الیکٹرک اسکوٹر کو ڈاکٹر نے خود پٹرول چھڑک کر آگ لگادی، ایک اور نوجوان نے گدھے سے باندھ کر گاڑی کو کھنچوایا

الیکٹرک اسکوٹر کو ڈاکٹر نے خود پٹرول چھڑک کر آگ لگادی
ایک اور نوجوان نے گدھے سے باندھ کر گاڑی کو کھنچوایا
بیاٹریوں میں آگ لگنے کم اور فاصلہ طئے کرنے سے صارفین پریشان

حیدرآباد: 27۔اپریل
(سحر نیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک )

الیکٹرک اسکوٹرز  Electric Scooters کئی دنوں سے لگاتار ملک کی مختلف ریاستوں میں اس کے مالکین کے لیے وبال جان بنی ہوئی ہیں۔بڑھتی پٹرول کی قیمتوں سے پریشان لوگ لاکھوں روپئے ادا کرکے الیکٹرک اسکوٹرس کی خریدی کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

لیکن کئی ریاستوں میں ان الیکٹرک اسکوٹرز کی ناقص کارکردگی،کمپنیوں کے دعوؤں کے باوجود کم فاصلہ طئے کرنے،اچانک اس کی بیاٹریوں میں آگ لگ جانے اور اموات کے واقعات کے بعد ہر اب ہر طرف سے اس الیکٹرک اسکوٹر اور اس کو تیار کرنے والی کمپنیوں کو شدیدعوامی برہمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور کمپنیاں بھی خود پریشانی کا شکار ہیں۔

اسی دؤران تمل ناڈو میں اپنی الیکٹرک اسکوٹر کی ناقص کارکردگی پر برہم ایک ڈاکٹر نے سرِ راہ اپنی الیکٹرک اسکوٹر پر خود اپنے ہاتھوں سے پٹرول چھڑک کر آگ لگادی۔

تمل ناڈو کے تروپتور ضلع کے امبور بائی پاس روڈ پر پیش آئے اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر پرتھوی راج نے تین ماہ قبل”Ola S1 Pro اولا ایس ون پرو” الیکٹرک اسکوٹر خریدی تھی۔جس کی قیمت تمل ناڈو میں 1,36,750 روپئے بتائی گئی ہے۔ڈاکٹر پرتھوی راج کے مطابق وہ اس الیکٹرک گاڑی کی ناقص کارکردگی اور مکمل چارج شدہ بیاٹری کے باؤجود کم فاصلہ طئے کیے جانے سے شدید پریشان تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اس سلسلہ میں اولا الیکٹرک کمپنی سے بھی رجوع ہوئے تھے جہاں جانچ پڑتال کے بعد انہیں بتایا گیا کہ گاڑی بہترین حالت میں موجود ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل اس واقعہ کے ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر پرتھوی راج کی گاڑی جب 44 کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرکے رک گئی تو وہ شدید برہم ہوگئے۔اور حالت غصہ میں قریبی پٹرول بنک سے کول ڈرنک کی بوتل میں دو لیٹر پٹرول منگواکر اپنی اس دیڑھ لاکھ روپئے مالیتی الیکٹرک اسکوٹر پر پورا پٹرول چھڑک دیا اور خود اپنے ہاتھوں سے ماچس کی تیلی جلاکرپٹرول میں تر الیکٹرک اسکوٹی کو نذرآتش کردیا۔اس واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں سے پریشان ہوکر اس الیکٹرک اسکوٹر کو رحمت مان کر بڑی رقم ادا کرکے خریدنے کے بعد بھی یہ ان کے لیے زحمت بن گئی تھی۔!!

اس مکمل واقعہ کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے"

ایک اور واقعہ میں”اولا الیکٹرک اسکوٹر” کا ایک مالک اس گاڑی کی ناقص کارکردگی اور کم فاصلہ طئے کرنے سے پریشان ہوکر سڑک پر کھلے عام اس طرح احتجاج کرتے ہوئے اپنے غصہ کا اظہار کیا کہ اس نے اپنی اولا الیکٹرک اسکوٹر کو رسی کی مدد سے ایک گدھے سے باندھ دیا اور پورا راستہ اپنی اس دیڑھ لاکھ روپئے مالیتی اسکوٹر کو گدھے سے کھنچوایا!!

" اس انوکھے احتجاج کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "

یاد رہے کہ 22 اپریل کو ریاست تلنگانہ کے ضلع نظام آباد میں اپنے مکان میں چارج کیے جانے کے دوران الیکٹرک اسکوٹر کی بیاٹری پھٹنے سے 80 سالہ شخص کی موت ہوگئی تھی اور اس خاندان کے دو دیگر افراد جھلس گئے تھے۔ان کا بیٹا جو ایک سال سے پاور یوزنگ رینیوایبل انرجی (PURE) EV اسکوٹر استعمال کررہا تھا نے اپنے والد کی موت کے لیے اس کی بیاٹری کے غیر معیاری ہونے کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔اس واقعہ کے بعد نظام آباد پولیس نے الیکٹرک اسکوٹر بنانے والی کمپنی PURE EV کے خلاف پہلی رپورٹ درج کی ہے۔

بزنس اسٹانڈرڈ کی رپورٹ کے مطابق اب تک پانچ پیور ای وی،ایک اولا الیکٹرک،دو اوکیناوا آٹوٹیک،اور 20 جتیندر ای وی اسکوٹرز میں آگ لگ چکی ہے۔حیدرآباد میں قائم اسٹارٹ اپ نے بیاٹریوں اور چارجرز میں عدم توازن کے مسائل کو جانچنے کے لیے 2,000 الیکٹرک سکوٹرز کو واپس منگوانے کا آغاز کیا ہے۔

ایشیا فینانشیل کے ایک ٹوئٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ”اولا الیکٹرک”نے تمل ناڈو کے ہوسور میں” دنیا کا سب سے بڑا”الیکٹرک اسکوٹر مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کرنے کے لیے 326 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ہندوستان کو الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مینوفیکچرنگ کا مرکز بناتے ہوئے،Ola الیکٹرک 10,000 ملازمتیں پیدا کرنا چاہتی ہے جس کی سالانہ صلاحیت 10 ملین الیکٹرک گاڑیاں ہے۔12 اپریل کو تمل ناڈو کے ایک بھرے بازار میں ایک الیکٹرک اسکوٹر کی بیاٹری سے کثیف دھواں اٹھنے لگا تھا۔

https://twitter.com/risingsurbhi/status/1513933844449460224

جبکہ 18 اپریل کو بھی "اوکی ناوا” کی الیکٹرک گاڑی کی بیاٹری میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔اس وقت”نیوز منٹ”نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ "جاریہ موسم گرما میں تمل ناڈو میں اس طرز کا یہ چھٹا حادثہ ہے۔

مہاراشٹرا کے پونہ میں بھی اسی طرز کے واقعات پیش آچکے ہیں جہاں اولا اسکوٹرز کی بیاٹریوں میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔اس معاملہ میں مرکزی حکومت نے بھی کمپنیوں کوانتباہ جاری کیا ہے اور مارچ میں ان واقعات کی تحقیقات اور بیاٹریوں میں آگ لگنے کی وجوہات کا پتہ لگانے اور ان کے سدباب پر سفارشات پیش کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔