تلنگانہ میں کل سے لاک ڈاؤن مکمل طور پر برخاست
ریاستی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعلیٰ کے سی آر کا فیصلہ
حیدرآباد:19۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام)
وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ کی زیر صدارت آج 19 جون بروز ہفتہ، دوبجے دن پرگتی بھون،حیدرآباد میں ریاستی کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں ریاستی وزراء اور اعلیٰ سطحی عہدیدار شریک تھے۔

ریاست میں کوروناوائرس معاملات اور اموات میں بتدریج کمی اور کوروناوائرس کی وباء پر مکمل طور پر قابو پالئے جانے کی ریاستی محکمہ صحت کی رپورٹ اور تمام امور پر غور و خوص کے بعد ریاستی کابینہ اور وزیراعلیٰ کے سی آر نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں جاری لاک ڈاؤن کو 20 جون کی صبح سے مکمل طور پر برخاست کرتے ہوئے عام زندگی کو بحال کیا جائے۔
ریاستی کابینہ نے کہا کہ عام آدمی اور غریب طبقات کو راحت پہنچانے کی غرض سے لاک ڈاؤن کی برخواستگی کے فیصلہ کو عوام کو کا تعاون ناگزیر ہے۔
ریاستی کابینہ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی برخواستگی کے بعد عوام کی جانب سے کوروناوائرس کی وباء کے معاملہ میں ہرگز کوتاہی نہ برتی جائے بلکہ کورونا وائرس سے تحفظ،صحت سے متعلق مختلف پابندیوں اور کوویڈ قواعد پر لازمی طوپرعمل کرنا ہوگا۔ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلہ پر لازمی طور پر عمل کیا جائے۔
لاک ڈاؤن کی مکمل طورپر برخواستگی کے اعلان کے ساتھ ریاستی حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیاہے کہ یکم جولائی سے ریاست میں تمام تعلیمی اداروں کو کھول دیا جائے۔
ریاست میں 12 مئی کو نافذ کردہ لاک ڈاؤن کی معیاد آج 19 جون تک جاری رہے گی اور کل 20 جون کی صبح سے ریاست میں لاک ڈاؤن مکمل طور پر اٹھالیا جائے گا۔
اس سلسلہ میں ریاستی کابینہ نے حکومت کے تمام محکمہ جات کو ہدایت دی ہے کہ لاک ڈاؤن کے دؤران عائد کی گئیں تمام پابندیوں کو مکمل طور پر برخاست کردیا جائے۔
یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ ریاست میں کوروناوائرس متاثرین کی تعداد میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے 11 مئی کو وزیراعلیٰ کے سی آر کی صدارت میں منعقدہ ریاستی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ 12 مئی میں سے ریاست میں دس روز تک مکمل طورپر لاک ڈاؤن نافذ کردیا جائے اس دؤران صبح 6 بجے تا دس بجے دن اشیائے ضروریہ کی خریدوفروخت کے لیے عوام کو سہولت فراہم کی گئی تھی۔
بعد ازاں 21 مئی سے اس لاک ڈاؤن میں مزید دس دنوں کی توسیع کی گئی تھی تاہم اس لاک ڈاؤن کے دؤران عوام کو خرید و فروخت کی غرض سے دئیے گئے وقفہ میں اضافہ کرتے ہوئےصبح 6 بجے سے ایک بجے دن تک کردیا گیا تھا۔
پھر دوبارہ یکم جون سے اس لاک ڈاؤن میں مزید دس دنوں کی توسیع کی گئی اور اس وقفہ کو 12 گھنٹے تک بڑھادیا گیا تھا یعنی صبح 6 بجے سے شام 6 تک تک کاروبار کی اجازت دی گئی تھی۔
آج اس 33 دن طویل لاک ڈاؤن کی برخواستگی کے اعلان سے عوام نے راحت کی سانس لی ہے بالخصوص روزآنہ کے کاروبار اور محنت مزدوری کے ذریعہ اپنا ذریعہ معاش حاصل کرنے والے طبقہ کو راحت نصیب ہوئی ہے۔
لیکن عوام کے لیے یہ انتہائی لازمی ہے کہ کوروناوائرس کی تیسری لہر کی پیش قیاسیوں، افواہوں اور اطلاعات کے پیش نظر کوویڈ قواعد کو خود پر لازمی کرلیں، ماسک لازمی طور پر پہنیں ، سینی ٹائزر کا استعمال کریں اور ساتھ انسانی دوری کا خاص خیال رکھیں۔بھیڑ بھاڑ والے عوامی مقامات سے خود کو دور رکھیں۔

اب جبکہ بارش کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی موسمی وبائیں مثلاً بخار، کھانسی ، زکام عام بات ہیں اور اتفاق سے کورونا وائرس کی علامات میں یہ علامات بھی شامل ہیں تاہم ان موسمی علامات سے عوام ہرگز خوفزدہ نہ ہوں، معالج سے اپنا علاج کروائیں اور قوت مدافعت کو قائم رکھنے اور اس میں اضافہ کرنے والی غذاؤں کا ضرور استعمال کریں۔
احتیاطی طور پر اپنے مکانات کے اطراف ماحول کو ہمیشہ صاف ستھرا رکھیں جن سے مچھروں کی افزائش ہوتی ہے اسی طرح موسم کے لحاظ سے گرم غذاؤں کا استعمال کریں اور پینے کے پانی کو گرم کرنے کے بعد ٹھنڈا کرکے استعمال کریں۔کیونکہ احتیاط کو علاج سے بہتر مانا گیا ہے!

