زندگی ایک سفر ہے سُہانہ
مہندرا گروپ کے چیئرمین آنند مہندرا نے
ٹوئٹر پر دو خوبصورت ویڈیوز پوسٹ کیے
لاکھوں صارفین ویڈیوز کی سراہنا میں مصروف
نئی دہلی: 01۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ہر کوئی واقف ہے کہ گزشتہ چند سال سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز مذہبی منافرت پھیلانے،کسی شخصیت کو ٹرول کرنے یا پھر جھوٹ کو سچ کے خوبصورت پیاک میں پیش کرتے ہوئے صارفین کو ایک خاص مذہب اور اس کے ماننے والوں کی اہانت کرنا،گالی گلوچ،فحش کلامی کے اڈے بن گئے ہیں۔
بالخصوص ٹوئٹر اور فیس بک پر بے نامی اور فیک آئی ڈیز کی بہت بڑی تعداد یا تو مرد کے نام سے یا کسی خاتون کی فیک ڈی پی اور نام کے ساتھ روزآنہ زہر پھیلانے کا کام کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ان نامعلوم اور فیک آئی ڈیز والوں کی حرکتیں دیکھ کرمحسوس ہوتا ہے کہ وہ باقاعدہ کسی سیاسی جماعت کا”جنگلی جھنڈ” ہے! جسے مذہب کی افیون پلاکربے قابو چھوڑ دیا گیا ہے!اورمخصوص قوم اور لوگوں کے خلاف ان کی ذہن سازی کرتے ہوئے ان سے بندھوا مزدوروں جیسا کام لیاجارہا ہے؟ جوحقیرمعاوضہ لے کران پلیٹ فارمز پرنفرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔جو کہ خود ایسی حرکتیں کرکے اپنامستقبل کو برباد کررہے ہیں۔
سوشل میڈیا اس غرض سے وجود میں لایا گیا تھا کہ اس کے ذریعہ دور دراز مقامات پر رہنے والے رشتہ داروں،دوست و احباب اور ایک دوسرے کی تہذیبوں سے نا آشنا مختلف ممالک کے لوگ آپس میں دوست بن کر اپنے دکھ سکھ بانٹیں اور کچھ تفریحی وقت گزاریں۔لیکن افسوس کہ سوشل میڈیا کا زیادہ تر حصہ منافرت پھیلانے کا اڈہ بن گیا ہے!جہاں سے لوگوں کومذہب اورذات پات کے نام پرتقسیم کرنے کا کام منظم طریقہ سے چل رہا ہے!!۔
وہیں دوسری جانب آج بھی سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر،فیس بُک،انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر کئی ایسے معتبر،نامور،مشہور اور عام صارفین بھی موجود ہیں جو کہ محض تفریح و طبع کی غرض سے انتہائی مہذب طریقہ سے سوشل میڈیا کا بہترین استعمال کرتے ہیں۔ان ویڈیوز میں انسانیت کے لیے ایک پیغام ہوتا ہے،یا کچھ دیر کے لیے طنز و مزاح،یا ایسے ویڈیوزبھی بڑی بڑی شخصتیں پوسٹ کرتی ہیں جن میں مختلف صلاحیتوں کے مالک غریب لوگوں کی جانب سے تیار کی گئیں منفرد اشیاء یا پھرغربت میں بھی سکون کی زندگی بسر کرنے والے لوگ یا پھر انسانوں کی جانب سے انسانیت کو طاق پر رکھنے والوں کے لیے سبق آموز جانوروں کے ویڈیوز ہوتے ہیں۔
ایسے ہی ناموں میں ایک سب سے بڑا نام "آنند مہندرا Anand Mahindra@” ہیں جو کہ مختلف گاڑیاں بنانے والی معروف کمپنی مہندرا گروپ کے چیئر مین ہیں۔اگر آپ حیرت انگیز اور متاثر کن مواد/ویڈیوز کی تلاش میں ہیں تو مسٹر آنند مہندرا کےمصدقہ ٹوئٹر ہینڈل کو ایک بہترین مقام کہا جاسکتاہے۔
جو کہ تمام تنازعات سے پاک ٹوئٹر پر زیادہ تر ایسے ویڈیوز پوسٹ کرتے ہیں جس سے کسی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ساتھ ہی وہ ان افراد تک مدد بھی پہنچادیتے ہیں۔اور ان کے ویڈیوز دیکھنے والے لاکھوں ٹوئٹر صارفین میں سے بھی چند لوگ ان انجان لوگوں تک مدد پہنچادیتے ہیں۔اس طرح آنند مہندرا ٹوئٹر کے ذریعہ بے پناہ صلاحیتوں کے حامل گمنام افراد کے لیے مسیحا مانے جاتے ہیں۔
مہندرا گروپ کے چیئرمین مسٹر آنند مہندرا کو ٹوئٹر پر 9 ملین ٹوئٹر صارف فالو کرتے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔
گزشتہ دنوں مسٹر آنند مہندرا نے ایک لڑکے کا دلچسپ ویڈیو شیئر کیا ہے۔جسے دو دنوں میں” 1.4 ملین” ٹوئٹر صارفین نے دیکھا ہے۔وہیں 89,635 نے لائیک اور 11،139 نے اس ویڈیو کو ری۔ٹوئٹ کیا ہے۔اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص تیزی کے ساتھ سائیکل چلا ہے لیکن اس ویڈیو کو دیکھ کر آپ بھی حیرت زدہ ہوجائیں گے۔
تیز رفتار سائیکل چلارہے اس شخص کے سر پر ایک بڑی بوری(تھیلا) رکھاہوا ہے۔جسے وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی مدد سے تھامے ہوئے ہے اور اپنی سائیکل کے ہینڈل کو ہاتھ تک نہیں لگاتا۔جبکہ اس ویڈیو کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس چھوٹی سی سڑک پر کئی موڑ ہیں لیکن وہ شخص ہر موڑ پر اپنے جسمانی توازن کو قائم رکھتے ہوئے باآسانی سڑک کا ہر موڑ پار کرلیتا ہے۔
مسٹر آنند مہندرا نے اس ویڈیو کے ساتھ لکھا ہے کہ”یہ آدمی ایک انسانی سیگ وے ہے،جس کے جسم میں جائروسکوپ (توازن بَندی اور سَمت کے تعیَّن کے لیے اِستعمال ہونے والا آلہ)بنا ہوا ہے! توازن کا ناقابل یقین احساس۔تاہم جو چیز مجھے تکلیف دیتی ہے،وہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ان جیسے بہت سے لوگ ہیں جو باصلاحیت جمناسٹ/کھلاڑی تو ہوسکتے ہیں لیکن صرف انہیں وہ مقام نہیں ملتا یا تربیت یافتہ نہیں ہوتے…”
یہ ویڈیو ملک کے کونسے مقام کا ہے نہیں معلوم لیکن اس ویڈیو میں کشور کمار کا مشہورنغمہ”زندگی ایک سفر ہے سہانہ،کا بول”ہنستے گاتے جہاں سے گزر، دنیا کی تُو پرواہ نہ کر، مسکراتے ہوئے دن بِتانا ” جوڑد یا گیا ہے۔جس سے اس ویڈیو کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔
وہیں آج ہی مسٹر آنند مہندرا،چیئرمین مہندرا نے ایک کمسن لڑکے کا بھی ایک خوبصورت ویڈیو ٹوئٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
"یہ میرے ان باکس میں بغیر کسی تبصرہ کے ظاہر ہوا۔اس تیزی سے پیچیدہ ہوتی دنیا میں دیکھنا عجیب طور پر پُرسکون ہے۔ایک’مختصر کہانی ‘جو ثابت کرتی ہے:عزم + آسانی + صبر = کامیابی”۔
مسٹر آنند مہندرا کی جانب سے ٹوئٹر پر پوسٹ کیے گئے اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک کمسن لڑکی چرخی کی مدد سے تیار کردہ ایک لکڑی سے بنایا ہوا اسٹانڈ لے کر تالاب کے کنارے پہنچتا ہے۔اس اسٹانڈ کو تالاب کے کنارے پانی میں نصب کرتا ہے اور اپنے ساتھ تھیلی میں لائی ہوئی ہتھوڑی کی مدد سے اس اسٹانڈ کو مضبوطی کے ساتھ زمین میں گاڑھ دیتا ہے۔
پھر اپنی تھیلی سے مچھلی پکڑنے کے گل (کانٹے) نکالتا ہے،اس پرمچھلیوں کی آٹا نما غذا لگاتا ہے پھر ان دو گلوں (کانٹوں) کو تالاب کے پانی میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ پھینک دیتا ہے۔پھر تالاب کے کنارے اپنے ساتھ لائی ہوئی پلاسٹک کی تھیلی بچھاکر اس پر بیٹھ جاتا ہے۔
2 منٹ 19 سیکنڈ پر مشتمل اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کانٹوں کو پانی میں پھینکنے کے 15 سیکنڈ بعد ہی اس کمسن لڑکے کی جانب سے نصب اسٹانڈ اور اس پر موجود چرخی کے پلاسٹک سے بنے دھاگوں(تنگوس) میں زوردار ہلچل پیدا ہوتی ہے جس پر وہ لڑکافوری کھڑا ہوجاتا ہے اور چرخی کی مدد سے زور زور سے اپنا پھینکا ہوا جال کھینچتا ہے۔جب جال کنارے پر پہنچ جاتا ہے تو اس میں دو بڑی سائز کی مچھلیاں پھنسی ہوئی ہوتی ہیں جن کا وزن شاید اس کمسن لڑکے کے وزن کے برابر ہوگا!!۔
مسٹر آنند مہندرا کی جانب سے ٹوئٹر پپر پوسٹ کیے گئے اس ویڈیو کو اب تک 7 لاکھ سے زائد صارفین نے دیکھا ہے۔52,400 نے لائیک کیے ہیں اور اس ویڈیو کو 9،242 افراد نے ری۔ٹوئٹ کیا ہے۔

