ارون کمار: کوئلے کی گرد سے کامیابی کی مسکراہٹ تک، لاری کیبن سے سوشل میڈیا تک کی شہرت کا سفر

ارون کمار: کوئلے کی گرد سے کامیابی کی مسکراہٹ تک
لاری کیبن سے سوشل میڈیا   تک کی شہرت کا سفر

حیدرآباد : 06۔اکتوبر
(محمد یحییٰ خان/ سحرنیوز بیورو/سوشل میڈیا ڈیسک)

سڑک کے کنارے کھڑی ایک لاری، ہاتھ میں بھاپ اڑاتا ہوا چائے کا چھوٹا سا اسٹیل کا کپ اور  چہرے پر بے ساختہ کھل جانے والی کھلکھلاہٹ۔ آج یہی مسکراہٹ سوشل میڈیا پر کروڑوں لوگوں کو ہنسانے والے ایک مقبول میم Meme# کے طور  پر پہچانی جاتی ہے۔ لیکن اس چند لمحوں کی وائرل ویڈیو کے پیچھے ایک ایسے نوجوان کی زندگی کی جدوجہد چھپی ہے، جسے سوشل میڈیا کی چمک دمک شاید کبھی  بیان نہ کرسکی۔

اس نوجوان کا نام ارون کمار ہے۔ تلنگانہ کے جے شنکر بھوپال پلی ضلع کے مہاموتھارم منڈل کے کرل کنٹہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے ارون کا بچپن انتہائی غربت میں گزرا۔ حالات نے اسے کم عمری ہی میں تعلیم سے دور کر دیا اور وہ صرف چوتھی جماعت تک تعلیم حاصل کرسکا۔ اس کے بعد کوئلے کی کانوں کی گرد اور لاریوں کے نیچے کلینر کی حیثیت سے محنت مزدوری اس کی روزمرہ  زندگی کا حصہ بن گئی۔

ایک دن کوئلہ لوڈنگ پوائنٹ پر  دن بھر سخت محنت کرنے کے بعد ارون نے غسل کیا اور  نئے کپڑے پہنے۔اسی دوران لاری ڈرائیور نہرو نے چائے پیتے ہوئے اس سے ایک چھوٹا سا مذاق کیا،  جس پر ارون بے ساختہ ہنس پڑا۔

نئے کپڑے خراب نہ ہوجائیں،اس معصومانہ فکر کے باعث وہ چائے کا کپ اپنے جسم سے ذرا دور رکھتے ہوئے ہنس رہا تھا۔اس کی اس بے ساختہ ہنسی میں نہ غربت کی کوئی لکیر  دکھائی دے رہی تھی اور نہ مستقبل کی پریشانی، بلکہ صرف ایک معصوم اور بے فکری سے بھری مسکراہٹ تھی۔

لاری ڈرائیور نہرو نے ان چند لمحوں کو اپنے موبائل فون کے کیمرے میں محفوظ کرلیا اور تفریحاً سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ویڈیو وائرل ہوگئی اور ارون کی مسکراہٹ کروڑوں لوگوں تک پہنچ گئی۔

آج صورتحال یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر جب بھی کوئی کامیڈی ریل بناتا ہے،ارون کی یہی معصوم مسکراہٹ بطور ری ایکشن میم استعمال ہوتی دکھائی دیتی ہے۔یوں وہ چہرہ سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک مقبول اور تقریباً ہر جگہ استعمال ہونے والے کامیڈی ری ایکشن میم کے طور پر اپنی شناخت بنا چکا ہے۔لیکن ارون کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔

جب کروڑوں لوگ اس کی مسکراہٹ کو اپنی ریلز میں استعمال کرکے محظوظ ہو رہے تھے، اسی دوران لاری ڈرائیور نہرو نے ارون کے بارے میں ایک اور حقیقت محسوس کی۔ارون نہ تو سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیو کے نیچے آنے والے ہزاروں تبصرے پڑھ سکتا تھا اور نہ  ہی انہیں سمجھ سکتا تھا، کیونکہ وہ ناخواندہ تھا۔

ارون کی اس حالت نے نہرو کو متاثر کیا۔خود غربت کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑنے والے نہرو نے فیصلہ کیا  کہ ارون کمار  کی زندگی صرف لاری کے پہیوں کے نیچے محنت کرتے ہوئےختم نہیں ہونی چاہیے۔اس کے بعد لاری کا کیبن ہی ارون کے لیے کلاس روم بن گیا۔

سفر کے دوران اور شاہراہوں کے کنارے لاری کی ہیڈ لائٹس کی روشنی میں نہرو نے ارون کو حروف اور  پڑھنے لکھنے کی تعلیم دینی شروع کی۔اس نے ارون کے لیے کتابیں خریدیں، اس کی فیس ادا کی اور اوپن اسکول کے ذریعہ اسے دسویں جماعت کے امتحان میں شرکت کا موقع فراہم کیا۔

آخرکار ارون نے دسویں جماعت کا امتحان کامیابی سے مکمل کرلیا اور اپنی زندگی میں ایک ایسی کامیابی حاصل کی، جو شاید اس کی سوشل میڈیا پر وائرل مسکراہٹ سے کہیں زیادہ اہم تھی۔

سوشل میڈیا کی دنیا نے ارون کی مسکراہٹ کو استعمال کرتے ہوئے کروڑوں ویوز حاصل کیے،لاکھوں روپئے کمالیے،لیکن اسے اس سے کوئی رائلٹی نہیں ملی۔ تاہم اس کے باوجود لاری کے کیبن سے شروع ہونے والے تعلیم کے اس سفر نے ارون کمار کے اندر خود اعتمادی کو ضرور مضبوط کر دیا۔

یہ کہانی ایک ایسے لاری ڈرائیور کے جذبۂ انسانیت کی مثال ہے، جو خود غربت کے درد سے واقف تھا اور اسی لیے اس نے ایک محنت کش نوجوان کے مستقبل کو سنوارنے کی کوشش کی۔ساتھ ہی  یہ ارون جیسے محنت کش نوجوان کے عزم کی بھی مثال ہے، جس نے مشکلات کے باوجود اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش کی۔

غربت اور مشکلات زندگی میں کتنی ہی تاریکیاں کیوں نہ پیدا کر دیں، اگر انسان کے اندر عزم اور حوصلہ ہو اور اسے اچھے لوگوں کا ساتھ مل جائے تو خود اعتمادی دوبارہ جنم لے سکتی ہے۔ارون کی زندگی اس بات کی ایک خوبصورت مثال ہے۔

کوئلے کی گرد سے نکل کر سڑک کے کنارے کھلنے والی وہ معصوم مسکراہٹ آج سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگوں کو ہنسا رہی ہے،لیکن اس مسکراہٹ کے پیچھے چھپی جدوجہد ہمیں یہ یاد  دلاتی ہے کہ ہر وائرل چہرہ کے پیچھے ایک انسان، ایک زندگی اور ایک کہانی ہوتی ہے۔ بقول جاوید اختر

ہنستی آنکھوں میں جھانک کر دیکھو
کوئی آنسو کہیں چھپا ہوگا

اگر کبھی زندگی میں ارون سے ملاقات ہو تو اسے گلے لگانے کی خواہش صرف اس کی وائرل مسکراہٹ کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس جیسے ان بے شمار محنت کشوں کے احترام میں ہوگی جو اس معاشرہ کو اپنی محنت، وقت اور خلوص دیتے ہیں۔

دنیا شاید ہر محنت کی مناسب قیمت نہ لگا سکے، لیکن انسانیت کی قدر کبھی کم نہیں ہوتی۔

ارون کمار کا اپنا ایک انسٹاگرام اکاونٹ بھی ہےجس کے 8 لاکھ 61  فالوورز ہیں۔جبکہ نہرو اور ارون کمار کا ایک مشترکہ یوٹیوب چینل بھی ہے جس کے 92 ہزار سے زائد سبسکرائبرز ہیں۔

سینئر صحافی سرینواس گنجی واراپو
وشاکھا پٹنم ،آندھرا پردیش
کے تلگوفیس بک پوسٹ کا ترجمہ

" یہ بھی پڑھیں "

حسرت جے پوری: جانے کہاں گئے وہ دن سے سن سائبا سن تک
دو فلم فیئر ایوارڈ یافتہ،دو ہزارسے زائدمقبول گیتوں کے خالق

حسرت جے پوری : جانے کہاں گئے وہ دن سے سن سائبا سن تک