بنگلورو کی سافٹ ویئر کمپنی کا بیروزگار ملازم، ایئر پورٹس پر غیر ملکی مسافروں سے بھیک، روزآنہ 50 ہزار سے زائد کی کمائی

بنگلورو کی سافٹ ویئر کمپنی کا بیروزگار ملازم، ایئر پورٹس پر غیر ملکی مسافروں سے بھیک
روزآنہ 50 ہزار روپئے سے زائد کی کمائی، بالآخر بنگلورو ایرپورٹ پر رنگے ہاتھوں گرفتار

بنگلورو/حیدرآباد : 23/مئی
(سحر نیوز ڈاٹ کام/میڈیا ڈیسک)

کورونا وبا کے بعد لاکھوں افراد بیروزگار ہوگئے ہیں۔وہیں کئی چھوٹے بیوپاریوں کا بھی برا حال ہے جنہیں دو سال بعد بھی معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،ہر تیسرا گھر بیروزگاری کم ہوتی آمدنی اورتنخواہوں کی وجہ سے معاشی طور پر پریشان ہے۔ملازمتوں سےمحرومی اور کاروبار میں کمی کامسئلہ ہی کیا کم تھاکہ اس دؤران مہنگائی نےبالخصوص مڈل کلاس طبقہ کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے،دسترخوان اور ڈائنگ ٹیبل سمٹ گئے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہےکہ معاشی جرائم میں اضافہ ہواہے۔تو وہیں دیگر جرائم کا ریکارڈ بھی بڑھ گیاہے۔جبکہ چند لوگ آسانی کے ساتھ پیسہ کمانے کے لیے غلط کاموں میں بھی مصروف ہوگئے ہیں۔ایسے کام چند لوگ روزی روٹی کے حصول کے لیے مجبوری کی حالت میں کرنے لگے ہیں تو کوئی عیش و عیاشی کے لیے جرائم میں مبتلاء ہوگئے ہیں۔لیکن معاملہ جو بھی ایسے لوگوں کا یہ جرم زیادہ دنوں تک چلنے والا نہیں ہے کسی نہ کسی دن جیل کا کھانا ان لوگوں کا مقدر بننا طئے ہوتا ہے۔

وہیں چند چالاک لوگ مختلف طریقوں سے پرکشش لالچ دیتےہوئے سائبر جرائم کی جانب راغب ہوکر بھولے بھالے افراد کے بینک کھاتے خالی کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔روزآنہ سائبر کرائم سیل میں بڑی تعداد میں شکایات درج کروائی جارہی ہیں لیکن پولیس بھی بےبس نظر آتی ہے عوام کو وقفہ وقفہ سے چوکس کرنے کے باجود چند افراد کی جانب سے پرکشش انعامات پرمشتمل ہیکرز کے لنکس ثواب جاریہ کی نیت سے ایک منٹ بھی غور و فکر کرنے کے بجائے روزآنہ واٹس ایپ گروپس میں فوری فارورڈ کرنا اب عام بات بن کر رہ گئی ہے۔!محاورہ مشہور ہے کہ جب تک دنیا میں بیوقوف زندہ ہیں عقلمندکبھی بھوکا نہیں رہ سکتا۔!!

کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو سے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جسے سن کر سب حیرت زدہ ہیں کہ کیا کوئی سافٹ ویئر کمپنی میں بہترین تنخواہ حاصل کرنے والا نوجوان بیروزگار بھی ہوسکتاہے؟اور پھر اس کے بعد وہ بناء کسی محنت کے بھیک مانگ کر روزآنہ 50 تا 60 ہزار روپئے کما لیا کرتا اوراس رقم سے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا تھا۔بھیک بھی مندروں، مسجدوں، گرجا گھروں، بازاروں یا گلی کوچوں میں نہیں بلکہ ملک کے ایئرپورٹس پر۔! ہے نہ عجیب اور ناقابل یقین بات؟ لیکن یہ سچ ہے اور بالآخر اس نوجوان کو بنگلورو ایئر پورٹ پر رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔

اس واقعہ کی تفصیلات مختلف میڈیا ذرائع کےمطابق یہ ہیں کہ تمل ناڈو کے چنئی سے تعلق رکھنے والا وشنیش Vishnesh# (27 سالہ) اپنی بی۔ ٹیک کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد چند دنوں تک بنگلورو کی ایک سافٹ ویئر کمپنی میں ماہانہ زائد از ایک لاکھ روپئے تک کی تنخواہ پر ملازمت کر رہا تھا۔

ایک دن جب وشنیش بذریعہ فلائٹ بنگلورو سے چنئی جا رہا تھا تو اس دوران اس کا پرس گم ہوگیا یا کسی نے اڑا لیا۔تاہم فلائٹ کی ٹکٹ اس کے موبائل فون میں موجود تھی لیکن چنئی میں اترنے کے بعد ایئر پورٹ سے اپنے مکان جانے کے لیے اس کے پاس رقم نہیں تھی۔بنگلورو میں فلائٹ میں سوارہونےسے قبل وشنیش نے ایئر پورٹ کے لاؤنج میں موجود ایک غیر ملکی مسافر کو اپنی یہ پریشانی سنائی تو اس غیرملکی مسافر نے اس سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اسے 10,000 روپئے دئیے۔

بعدازاں کورونا وباء کے دوران وشنیش کی ملازمت چلی گئی اور وہ بیروزگار ہوگیا۔اسی دوران اسے بنگلورو ایئر پورٹ پر دئیےگئے دس ہزارروپئے کا منظر یاد آگیا اور وشنیش نے طئے کیاکہ اب اسی آسان طریقہ سے رقم حاصل کی جائے۔اس کے بعد وشنیش سستے ہوائی ٹکٹ خرید کربہترین کپڑے پہن کر اور ایک سفری بیاگ کے ساتھ وقت سے پہلے بنگلورو ایئر پوٹ پہنچ جایا کرتا۔

بعدازاں ایئر پورٹ کے لاؤنج میں تنہاسفر کرنےوالے غیرملکی اور ملکی مسافرین کو نشانہ بناتا اس کا اصل نشانہ زیادہ تر غیر ملکی مسافرین و سیاح ہی ہوتے تھے۔انہیں کبھی اپنے باپ کے ہسپتال میں شریک ہونے اورعلاج کےلیے بڑی رقم کی ضرورت کاحوالہ دیتا تو کبھی مختلف پریشانیاں بتایا کرتا جس سےمتاثر ہوکرمسافرین اس کی مدد کردیا کرتےتھے۔اس طرح وشنیش روزآنہ 50 تا 60 ہزار روپئے آسانی کےساتھ جمع کرلیاکرتا تھا۔

میڈیا اطلاعات کےمطابق اس طرح وشنیش نے بنگلورو ایئر پورٹ کے علاوہ چنئی، ممبئی،حیدرآباد اور دہلی کےبشمول 8 شہروں کےایئر پورٹس پر مسافرین سے اسی طریقہ سے پیسے وصول کرنے کو اپنا کاروبار بنالیا۔اس طرح ماڈرن بھیک کےذریعہ حاصل کی گئی رقم چنئی جاکر عیش وعشرت میں اڑا دیا کرتا تھا۔اس طرح 2021 سے وشنیش ایئر پورٹس پر اسی طرح مسافرین سےبھیک مانگنے میں مصروف تھا۔تاہم اس کے خلاف کسی نے بھی ایئر پورٹ حکام یا پولیس سے شکایت نہیں کی۔جس سے وشنیش کے حوصلے مزید بلند ہوتے گئے اور دو سال سے وہ اسی طرح بھیک مانگنے میں مصروف تھا۔

لیکن 11 مئی کو بنگلورو کے کیامپے گوڑہ انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر دو غیر ملکی مسافرین کو ٹوپی پہنانے کے بعد جب وشنیش تیسرے مسافر کے پاس پہنچا تو ایئر پورٹ ڈیوٹی پر موجودسنٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس( سی آئی ایس ایف) کے ایک عہدیدار کو اس پر شبہ ہوا تو انہوں نے اس کا تعاقب کیا اور وشنیش کو ایئر پورٹ پر بھیک مانگتےہوئے رنگےہاتھوں اپنی تحویل میں لےلیا۔سی آئی ایس ایف عہدیداروں اور پولیس کی تفتیش کے دؤران وشنیش نے انہیں سارا معاملہ بتا دیا۔جس پر عہدیدار بھی حیرت زدہ رہ گئے۔بعدازاں وشنیش کو پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس کی جانب سے تفتیش کے دؤران وشنیش کے قبضہ سے مختلف بینکوں کے 26 کریڈٹ کارڈز ضبط کیے گئے جن میں سے 24 کریڈٹ کارڈ کارکرد تھے۔بعدازاں وشنیش کے خلاف دفعہ 420 اور دیگر دفعات کےتحت کیس درج رجسٹر کرتےہوئے اسے جیل بھیج دیا گیا۔ بنگلورو پولیس کو شبہ ہے کہ یہ کام منظم طریقہ سے ایک گینگ کا ہوسکتا ہے اور وشنیش اس گینگ کا ایک حصہ ہے۔!