ضلع رنگاریڈی : جل پلی میں بلدی عہدیداروں نے آلودگی پھیلانے کی شکایت پر
بسکٹ اور چاکلیٹ بنانے والی کمپنی کو مقفل کردیا،غیرمجاز عمارتیں بھی منہدم کی گئیں
حیدرآباد/جل پلی: 01۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
ضلع رنگاریڈی کے جل پلی میں ٹاؤن پلاننگ عہدیداروں نے بسکٹ اور چاکلیٹ تیار کرنے والی ایک کمپنی کو آلودگی پھیلانے کی پاداش میں مقفل کردیا۔ وارڈ نمبر 18 میں کی گئی یہ کارروائی آلودگی کی وجہ سے مقامی عوام کو سانس لینے میں تکلیف کی شکایات پر کی گئی ہے۔
ٹاون پلاننگ عہدیداروں نے میونسپل کمشنر جی پی کمار کی قیادت میں آج وارڈ نمبر 18 میں واقع سنگھانیہ بسکٹ کمپنی پہنچے اور وہاں جاری سرگرمیوں کا معائنہ کیا جہاں بتایا جاتا ہے کہ بسکٹ اور چاکلیٹ تیار کیے جاتے ہیں۔
میونسپل کمشنر جی پی کمار نے بتایا کہ مقامی عوام کی جانب سے دو ہفتے قبل کی گئی شکایت پر کہ ان کے محلہ کے قریب واقع کمپنی سے ماحول میں آلودگی پھیل رہی ہے، ہم نے سنگھانیہ بسکٹ کمپنی کو نوٹس جاری کی تھی لیکن کوئی اطمینان بخش جواب موصول نہ ہونے پر آج اس کمپنی کا اچانک معائنہ کرکے اسے بند کردیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ اس سے قبل ہم نے کمپنی کے انتظامیہ کو وہ تمام ضروری دستاویزات فراہم کرنے کے لیے کہا تھا جو فوڈ پراسیسنگ یونٹ چلانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ تاہم ہم نے پایا کہ کمپنی کے پاس محکمہ فائر سیفٹی کا اور نہ ہی میونسپالٹی کا جاری کردہ کوئی اجازت نامہ موجود ہے۔
میونسپل کمشنر جی پی کمار نے کہا آج معائنہ کے وقت کمپنی انتظامیہ کو دستاویزات بتانے کے لیے زائد از ایک گھنٹہ کا وقت دیا گیا تھا لیکن وہ دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد ہمیں کمپنی کو مقفل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
بتایا جاتا ہے کہ جل پلی میونسپالٹی کے مختلف وارڈز میں تقریباً 200 کمپنیاں موجود ہیں ان میں پلاسٹک اور فوڈ مینو فیکچرنگ یونٹس شامل ہیں۔
صرف وارڈنمبر 18 میں ہی 80 تا 100 کمپنیاں موجود ہیں اور مقامی عوام نے ان کمپنیوں پر آلودگی پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف شکایات کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
قبل ازیں جل پلی میونسپالٹی کے ٹاؤن پلاننگ عہدیدارو ں نے کمشنر جی پی کمار اور ٹی پی او حبیب النساء کی قیادت میں وراڈ نمبر 17 اور 18 میں غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کئی ایک مکانات کو منہدم کردیا۔
ٹاؤن پلاننگ عہدیدار سب سے پہلے سری رام نگر کالونی پہنچے اور دو مکانات کو منہدم کرنے کے بعد جل پلی موضع کا رخ کیا اور وہاں بھی دو مکانات کومنہدم کردیا۔ بتایاجاتا ہے کہ یہ غیر مجاز تعمیرات تھیں!!

