کیا سونیا گاندھی،راہول اور پرینکا کل کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں اپنے استعفے پیش کریں گے؟
سی ایم ابراہیم کانگریس کی ابتدائی رکنیت اور کرناٹک قانون ساز کونسل سےمستعفی
نئی دہلی:12۔مارچ (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کے مواقع پر کل ہند کانگریس کمیٹی کو لگاتارشکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ساتھ ہی کانگریس کے کئی سینئر قائدین،سابق وزرا ارکان پارلیمان خود کو پارٹی سرگرمیوں سے دور رکھے ہوئے ہیں۔جبکہ چند اہم چہرے کانگریس پارٹی کو چھوڑ کر بی جے پی اور دیگر جماعتوں میں شامل ہوگئے ہیں۔
حالیہ منعقدہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ابتر مظاہرہ سے کانگریسی قیادت اور خود کانگریس پارٹی کے کارکنوں اور اس کے حامیوں کو مضطرب کیے ہوئے ہے!!۔
جہاں پنجاب میں برسر اقتدار کانگریس کی ناقابل یقین شکست سے پارٹی قیادت صدمہ کا شکار ہے۔وہیں اترپردیش میں گزشتہ تین سال سے انچارج کانگریس پرینکا گاندھی کے متحرک،عوام کے درمیان رہنے اور عوامی مسائل کو اٹھانے کے باوجود کوئی خاص کامیابی حاصل نہ ہونے کے باعث کانگریس کے خیمہ میں مایوسی پائی جاتی ہے۔
10 مارچ کو آئے پانچ ریاستوں کے نتائج پر راہول گاندھی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ”عوام کا فیصلہ عاجزی کے ساتھ قبول ہے جیتنے والوں کے لیے نیک خواہشات۔میں کانگریس کے تمام کارکنوں اور رضاکاروں کاان کی محنت اورلگن کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں، ہم اس سے سبق سیکھیں گے اور ہندوستان کے لوگوں کے مفادات کے لیے کام کرتے رہیں گے”۔
جبکہ کانگریس کو گوا،منی پور اور اتر اکھنڈ جیسی ریاستوں میں بہترین مظاہرے کی امید تھی لیکن 10 مارچ کو آئے انتخابی نتائج میں ان ریاستوں میں بھی کانگریس کے ہاتھ مایوسی ہی لگی ہے۔حالیہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی نے اترپردیش میں تین،گوا میں 13،منی پور میں 9 اور پنجاب میں 18 نشستوں پر کامیابی تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔پنجاب کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد اب کانگریس پارٹی دو ریاستوں راجستھان اور چھتیس گڑھ میں اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔
خبررساں ادارہ اے این آئی کے ٹوئٹ کے مطابق کانگریس سربراہ شریمتی سونیا گاندھی نے کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی پی پی) کے”حکمت عملی گروپ” کا ایک اجلاس کل اتوار 13 مارچ کو ساڑھے دس بجے دن اپنی رہائش گاہ پر طلب کیا ہے۔جس میں پیر سے شروع ہونے والے بجٹ اجلاس کے دوسرے حصہ کے لیے پارٹی کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی پی پی) کےاس”حکمت عملی گروپ” کا یہ اجلاس کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیوسی) کی میٹنگ سے چند گھنٹے قبل منعقد کیا جارہا ہے۔جس میں پانچ ریاستوں میں انتخابی شکست اور موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیوسی) کا یہ اجلاس کل شام 4 بجے مقرر ہے۔جس میں شریمتی سونیا گاندھی،راہول گاندھی،ڈگ وجئے سنگھ،اے کے انتھونی کے علاوہ دیگر سینئر پارٹی قائدین شرکت کرنے والے ہیں۔
اسی دؤران میڈیا کے ایک گوشہ میں اور سوشل میڈیا پر یہ اطلاعات عام ہوئی ہیں کہ پانچ ریاستوں میں پارٹی کی ناکامی کی ذمہ داری لیتے ہوئے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں عبوری صدر کانگریس شریمتی سونیا گاندھی،راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی اپنے اپنے عہدوں سے استعفوں کا پیشکش کرنے والے ہیں؟
وہیں ان استعفوں کی زیرگشت اطلاعات پر کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان” رندیپ سنگھ سرجے والا”نےسخت لفظوں پرمشتمل ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” نامعلوم ذرائع کی بنیاد پر NDTV پر مبینہ استعفوں کی خبریں پوری طرح سے غیر منصفانہ،شرارتی اور غلط ہیں۔ ایک ٹی وی چینل کے لیے یہ انتہائی غلط ہے کہ وہ حکمراں بی جے پی کے کہنے پر خیالی ذرائع سے نکلنے والی ایسی غیر مصدقہ پروپیگنڈہ کہانیوں کو چلائے "۔
اسی دؤران ٹوئٹر پر SoniaGandhi# اور Resignations# کے باقاعدہ #ہیش ٹیگ بھی چلائے جارہے ہیں۔
سی ایم ابراہیم کانگریس اور ٰکرناٹک قانون ساز کونسل کی رکنیت سے مستعفی:
دوسری جانب کانگریس پارٹی کے سینئرقائد سی ایم ابراہیم جن کا کرناٹک سے تعلق ہے نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے ایک دن قبل آج پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
انہوں نے اپنا مکتوب استعفیٰ عبوری صدر کانگریس شریمتی سونیا گاندھی کوروانہ کرتے ہوئے اپنے مکتوب استعفیٰ میں لکھا ہے کہ ان کی باتوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔سی ایم ابراہیم نے لکھا ہے کہ ‘میں پارٹی کی بنیادی رکنیت سے فوری طور پر استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں نے اپنی بہت سی شکایات آپ کے سامنے رکھی تھیں اور ہمیشہ مجھے یقین دلایا گیا تھا کہ میرے خدشات پرغور کرتے ہوئے انہیں حل کیا جائے گا۔لیکن آج تک کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں کانگریسی پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے مستعفی ہورہا ہوں۔
ذرائع سے دستیاب اطلاعات کے مطابق رکن قانون ساز کونسل کرناٹک و سینئر کانگریسی قائد سی ایم ابراہیم نے پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ کا مکتوب عبوری صدر کانگریس شریمتی سونیا گاندھی کو اور قانون ساز کونسل سے استعفیٰ کا مکتوب کانگریس کے قائد اپوزیشن کرناٹک اسمبلی سدرامیا کو روانہ کیا ہے۔

