کانگریس پارٹی پولیس ظلم سے ڈرنے والی نہیں،عامر جاوید پر حملہ قابل مذمت
بیروزگاروں کو ملازمتوں کی فراہمی تک احتجاج جاری رہے گا،محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد:03۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام/پریس نوٹ)
محمد علی شبیر سیاسی امور تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے آج نائب صدر تلنگانہ پردیش یوتھ کانگریس عامر جاوید کی رہائش گاہ واقع حمایت نگر پہنچ کر ان کی عیادت کی جو کل گاندھی جینتی کے دن بیروز گار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور اسکالر شپ کی اجرائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نوجوانوں کیلئے احتجاجی "سائرن پروگرام” کادلسکھ نگر سے ایل بی نگر تک پدیاترا کا آغاز کرنے والے تھے لیکن پولیس نے اس کی اجازت نہیں دی اور اس موقع پر پولیس نے کانگریسی قائدین اور کارکنوں پر لاٹھی چار ج کیا تھا جس میں عامر جاوید شدید زخمی ہوگئے۔

ان کی مزاج پرسی کیلئے پہنچے سابق وزیرمحمدعلی شبیر نے عامر جاوید سے اس سارے واقعہ کی تفصیلات حاصل کیں اور اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی ایسے پولیس ظلم سے ڈرنے والی اور پارٹی کے قائدین و کارکن ان پولیس مظالم سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔
محمد علی شبیر نے اس موقع پر اعلان کیا کہ اس احتجاج میں مزید شدت پیدا کی جائے گی اور جب تک ریاست کے بیروز گار نوجوانوں کو ملازمتیں حاصل نہیں ہوجاتیں اس وقت تک کانگریس کا احتجاج جاری رہے گا۔
اس موقع پر ظفر جاوید سینئر نائب صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی،محمد واجد حسین سابق فلور لیڈر جی ایچ ایم سی،محمد آصف،عثمان الہاجری انچارج حلقہ اسمبلی کاروان اور دیگر بھی موجود تھے۔
دوسری جانب کل پیش آئے واقعہ کے متعلق نائب صدر تلنگانہ پردیش یوتھ کانگریس عامر جاوید نے تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ اس دن پولیس لاٹھی چارج میں شدید زخمی ہوئے ہیں جس دن ریاست اور ملک میں عدم تشدد کے حامی مہاتما گاندھی کی جینتی تقاریب منائی جارہی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے گاندھی جینتی کے موقع پر بیروزگاروں کے لیے ملازمتوں کی فوری فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے VidhyarthiNirudogaSiren#کے تحت ایک احتجاجی ریالی ان کی قیادت میں منظم کی جانے والی تھی۔
اس موقع پران کے ساتھ قومی صدر انڈین یوتھ کانگریس بی وی سرینواس اور صدر انڈین یوتھ کانگریس تلنگانہ شیواسینا ریڈی بھی موجود تھے، کانگریسی کارکن اور این ایس یو آئی کے نوجوان پرامن طور پر جمع ہوئے تھے اور سری کانت چاری جنہوں نے تلنگانہ جدوجہد کے دؤران خود کو نذرآتش کرلیا تھا کے مجسمہ پر پھول پیش کررہے تھے کہ اچانک مقامی پولیس اور ریاپیڈ ایکشن فورس (آراے ایف) کے جوانوں نے لاٹھیاں برسانا شروع کردیں۔

عامر جاوید نے بتایا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں وہاں موجود سب انسپکٹر پولیس ڈی۔مہندرسے استفسار کیا کہ بناء کسی وجہ اور اشتعال انگیزی کے اس طرح پرامن احتجاجیوں پر لاٹھی چارج کا مقصد کیا ہے تو وہ مشتعل ہوگئے اور ان پر لاٹھیوں کی برسات کردی جس کے دؤران وہ وہیں کھڑے رہے اس موقع پر خود ایک پولیس عہدیدار نے مداخلت کرتے ہوئے سب انسپکٹر ڈی۔مہندرکو روک دیا۔
نائب صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی عامر جاوید نے کہا کہ اس کے باوجود پولیس کی جانب سے جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں کہ ہم نے پولیس پر حملہ کیا ہے۔
عامر جاوید نے کہا کہ وہ لاٹھی اور بندوق سے خوفزدہ نہیں ہوں گے اور مہاتما گاندھی کے بتائے ہوئے عدم تشدد کے راستے پر چلتے ہوئے انہیں حاصل جمہوری حقوق کے ذریعہ ٹی آر ایس کو بھی اقتدار سے اسی طرح بے دخل کیا جائے گا جس طرح آزادی کی لڑائی میں انگریزوں کو اس ملک سے باہر نکالا گیا تھا۔
اس سلسلہ میں نائب صدر یوتھ کانگریس ضلع وقارآباد عامر عبداللہ نے بھی اپنے صحافتی بیان میں نائب صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی عامر جاوید پر پولیس ظلم اور اس میں ان کے شدید زخمی ہوجانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل وہ بھی اس احتجاج میں شامل تھے۔

عامر عبداللہ نے کہا کہ اس ملک میں اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج ہر شہری کا دستوری حق ہے جسے پولیس کی مدد سے دبایا نہیں جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کے احتجاجی قائدین اور کارکنوں پر پولیس لاٹھی چارج کے ذریعہ حکومت نوجوانوں کے حوصلے پست کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔
نائب صدر یوتھ کانگریس ضلع وقارآباد عامر عبداللہ نے کہا کہ حکومت تلنگانہ بیروزگار نوجوانوں کو ملازمت اور روزگار دینے میں ناکام ہوگئی ہے اور پولیس کی مدد سے اپوزیشن کانگریس پارٹی اور بیروزگار نوجوانوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
عامر عبداللہ نے کہا کہ کانگریس پارٹی عوامی مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ آگے رہے گی اور اس کی تاریخ بھی یہی رہی ہے۔

