سابق نائب صدر بلدیہ عادل آباد فاروق احمد جیل سے مشتبہ حالت میں ہسپتال منتقل

سابق نائب صدر بلدیہ عادل آباد فاروق احمد جیل سے مشتبہ حالت میں ہسپتال منتقل

جیل حکام نے کہا اقدام خودکشی،افراد خاندان نے لگایا قتل کی کوشش کا الزام

عادل آباد:24 مارچ ۔(سحرنیوزڈاٹ کام)
سابق نائب صدر نشین بلدیہ عادل آباد محمدفاروق احمد کو آج عادل آباد جیل کے عہدیداروں نے مشتبہ حالت میں عادل آباد کے ریمس ہسپتال کو منتقل کیا جنہیں تشویشناک حالت میں مزید بہتر علاج کی غرض سے حیدرآباد منتقل کردیا گیا۔

اس معاملہ میں جیل حکام کا کہنا ہے کہ محمد فاروق احمد نے جیل میں خودکشی کی کوشش کی ، تاہم انکے بھتیجہ محمد شکیل نے ہسپتال میں الزام عائد کیا ہے کہ محمد فاروق احمدنے خودکشی کی کوشش نہیں کی بلکہ جیل میں انہیں قتل کرکے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔محمد شکیل نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 8 دن سے جیل میں محروس محمد فاروق احمد کو جسمانی اور ذہنی اذیتیں دی جارہی تھیں۔

یاد رہے کہ تین ماہ قبل محمد فاروق احمد نے 18 ڈسمبر 2020ء کو ٹی آرایس کے تین پارٹی کارکنوں بشمول سابق رکن بلدیہ عادل آبادضمیر پر حالت برہمی میں فائرنگ کی تھی جس میں سابق رکن بلدیہ ضمیر کی دؤران علاج موت واقع ہوگئی تھی۔

فاروق احمد کے بھتیجے محمد شکیل میڈیا سے بات کرتے ہوئے۔

دوسری جانب جیل عہدیدار سوریہ پرکاش ریڈی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ

 

محمد فاروق احمد جیل میں خودکشی کی کوشش کررہے تھے جنہیں جیل وارڈنس نے دیکھ لیا اور اس اقدام سے باز رکھا جس پر محمد فاروق احمد نے اپنا سر جیل کی دیوار سے ٹکراتے ہوئے خود کو لہولہان کرلیا۔جیل عہدیدار سوریہ پرکاش ریڈی نے محمد فاروق احمد کے رشتہ داروں کی جانب سے جیل میں گزشتہ 8 دن سے محمد فاروق احمد کو جسمانی اذیتیں دئیے جانے کے الزام کی تردید کی ہے۔