تمل ناڈو: ایک شخص نے اپنی سانسیں دے کر کتوں کے حملہ میں زخمی بندر کی ر کی ہوئیں سانسیں بحال کیں،ہسپتال منتقل کیا

تمل ناڈو: ایک شخص نے اپنی سانسیں دے کر کتوں کے حملہ میں زخمی بندر کی
رُ کی ہوئیں سانسیں بحال کرکے ہسپتال منتقل کیا،سوشل میڈیا پر واقعہ کا ویڈیو وائرل

تمل ناڈو/پیرمبلور: 13۔ڈسمبر(سحرنیوزڈیسک)

نئے زمانے کی ترقی نے افسوس کہ انسان سے انسان کو اور انسانوں سے انسانیت کو دور کردیا ہے!! زیادہ تر انسان ان دنوں سڑکوں پر ہونے والے حادثات،قتل اور لڑائی جھگڑوں کو دیکھتے وہاں سے آگے بڑھ جانا ہی بہتر سمجھنے لگے ہیں کہ کون کورٹ کچہری کے چکر میں پڑے اور پھر دفتر یا کام پر جانے میں تاخیر بھی ہوجائے گی!!

جبکہ صدیوں قبل نہیں بلکہ صرف چند سال قبل کی ہی بات ہے کہ جب سڑک پر قتل تو دور کی بات ہے لوگ آپس میں لڑتے تو کئی لوگ مداخلت کرتے ہوئے معاملہ کو بات چیت کے ذریعہ سلجھادیتے اور معاملہ رفع دفع کرکے وہاں سے انہیں روانہ کردیتے۔

لیکن آج نئے دؤر کے زیادہ تر انسانوں کو یہ عادت ہوگئی ہے کہ سڑکوں پر ہونے والے ان واقعات کے متاثرین،مظلومین یا زخمیوں کی مدد کرنے کے بجائے ان کے ویڈیوز لیتے ہوئے سوشل میڈیا پر وائرل کردیتے ہیں۔

نامور اور اپنے لب و لہجہ کے منفرد شاعر جون ایلیاء نے کبھی کہا تھا کہ؎
سب سے پُر امن واقعہ یہ ہے
آدمی آدمی کو بھول گیا !!

لیکن سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز بالخصوص ٹوئٹر پر ایک ایسا ویڈیو بڑی تیزی کے ساتھ وائرل ہوا ہے جو کہ تمل ناڈو کے پیرمبلور کا ہے جسے دیکھنے کے بعد یہ یقین مزید پختہ ہوجاتا ہے کہ دنیا ابھی دوسروں کے دُکھ، درد اور مصیبت میں مدد کرنے والے انسانوں اور انسانیت سے خالی نہیں ہوئی ہے۔

ریاست تمل ناڈو کے پیرمبلور کے کنم تعلقہ کے اس 38 سالہ شخص کی سوشل میڈیا پر بھرپور ستائش کی جارہی ہے۔کیونکہ اس شخص نے کسی انسان کی مدد نہیں کی بلکہ ایک زخمی بندر کی رُکی ہوئی سانسوں کو بحال کرتے ہوئے اسے ہسپتال منتقل کیا۔جہاں سے یہ بندر علاج کے بعد صحت یاب ہوکر دوبارہ جنگل میں پہنچادیا گیا ہے۔

ویسے تو اس واقعہ کے ویڈیو کا سوشل میڈیا پر سیلاب آیا ہوا ہے لیکن ٹوئٹر پر Thiruselvam@کے اکاؤنٹ پر پوسٹ کیے گئے اس ویڈیو کو اب تک 3،43،00 سے زیادہ ٹوئٹر صارفین نے دیکھا ہے اور 23،000 صارفین نے اس ویڈیو کو ٹوئٹر پر لائیک کیا ہے جبکہ اس ویڈیو کو 7،324 ٹوئٹر صارفین نے "ری ٹوئٹ ” کیا ہے۔

جبکہ اس ویڈیو کو خود ٹوئٹر کے ساتھ ساتھ انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی بڑی تعداد میں شیئر کیا گیا ہے۔جہاں لاکھوں صارفین نے اس ویڈیو کو دیکھ کر ایک بے زبان زخمی بندر کی اس طرح مدد کرنے والے شخص کی زبردست ستائش کررہے ہیں۔

اس انسانی میراث کو جلا بخشنے والے ویڈیو کی تفصیلات کے مطابق اس ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کا نام ایم۔پربھو ہے جو کہ پیشہ سے ایک کار ڈرائیور ہے۔ایم پربھو نے میڈیا کو بتایا کہ اس نے 9 دسمبر کو کنم تعلقہ کے اوتھیام سماتھواپورم میں یہ نظارہ دیکھا کہ  6 کتوں کی ایک ٹولی نے ایک چھوٹے سے بندر کا پیچھا کرتے ہوئے اس بندر کے جسم کے کئی حصوں پر کاٹ کر زخمی کردیا تھا۔

تاہم یہ بندر کتوں کے چنگل سے خود کو بچا کر قریب ہی موجود ایک کانٹی دار درخت پر چڑھنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔پربھو نے مداخلت کرتے ہوئے کتوں کو وہاں سے بھگا دیا اور بندر کو درخت سے نیچے اتارا اور اس نے بندر کو اپنے پاس موجود بوتل سے پانی پلایا مگر بندر بے ہوش ہوگیا۔

اس کے بعد وہ بندر کو فوری اپنی موٹرسیکل پر اپنے ایک دوست کے ساتھ علاج کے لیے ویٹرنری ہسپتال لے جارہا تھا کہ پیرمبلور اور اریالور روڈ پر دؤران سفر اس نے محسوس کیا کہ بندر آہستہ آہستہ اپنی سانسیں کھو رہا ہے تو اس نے فوراً اپنی گاڑی روک دی اور اس بندر کے سینے پر اپنے ہاتھ رکھ کر اس کے دل کو زور زور سے پمپ کرنے لگا اور پربھو نے اپنا منہ بندر کے منہ کو لگاتے ہوئے اپنی سانسوں کے ذریعہ بندر کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی۔(یاد رہے کہ شدید ہارٹ اٹیک کے شکار انسان پر بھی یہی طریقہ آزمایا جاتا ہے)

پربھو کی اس کوشش نے اپنا کام کر دکھایا اور بندر کی سانسیں بحال ہوئیں۔اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بندر کی سانسیں بحال ہونے کے بعد پربھو اس بندر کو بالکل اپنے بچے کی طرح اپنی گود میں لے کر خوشی سے جھوم رہا ہے اور خدا کا شکر ادا کررہا ہے۔

اس کے بعد پربھو نے بندر کو اپنی گاڑی پر لے جاکر جانوروں کے ہسپتال میں داخل کروایا جہاں اسے ویکسین اور گلوکوز دئیے گئے۔جس کے بعد یہ بندر مکمل طور پر ہوش میں آگیا۔ اس وٹرنری ہسپتال کے ڈاکٹر پربھاکرن نے بتایا کہ متاثرہ بندر صرف 8 ماہ کی عمر کا حامل ہے۔

پربھو نے میڈیا کو بتایا کہ جب میں وہ اس بندر کو ہسپتال لے جارہے تھے تو انہوں نے سوچ لیا تھا کہ بندر مرچکا ہوگا لیکن ہسپتال میں علاج کے بعد بندر ہوش میں آگیا۔

پربھو نے بتایا کہ اس نے 2010 میں تھنجاور میں ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کا تربیتی کورس مکمل کیا ہے اور انہوں نے بندر کو بھی  انسانوں کی طرح ابتدائی طبی امداد فراہم کی جس سے ایک جانور کی زندگی بچائی جاسکی۔

پربھو نے مزید کہا کہ بھوکے پیاسے جانور خوراک اور پانی کے لیے جنگلات سے نکل کر قصبوں میں آتے ہیں۔اور اسی دؤران جنگلی کتوں یا پھر دیگر جانوروں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

پربھو نے میڈیا کو بتایا کہ جب شدید زخموں سے دوچار یہ بندر درخت پر چڑھا اور بے ہوش ہو گیا۔میں نے اسے اٹھالیا اور پانی دیا لیکن اس نے پانی نہیں پیا اور اس کم عمر بے زبان جانور کی حالت دیکھ کر میں بہت پریشان ہوگیا تھا۔

میں اسے اس حالت میں جنگل میں چھوڑنا نہیں چاہتا تھا میں نے کچھ نہیں سوچا بس میں کسی طرح اس بندر کو بچانا چاہتا تھا اسی لیے میں نے اس کے دل کے مقام پر کئی بار پمپ کرنے کے بعد اس کے منہ سے اپنا منہ لگاکر اپنی سانسیں دیں۔جس کے بعد اس بند کی سانسیں بحال ہوئیں اور کراہنے لگا۔

ہسپتال میں بندر کے علاج کے بعد  پربھو نے اس بندر کو محکمہ جنگلات کے حوالے کر دیا۔