عامتہ المسلمین لڑکیوں کی شادی میں عجلت نہ کریں
قاضی محمد افضل حسین ایڈوکیٹ معتمد انجمن قضاۃ تلنگانہ
حیدرآباد : 02۔جنوری (پریس نوٹ/سحرنیوزڈاٹ کام)
قاضی محمد افضل حسین ایڈوکیٹ معتمد انجمن قضاۃ تلنگانہ نے اپنے صحافتی بیان میں کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے لڑکی کی شادی کی عمر کو 18 سے 21 سال کرنے کی جو تجویز پیش کی گئی ہے اسکی انجمن قضاة تلنگانہ سخت مذمت کرتی ہے۔
اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتی ہیکہ اس تجویز پر مشتمل بِل کو واپس لے۔

ساتھ ہی انجمن قضاة تلنگانہ نے عامتہ المسلمین کو مشورہ دیا ہے کہ اس قانون کو لاگو ہونے میں ایک طویل وقت درکار ہے۔لہذا اپنی لڑکیوں کی شادی میں عجلت نہ کریں بلکہ لڑکی کی عمر 18 سال ہونے پر نکاح کریں۔
یہاں یہ تذکرہ لازمی ہوگا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے لڑکیوں کی شادی کی عمر کو 18 سال سے بڑھا کر 21 سال کرتے ہوئے لوک سبھا میں ایک بِل پیش کیا گیا جس کے خلاف بشمول اپوزیشن جماعتوں عوام کے ایک بڑے طبقے نے بھی اعتراض کیا۔
ایسے میں اس قانون سے متعلق اب زیادہ تر والدین اس شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ کیا فی الوقت بالخصوص مسلمان اپنی 18 سال کی لڑکیوں کی طئے شدہ یا طئے کی جارہیں شادیاں کرسکتے ہیں یا انہیں کسی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا؟ اس سلسلہ میں مختلف ذمہ داران اور ماہرین سے مشورہ بھی کیا جارہا ہے۔!
وہیں میڈیا کے ایک گوشہ میں بالخصوص حیدرآباد کے حوالہ سے لکھا جارہا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے بنائے جانے والے قانون کے خوف سے حیدرآباد میں 18 تا 20 سال کی مسلم لڑکیوں کی فوری شادی کے لیے تگ دُود شروع ہوگئی ہے اور اس معاملہ میں مسلم والدین پریشان ہیں۔پرانے شہر حیدرآباد کے چند مسلم مقامی قائدین کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ اس سلسلہ میں اجتماعی شادیوں کا جلد نظم کیا جانے والا ہے!
اس سلسلہ میں اس قانون کے نکات،اس کی منظوری کے بعد عمل آوری اور دیگر نکات پرمشتمل مفتی محمد نوید سیف حسامی ایڈوکیٹ ،کریم نگر،تلنگانہ کا یہ خصوصی مضمون اس لنک پر پڑھا جاسکتا ہے۔

