صدرنشین ضلع پریشد وقارآباد سنیتا مہیندرریڈی کی کار پرخود ٹی آرایس پارٹی کارکنوں کا پتھراؤ اور گھیراؤ، پارٹی ہائی کمان سے شکایت کا اعلان، پولیس میں شکایت

صدرنشین ضلع پریشد وقارآباد سنیتا مہیندرریڈی کی کار پر
خود ٹی آر ایس پارٹی کارکنوں کا حملہ اور گھیراؤ، کار کے شیشے توڑ دئیے
پارٹی ہائی کمان سے شکایت کا اعلان،پولیس میں شکایت

وقارآباد:13۔جولائی(سحرنیوزڈاٹ کام)

وقارآبادضلع میں برسر اقتدار ٹی آر ایس پارٹی کے دو گروپوں کے درمیان جاری رسہ کشی اور پارٹی میں گروپ بندی عروج پر پہنچ چکی ہے۔
پارٹی قائدین اور کارکنوں کے درمیان جاری رسہ کشی آج اس وقت کھل کر واضح ہوگئی جب صدرنشین ضلع پریشد وقارآباد مسزپی۔سنیتا مہیندر ریڈی کی کار پر خود ٹی آر ایس پارٹی کے قائدین اور کارکنوں نے حملہ کرتے ہوئے ان کی کار کے شیشے توڑ دئیے۔

اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق صدرنشین ضلع پریشد وقارآباد مسز پی۔سنیتا مہیندرریڈی آج مرپلی منڈل میں ایک مہیلا بھون کی تعمیر کے لیے سنگ بنیاد رکھنے پہنچی تھیں۔جہاں ٹی آر ایس قائدین اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے ان کی کار کو روک دیا اور ان کی کار پر حملہ کرتے ہوئے شیشے توڑدئیے ۔جب وہ کار سے اتر کرسنگ بنیاد رکھنے جارہی تھیں تو ان کا گھیراؤ کیا گیا۔ٹی آرایس پارٹی کے دونوں گروپوں میں دھکم پیل بھی ہوئی۔

” اس مکمل واقعہ کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "

پارٹی کے اس گروپ کا الزام تھا کہ رکن اسمبلی وقارآباد ڈاکٹر میتکو آنند کو تقریب میں مدعو نہ کرناان کی بےعزتی کے مترادف ہے۔اس موقع پر احتجاج کرنے والے ٹی آر ایس کارکن رکن اسمبلی وقارآباد و صدر ٹی آر ایس وقارآباد ضلع ڈاکٹر میتکو آنند کی تائید میں نعرے بھی لگاتے ہوئے رقص کررہے تھے۔ 

اس واقعہ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدرنشین ضلع پریشد وقارآبادمسزپی۔سنیتا مہیندرریڈی نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس واقعہ کے پیچھے اور ذمہ دار رکن اسمبلی وقارآباد و صدر ٹی آر ایس پارٹی وقارآباد ضلع ڈاکٹر میتکو آنند ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس واقعہ کی شکایت پارٹی ہائی کمان سے کریں گی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی کار پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔

ساتھ ہی مسز پی۔سنیتا مہیندرریڈی نے رکن اسمبلی وقارآباد کومشورہ دیا کہ وہ اپنا طرز عمل تبدیل کریں اس سے خود پارٹی کا نقصان ہوگا۔صدر نشین ضلع پریشد وقارآباد مسزپی۔سنیتا مہیندرریڈی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ضلع میں مختلف نامزد اور پارٹی کے عہدے تلنگانہ کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے بجائے رکن اسمبلی وقارآباد و صدر ٹی آر ایس پارٹی وقارآبادضلع ڈاکٹر میتکو آنند یہ عہدے رئیل اسٹیٹ کے کاروباریوں کو دے رہے ہیں۔

انہوں نے دو ٹوک لہجہ میں کہاکہ پارٹی میں کسی کی بھی من مانی ہرگز نہیں چلے گی اور پروٹوکال قواعد پر کیسےعمل کیا جاتا ہے وہ اس سے بخوبی واقف ہیں سنیتا مہیندرریڈی نے سوال کیا کہ خود ان کی پارٹی کے قائدین اور کارکنوں کی جانب سے بناکسی وجہ ان کی کار پر حملہ اور ان کے گھیراؤ کی وجہ کیا ہے؟

اس واقعہ سے برہم اور دلبرداشتہ مسزپی۔سنیتا مہیندرریڈی جو کہ دو مرتبہ صدرنشین ضلع پریشدمتحدہ ضلع رنگاریڈی اور اب وقارآباد ضلع پریشد کی صدارت پر فائز رکن قانون سازکونسل وسابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی کی اہلیہ ہیں نے سوال کیا کہ یہ کونسی سیاست ہے؟انہوں نے واضح طورپر کہا کہ وہ ہرگز کسی سے ڈرنے یا خوفزدہ ہونے والی نہیں ہیں۔

انہوں نےالزام عائد کیاکہ ہرمعاملہ میں رکن اسمبلی وقارآباد وصدر ٹی آر ایس پارٹی وقارآبادضلع ڈاکٹر میتکو آنند ان کی مخالفت کرنے میں مصروف ہیں۔اس سے قبل بھی وہ چند پروگراموں کے مواقع پر بھی غیر ضروری تنازعات پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔جسے انہوں نے نظر انداز کردیا لیکن آج کے اس واقعہ کی انہوں نے پارٹی ہائی کمان سے شکایت کا اعلان کیا ہے۔

بعدازاں صدرنشین ضلع پریشد وقارآباد مسزپی۔سنیتا مہیندر ریڈی نے ایس پی ضلع وقارآباد نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس سے ملاقات کرتے ہوئے ان پر حملہ،کار پر پتھراؤ کے ذریعہ شیشے توڑدینے اور ان کا گھیراؤ کرنے والوں کے خلاف شکایت درج کرواتے ہوئے قانونی کارروئی کا مطالبہ کیا۔بتایا جارہا ہے کہ اس واقعہ میں مرپلی منڈل کے ٹی آر ایس پارٹی صدر سری کانت ریڈی اور ٹی آرایس قائد موہن ریڈی اور دیگر ملوث ہیں!!۔