خانگی اسپتالوں کیلئے علاج کی فیس کے تعین پرمشتمل”جی او” کیوں جاری نہیں کیا گیا؟ : تلنگانہ ہائیکورٹ کا سوال

خانگی اسپتالوں کیلئے علاج کی فیس کے تعین پرمشتمل”جی او” کیوں جاری نہیں کیا گیا؟

23 جون تک جی او جاری کرنے ریاستی ہائیکورٹ کا حکم 

حیدرآباد 9۔جون(سحر نیوزڈاٹ کام)

ریاست تلنگانہ میں جاری کوروناوائرس اور اس کی روک تھام کیلئے حکومت کے اقدامات پر ریاستی ہائیکورٹ میں گزشتہ دو ماہ سے سماعت جاری ہے۔آج ہائیکورٹ میں ریاستی حکومت،ریاستی ڈی جی پی کی جانب سے مباحثہ ہوا۔

آج ہائیکورٹ میں پیش ہوئے ہیلتھ سیکریٹری سید علی مرتضیٰ رضوی آئی اے ایس کو معزز ججس کے کئی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ان سے پوچھا گیا کہ خانگی اسپتالوں میں کوویڈ کے علاج اور ادویات کی قیمتوں کو طئے کرنے کیلئے ہائیکورٹ نے ہدایت دی تھی اس سلسلہ میں اب تک کیوں ریاستی حکومت نے جی او جاری نہیں کیا؟

جس پر ہیلتھ سیکریٹری نے ہائیکورٹ سے کہا کہ اس کے لیے مزید چار ہفتوں کا وقت دیا جائے تاہم ہائیکورٹ نے جی اوجاری کرنے کیلئے دو ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت دی کہ 23 جون تک جی او جاری کیا جائے۔

ہائیکورٹ کے سوال پر ہیلتھ ڈائرکٹر سرینواس نے بتایا کہ کورونا متاثرین کے علاج کیلئے خانگی اسپتالوں کی جانب سے زائد فیس وصول کیے جانے کی 223 شکایات موصول ہوئی ہیں اور 135 خانگی اسپتالوں کو اس سلسلہ میں شوکاز نوٹس (وجہ بتاؤ نوٹس) جاری کی گئی ہے ان میں سے 22 اسپتالوں کو دوبارہ کوویڈ متاثرین کے علاج کی اجازت دی گئی ہے۔

ہائیکورٹ نے پوچھا کہ جن اسپتالوں کو نوٹسیں جاری کی گئی ہیں انہوں نے کوئی جواب داخل کیا ہے؟

جس پر ڈائرکٹر ہیلتھ سرینواس نے ہائیکورٹ کو بتایا کہ ایک خانگی اسپتال کی جانب سے وصول کیے گئے 65 لاکھ روپئے کی رقم واپس دلوائی گئی ہے۔

ہائیکورٹ نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کی تشکیل پر بھی سوال کیا جس پر ڈائرکٹر ہیلتھ نے بتایا کہ کمیٹی کی تشکیل سے متعلق فائل چیف سیکریٹری کو روانہ کی گئی ہے ڈائرکٹر ہیلتھ سرینواس نے ہائیکورٹ کو بتایا کہ جلد ہی کمیٹی کی تشکیل اور جی او کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی اور ایک ہفتہ میں کمیٹی  تشکیل دی جائے گی۔

ہائیکورٹ نے مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت سے سوال کیا کہ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں کیوں کمی نہیں کی گئی اور اس معاملہ میں ہائیکورٹ نے نیشنل فارما سیوٹیکلس پرائزنگ اتھارٹی کو بھی ایک فریق بنایا ہے۔