو گزر گیا
تجھے اعتبار و یقین نہیں،نہیں دنیا اتنی بُری نہیں
نہ ملال کر،میرے ساتھ آ،جو گزر گیا سو گزر گیا
وہ وفائیں تھیں کہ جفائیں تھیں،یہ نہ سوچ کس کی خطائیں تھیں
وہ تیرا ہے اس کو گلے لگا،جو گزر گیا سو گزر گیا
سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا
اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا
ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے
جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا
کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہہ دیا
تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہو جائے گا
میں خدا کا نام لے کر پی رہا ہوں دوستو
زہر بھی اس میں اگر ہوگا دوا ہو جائے گا
سب اسی کے ہیں ہوا خوشبو زمین و آسماں
میں جہاں بھی جاؤں گا اس کو پتہ ہو جائے گا
تلوار سے کاٹا ہے پھولوں بھری ڈالوں کو
دنیا نے نہیں چاہا ہم چاہنے والوں کو
میں آگ تھا پھولوں میں تبدیل ہوا کیسے
بچوں کی طرح چوما اس نےمیرے گالوں کو
اخلاق، وفا ،چاہت سب قیمتی کپڑے ہیں
ہر روز نہ اوڑھا کر ان ریشمی شالوں کو
برسات کا موسم تو لہرانے کا موسم ہے
اڑنے دو ہواؤں میں بکھرے ہوئے بالوں کو
چڑیوں کے لیے چاول پودوں کے لیے پانی
تھوڑی سی محبت دے ہم چاہنے والوں کو
اب راکھ بٹوریں گے الفاظ کے سوداگر
میں آگ پہ رکھ دوں گا نایاب رسالوں کو
مولا مجھے پانی دے میں نے نہیں مانگا تھا
چاندی کی صراحی کو سونے کے پیالوں کو
٭٭٭٭٭٭٭
وہ اپنے گھر چلا گیا افسوس مت کرو
اتنا ہی اس کا ساتھ تھا افسوس مت کرو
انسان اپنے آپ میں مجبور ہے بہت
کوئی نہیں ہے بے وفا افسوس مت کرو
اس بار تم کو آنے میں کچھ دیر ہو گئی
تھک ہار کے وہ سو گیا افسوس مت کرو
دنیا میں اور چاہنے والے بھی ہیں بہت
جو ہونا تھا وہ ہو گیا افسوس مت کرو
اس زندگی کے مجھ پہ کئی قرض ہیں مگر
میں جلد لوٹ آؤں گا افسوس مت کرو
یہ دیکھو پھر سے آ گئیں پھولوں پہ تتلیاں
اک روز وہ بھی آئے گا افسوس مت کرو
وہ تم سے آج دور ہے کل پاس آئے گا
پھر سے خدا ملائے گا افسوس مت کرو
بے کار جی پہ بوجھ لئے پھر رہے ہو تم
دل ہے تمہارا پھول سا افسوس مت کرو
٭٭٭٭٭٭٭
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بےوفا نہیں ہوتا
جی بہت چاہتا ہے سچ بولیں
کیا کریں حوصلہ نہیں ہوتا
رات کا انتظار کون کرے
آج کل دن میں کیا نہیں ہوتا
ڈاکٹر بشیر بدر نے زائداز 60 برس اپنے منفرد کلام اور مشاعروں کے ذریعہ پوری دنیا میں حکمرانی کی۔ان کا پڑھنے کا انداز ہی منفرد ہوا کرتا تھا۔انٹرنیٹ کی آمد سے قبل بشیر بدر کی شہرت کا عالم یوں تھاکہ ادھر بشیر بدر اپنی شاعری کے ساتھ مائیک پر آتے اُدھر ہزاروں لوگ اپنے ہاتھوں میں کاغذ قلم لے کر بیٹھ جاتے۔یہ وہ زمانہ تھا جب موبائل کا دور نہیں آیا تھا۔
بشیر بدر کے مزید چنندہ اشعار یہاں پیش ہیں ؎
٭٭٭٭٭٭
شہرت کی بلندی بھی دو پل کا تماشہ ہے
جس شاخ پر بیٹھے ہوں ٹوٹ بھی سکتی ہے
٭٭
سو خلوص باتوں میں سب کرم خیالوں میں
بس ذرا وفا کم ہے تیرے شہر والوں میں
٭٭
سرِ راہ کچھ بھی کہا نہیں کبھی کے گھر میں گیا نہیں
مَیں جنم جنم سے اُسی کا ہوں اسے آج تک یہ پتہ نہیں
٭٭
یہ تنک مزاجی تو خیر اس کی فطرت میں ہے
ورنہ اس نے چاہت بھی ہم کو انتہائی دی
٭٭
ہم نے تو بازار میں دُنیا فروخت اور خریدی ہے
ہم کو کیا معلوم کسی کو کس طرح چاہا جاتا ہے
٭٭
یہ کسک دل کی دل میں چبھی رہ گئی
زندگی میں تمہاری کمی رہ گئی
٭٭
میں نے دریا سے سیکھی ہے پانی کی پردہ داری
اوپر اوپر ہنستے رہنا گہرائی میں رو لینا
لیکن اس دؤر میں بشیر بدر کا بہت سارا کلام انٹرنیٹ پر موجود ہے،فیس بک پر تو بشیر بدر کے کلام کا خزانہ بھر دیا گیا ہے۔وہیں یوٹیوب پر بشیر بدر کی مشاعروں میں شرکت کے اور ان کی غزلوں کو اپنی آواز دینے والے مشہور غزل گلوکاروں کے ویڈیوز کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔
بشیر بدر کی تصانیف اکائی(1969،شعری مجموعہ)،امیج شعری مجموعہ 1972)، بیسویں صدی میں غزل (1974)،آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ (1982) اور آمد (شعری مجموعہ 1986) میں شائع ہوئے۔
مدھیہ پردیش کے بھوپال میں مقیم ڈاکٹر بشیر بدر کی شادی راحت بدر سے ہوئی جن سے ان کے چار بچے (تین بیٹے ،ایک بیٹی) ہیں۔بڑے فرزند نصرت بدر جو فلموں میں گیت لکھتے تھے کا چار سال قبل انتقال ہو گیا۔زمانہ طالب علمی سے لے کر ملازمت کے دوران وہ علی گڑھ یونیورسٹی میں مقیم رہے۔ایم۔اے اردو کے نصاب میں ان کا کلام شامل ہے۔دنیاکے جن علاقوں میں اردو پڑھی،لکھی بولی اورسمجھی جاتی ہے وہاں پر ڈاکٹر بشیر بدر کا نام بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔
افسوس کہ نامور شاعر بشیر بدر گزشتہ چند سال سے”ڈمینشیا” کے مرض میں کا شکارہوگئے ہیں۔جس کے بعد سے وہ بھوپال کی اپنی رہائش گاہ تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔اس سلسلہ میں پانچ سال قبل این ڈی ٹی وی NDTV# کے پرائم ٹائم شو میں نامور و بیباک صحافی رویش کمار نے بشیر بدر کے متعلق ایک مختصر اطلاع نشر کی تھی۔


مضمون نگار: مسرت حمزہ لون
رحمت آباد، رفیع آباد، بارہمولہ،کشمیر
موبائل نمبر: 7780952197
ترتیب و پیشکش، کلام اور ویڈیوز کا انتخاب : یحییٰ خان
Mail: khanreport@gmail.com
Facebook : @khanyahiya276
Instagram: @khan_yahiya276
Youtube: @Yahiya_Khan276
Twitter: @khanyahiya

