قابل فخر بیٹا : اداکار پردیپ کابرا
جو فالج سے متاثرہ اپنی ماں کو پیٹھ پر اُٹھاکر
تھیراپی سیشن کے لیے سمندر کے ساحل پر پہنچتے ہیں
ممبئی: 12۔ڈسمبر (سحرنیوزڈیسک)
ماں! تین بغیر نقطوں کے حروف سے بنا ہوا یہ ایک لفظ اور یہ ہستی دنیا کے ہر انسان کی بنیاد ہوتی ہے!جو کہ زمانے کے تھپیڑوں اور برے حالات و مصائب سے اپنے بچوں کے تحفظ اور ان کی بہترین پرورش کے ساتھ انہیں بہترین تعلیم و تربیت کے ذریعہ سماج کا ایک حصہ بناتے ہوئے اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ سماج میں اپنا ایک مقام حاصل کرے اور ان سب کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے ماں کچھ بھی کر گرزنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہے۔
جب کوئی بچہ بیمار یا اپاہج ہوجائے تو مائیں اپنی نیندیں،اپنی تمام ضروریات و خواہشات کو ممتا کی صلیب پر چڑھا کر خود کو اس ایک بچے کی تیمارداری، دیکھ بھال اور اس میں جینے کا حوصلہ پیدا کرنے میں لگ جاتی ہے۔
نامور شاعر عباس تابش نے کبھی کہا تھا کہ؎
ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابشؔ
میں نے اِک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

فلمی اداکاروں کے متعلق کئی قصے عام ہوتے ہیں،ان کی نجی زندگیوں کو مرچ مسالحہ لگاکر عام کیا جاتا ہے اس سے کسی کی شبیہ متاثر ہوتی ہے تو کسی کو شہرت مل جاتی ہے۔کیونکہ وہ فلم اداکار سے پہلے ایک انسان،پھرکسی کا بیٹا تو کسی کا بھائی ہوتاہے۔
بالی وود میں ایک ایسا اداکار آج سامنے آیا ہے جسے دیکھ کر سب یہی دعاء کریں گے کہ بیٹا ہو تو ایسا!
ورنہ فلمی دنیا کی چمک دمک میں کون ایسا بیٹا ہوگا جو اپنی ضعیف اور فالج کی شکار ماں کا گزشتہ دس سال سے بالکل اسی طرح خیال رکھ رہا ہے اور اس کی خدمت میں ایسے مصروف ہے جیسے اس کے بچپن میں اس کی ماں نے اس کے لیے قربانیاں دی تھیں!
لیکن یہ بھی طئے ہے کہ ماں کا قرض دنیا کی کوئی اؤلاد ادا نہیں کرسکتی لیکن ان کی خدمت کے ذریعہ اور انہیں دنیا کی سب سے سستی اور ساتھ ہی سب سے مہنگی دواء ” میں ہوں نہ ” جیسے احساس کے ذریعہ ماں کی زندگی کے باقی ماندہ کچھ سال بہتر اور طویل بناسکتا ہے اور اس میں جینے کا حوصلہ پیدا کرسکتا ہے۔ بقول منور رانا ؎
یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا
آئیے آج آپ کو ایک ایسے فرمانبردار بیٹے سے ملاتے ہیں جو گزشتہ دس سال سے فالج کے حملہ میں معذور ہونے والی اپنی ضعیف ماں کی دیکھ بھال اور اس میں زندگی کی امنگ بھرنے میں مصروف ہے۔
یہ کوئی معمولی یا بے روزگار انسان نہیں بلکہ اسی ممبئی کی بالی ووڈ کا ایک حصہ ہے جس نے زیادہ تر فلموں میں بھلے ہی منفی کردار ادا کرتے ہوئے خود پر ویلن کی چھاپ لگاچکا ہو لیکن آج وہ اپنی ماں کی نظروں میں صرف بالی ووڈ یا ہالی ووڈ نہیں بلکہ اس دنیا کا سوپر اسٹار بیٹا ہے!

” وائرل بھیانی " جو کہ فلمی جرنلسٹ،فوٹو گرافر ہیں اور ساتھ ہی فلمی دنیا اور میڈیا میں ان کی پہچان ایک”پاپا رازی” کی ہے۔(جن کاشوق اور پیشہ ہمیشہ اداکاروں اور مشہورشخصیتوں کا تعاقب کرتے ہوئے ان کی ویڈیوس اور فوٹوز لینا ہوتا ہے) نے گزشتہ رات اپنے انسٹاگرام کے مصدقہ اکاؤنٹ پر اداکار " پردیپ کابرا ” کا ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کئی فلموں میں ویلن کا کردار ادا کرنے والے پردیپ کابرا ہمیشہ فلمی دنیا کی چمک دمک اور شہرت سے دور رہتے ہیں۔
وائرل بھیانی نے انسٹاگرام پر پردیپ کابرا کے دل کو چھولینے والے اس ویڈیو کے ساتھ مزید لکھا ہے کہ "سیٹائی، دل والے، تینالی راما، باغی،سوریہ ونشی،دہلی بیلی اور وانٹیڈ جیسی کئی ایک فلموں میں اداکاری کرنے والے پردیپ کابرا کی ماں پر دس سال قبل فالج کا حملہ ہوا تھا اور جب سے اس نے ہمت نہیں ہاری اور اس نے اپنی پوری کوشش کی کہ اس کی ماں کی صحت پہلے کی طرح معمول پر لوٹ آئے۔
اداکار پردیپ کابرا روزانہ ماں کو اپنی پیٹھ کر اٹھاکر ساحل سمندر پر لے جاتا ہے اور یہ اس کے تھراپی سیشن کا ایک خوبصورت دل کو چھو لینے والا ویڈیو کلپ ہے۔ہماری خواہش ہے کہ ہر ماں کا ایک ایسا ہی بیٹا ہو جو بڑھاپے میں ان کی دیکھ بھال کرے۔
وائرل بھیانی کی جانب سے پوسٹ کیے گئے اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے اداکار پردیپ کابرا اپنی ضعیف ماں کو اپنی پیٹھ کر اٹھاکر سمندر کے ساحل پر پہنچتا ہے۔بالکل اسی طرح جب وہ چھوٹا تھا تو ماں نے اسے اٹھایا تھا۔
پھر وہ اپنے دونوں ہاتھوں کا سہارا دیتے ہوئے اپنی ماں کو ساحل کی ریت پر چلاتا ہے،جیسے اس کی ماں نے اسے اپنی انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا!
” پردیپ کابرا فلم اتیتھی کب جاؤگے؟ کے ایک سین میں "
پھر ساحل کی ریت پر وہ اپنی فالج سے متاثرہ ماں کو سمندر میں ٹھاٹھیں مارتی ہوئی لہروں تک لے جاتا ہے۔جب ماں تھک جاتی ہے تو اس کو اپنے دونوں ہاتھوں میں اٹھاکر واپس ہوتا ہے۔اس تھیراپی کے دؤران تھکی ہوئی اپنی ماں کو ایک کرسی پر بٹھاکر اس پر پانی انڈیلتا ہے!
پردیپ کابرا کے متعلق اگر بات کی جائے تو ان کی پیدائش راجستھان کے کوٹہ میں ہوئی اور ان کی تعلیم صرف چوتھی جماعت تک ہی ہوپائی۔پردیپ کابرا نے فلموں میں کام کرنے کے شوق کے ساتھ بمبئی پہنچے جہاں انہوں نے مشہور ٹی وی سیرئیلس سی آئی ڈی، کرائم پاٹرول،عدالت، مہارانہ پرتاپ کے علاوہ سنٹر فریش،کیاڈبری،امول ماچو کے علاوہ کئی ایک مشہور برانڈس کے اشتہارات میں کام کیا۔
انہیں پہلی مرتبہ 2004 میں ابھیشیک بچن اور بھومیکا چاؤلا کے ساتھ فلم رن میں کام کرنے کا موقع ملا۔بعدازاں انہوں نے سلمان خان کی فلم دبنگ،وانٹیڈ،اکشے کمار کی فلم کھلاڑی 786،رتھیک روشن کی فلم بیانگ بیانگ،شاہ رخ خان اور کاجول کی فلم دل والے،سیف علی خان،ارمیلا ماتونڈکر کی فلم ایک حسینہ تھی،عمران خان کی فلم دہلی بیلی،شاہد کپور اور سوناکشی سنہا کی فلم آر۔راج کمار،فلم اب تک چھپن،
اکشے کمار اور متھن چکرورتی کی فلم باس،سنجے دت،رتیش دیشمکھ،ارشد وارثی اور جاوید جعفری کی فلم ڈبل دھمال۔اجئے دیوگن اور پریش راویل کی فلم اتیتھی کب جاؤگے کے علاوہ دیگر ہندی اور علاقائی فلموں میں ویلن کے اور دیگر رول ادا کیے۔اداکار پردیپ کاپرا کی جانب سے اپنی ضعیف کی خدمت کو دیکھ کر رشک آتا ہے کہ بیٹا ہو تو ایسا ہو!!

وہیں آج معاشرہ کی جانب نظر گھماکر دیکھا جائے کہ ہمارے معاشرہ میں ایسی کتنی اؤلادیں ہیں جنہیں تاکید کرتے ہوئے والدین کے حقوق اور ان کی اہمیت بتائی گئی ہے کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے اور باپ جنت کے دروازوں میں سے بیچ کا دروازہ ہے۔ان کا اپنے ماں باپ کے ساتھ کیسا سلوک اور رویہ کیا ہے؟
بدقسمتی سے معاشرہ میں ایسی اؤلادیں بھی موجود ہیں جو کہ لاکھوں روپیوں کی قدیم اور نادر اشیاء Antique کو خرید کر اپنے گھروں میں سجانے کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔
لیکن ان کے اپنے گھروں میں موجود ضعیف اور بے بس والدین کی اہمیت سوائے ایک ناقابل استعمال قدیم فرنیچر کے کچھ نہیں ہوتی اور راتوں میں ان کی کھانسی کی آواز بھی ایسی اؤلادوں کو تکلیف کا باعث بنتی ہے!!

