تلنگانہ : رنگاریڈی ضلع کے شاہ آباد میں درندگی کا ننگا ناچ، انسانیت شرمسار ، پو کسو کیس کے ملزم راجکمار کے ہاتھوں 6 افراد بشمول 2 معصوم بچے کے قتل کی لرزہ خیز واردات

تلنگانہ :    رنگاریڈی  ضلع کے شاہ آباد میں درندگی کا  ننگا ناچ،  انسانیت شرمسار
پو کسو کیس کے ملزم راجکمار کے ہاتھوں 6 افراد بشمول 2 معصوم بچوں کے قتل کی لرزہ خیز واردات
شکایت کنندہ ماں ، لڑکی اوردادی کے علاوہ بیوی بچوں کابھی قتل، ملزم کی اطلاع پر 2  لاکھ انعام کا اعلان

رنگاریڈی/تانڈور : 11۔جولائی(محمد یحییٰ خان /سحرنیوزبیورو)

حیدرآباد کے مضافاتی ضلع رنگاریڈی کے شاہ آباد منڈل میں دئی ولا گوڑہ میں گذشتہ رات خون کی ہولی کھیلتے ہوئے ایک نابالغ لڑکی کی پولیس میں شکایت پراس کیخلاف پوکسو ایکٹ پر برہم درندہ صفت راجکمار کے ہاتھوں صرف نصف گھنٹہ کے دوران 6معصوم جانوں کے قتل کی واردات نے پوری ریاست تلنگانہ کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔موضع کے برہم عوام نے اس اندوہناک واقعہ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اس کو ریاستی حکومت اور محکمہ پولیس کی ناکامی قرار دیا ۔

اس لرزہ خیز قتل کی وارداتوں کی تفصیلات کمشنر پولیس فیوچر سٹی کمشنریٹ ترون جوشی ، چیوڑلہ پولیس اور موضع کے عوام کے مطابق موضع کا ساکن راجکمار ایک نابالغ طالبہ کو محبت کے نام پر دھمکا رہا تھا کہ اگر وہ اس سے محبت نہیں کرے گی تو اس کا انجام بھی اس کے والد جیسا ہوگا جس کا قتل کیا گیا تھا۔

راجکمار کی اس دھمکی اورمسلسل ہراسانی سے پریشان ماں نے لڑکی کا کالج جانا بند کروادیا تھا لیکن سالانہ امتحانات میں شرکت دوران راجکمار اس نابالغ لڑکی کو مسلسل پریشان کرتے ہوئے دھمکیاں دے رہا تھا۔ اس سلسلہ میں لڑکی کی ماں نے شاہ آباد پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی جس پر پولیس نے 16؍مئی کو راجکمار کے خلاف پوکسو ایکٹ کے تحت ایک کیس درج رجسٹر کیا تھا تاہم اس وقت سے راجکمار روپوش ہوگیا تھا۔اور اس نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی ۔

کمشنر پولیس فیوچر سٹی کمشنریٹ ترون جوشی نے میڈیا کو بتایا کہ جمعہ کی رات 11 بج کر10 منٹ پر راجکمار شاہ آباد منڈل میں دئی ولا گوڑہ پہنچا پہلے اس نے شکایت کنندہ لڑکی کے مکان پر دستک دی تو اس کی ماں نے جیسے ہی دروازہ کھولا راجکمار نے اس کے پیٹ میں چاقو گھونپ دیا اور پھر مکان کے اندر داخل ہوکر لڑکی کی دادی کے پیٹ میں چاقو گھونپ کر ان کا گلا کاٹ دیا اورپھر شکایت کنندہ لڑکی کو اپنے ساتھ کار میں لے کر چلا گیا جاتے جاتے اس جلاد نے دروازہ پر لہولہان پڑی ہوئی لڑکی کی ماں کا گلا کاٹ دیا۔

راجکمار اس نابالغ کو اپنے ساتھ چار کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود دیوادولا تالاب پر لے گیا اور وہاں اس درندہ نے لڑکی کا گلا کاٹ کر قتل کرنے کے بعدلاش کو وہیں پھینک دیا۔

پھر وہاں سے یہ اپنے گھر پہنچا اور اپنے بچہ کو دودھ پلانے میں مصروف اس کی بیوی پر چاقو سے حملہ کردیا جس نے مزاحمت کی کوشش کی تاہم راجکمار نے اپنی بیوی کا گلا کاٹ کر اس کے پیٹ میں بھی چاقو گھونپ کر اس کا قتل کردیا ۔بعدازاں اس جلاد صفت باپ راجکمار نے اپنے دونوں معصوم بچوں کا بھی اسی طرح قتل کرکے گھر سے باہر نکل گیا اور اپنے باپ کو فون کرکے بتایا کہ اس نے ان تمام 6 افراد کا قتل کر دیا ہے اور اب وہ خود کو بھی ختم کر دے گاپھر اس کے بعد راجکمار اپنا فون بند کرکے وہاں سے کار میں فرار ہوگیا۔

راجکمار کے ہاتھوں قتل ہونے والوں میں چٹیالا رکمماں(65سالہ)، چٹیالا لکشمی (45سالہ)، نابالغ لڑکی( 17سالہ)، بیوی پاروتی سریتا (30؍سالہ)، اس کے دونوں بیٹے  پرکشت (3سالہ) اور دیوکشت( 2سالہ) شامل ہیں۔

کمشنر  پولیس ترون جوشی نے کہا کہ راجکمار نے یہ تمام قتل اندرون 30 منٹ انجام دئیے ہیں۔اس قتل کی اطلاع کیساتھ ہی پولیس موضع پہنچ گئی اور بعد پنچنامہ 6  نعشوں کو بغرض پوسٹ مارٹم چیوڑلہ کے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ایک ہی موضع میں 6افراد کے قتل کی اطلاع کیساتھ ہی رنگاریڈی ضلع ، حیدرآباداور پڑوسی ضلع وقارآباد کے علاوہ ساری ریاست میں سنسنی کی لہر دوڑ گئی۔

گذشتہ رات ہی کمشنر پولیس فیوچر سٹی کمشنریٹ ترون جوشی،ڈی سی پی یوگیش گوتم، ضلع کلکٹر رنگاریڈی نارائن ریڈی اور دیگر اعلیٰ عہدیدار جائے مقام پر پہنچ گئے۔

اسی دورن ہفتہ کے دن موضع کے عوام نے شدید احتجاج منظم کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ محکمہ پولیس کی ناکامی کے باعث ہی 6 معصوم جانیں ضائع ہوئی ہیں،ان کا کہنا تھا کہ اگر ماہ مئی میں ہی پوکسو ایکٹ کے تحت کیس درج کرنے کے بعد پولیس راجکمار کو گرفتار کرتی تو آج  یہ معصوم جانیں ضائع نہ ہوتیں، احتجاجیوں کا الزام ہے کہ مقامی پولیس نے راجکمار کے ساتھ تعاون کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق راجکمار کے خلاف ایک اراضی معاملہ میں دو افراد پر حملہ کا ایک کیس بھی شاہ آباد پولیس اسٹیشن میں درج تھا۔ضلع کلکٹراور رکن اسمبلی چیوڑلہ کالے یادیا کو ان احتجاجیوں کے غصہ کا سامنا کرنا پڑا جس کے دوران رکن اسمبلی وہاں سے روانہ ہوگئے۔

پولیس کے بموجب راجکمار آن لائن بٹنگ کی لت میں مبتلا تھا اور اس نے اس میں دو کروڑ  روپئے  ہارے تھے اور ماضی میں اس نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔

ابتدائی تحقیقات کے فوری بعد سرکل انسپکٹر پولیس کرانتی ریڈی اور سب انسپکٹر پولیس شاہ آبادرمیش کو معطل کر دیا گیا ہے اور اس قتل کی وارداتوں میں ملوث مفرور راجکمار کی اطلاع دینے والوں کو دولاکھ روپئے کے انعام کا پولیس نے اعلان کیا ہے اطلاع دینے والوں کی شناخت مخفی رکھی جائے گی ۔ساتھ ہی پولیس کی دس مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو راجکمار کی تلاش میں مصروف ہیں۔

کلکٹررنگا ریڈی ضلع سی۔نارائن ریڈی نے ہفتہ کے روز  تین مہلوک خواتین کے لواحقین کو 5 لاکھ روپئے کے ایکس گریشیا کا اعلان کیا  جس میں ایک نابالغ لڑکی بھی شامل ہے۔چونکہ مقتول نابالغ لڑکی کی بڑی بہن مختلف طور پر معذور ہے، اس لیے انتظامیہ اسے حکومت کے زیر انتظام معذور انسٹی ٹیوٹ یا کسی پرائیویٹ میں داخل کرانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔ کلکٹر کے اعلان کے جواب میں گاؤں والوں نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت 25 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرے جس کے لیے حکام نے یقین دلایا کہ وہ اس پر غور کریں گے۔

شاہ آباد منڈل میں اس لرزہ خیز قتل کی واردات کی اطلاع کے بعد موضع پہنچنے والے بی آر ایس کے سابق ریاستی وزیر  و رکن اسمبلی مہیشورم پی۔سبیتا ندرا ریڈی، سابق وزیر ستیہ وتی راتھوڑ اور  بی آر ایس قائد آر ایس  پروین کمارکو پولیس نے اپنی تحویل میں لیتے ہوئے شنکر پلی منتقل کیا۔

جبکہ کارگزار صدر  بی آرایس کے ٹی آر اور سابق وزیر ہریش راو نے قتل کی ان وارداتوں پر شدید افسوس اور غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے اس کو حکومت اور پولیس کی ناکامی قرار دیا کہ پوکسو کیس درج ہونے کے 55 دن بعد بھی پولیس نے راجکمار کو کیوں گرفتار نہیں کیا۔؟ شاہ آباد منڈل کے اس موضع میں بڑی تعداد میں پولیس بندوبست کیا گیا ہے۔

اسی دوران ہفتہ کی رات میڈیا کے ایک گوشہ میں ایسی اطلاعات زیر گشت رہیں کہ پوکسو ایکٹ کے تحت درج کیس میں معمولی دفعات شامل کرتے ہوئے شاہ آباد پولیس نے راجکمار کو اسٹیشن ضمانت دی تھی اور اس کے لیے  20  لاکھ روپئے کی رشوت حاصل کی گئی تھی۔!؟

ان تمام الزامات 6  معصوم جانوں کے قتل کے معاملہ کی تحقیقات میں کمشنر پولیس فیوچر سٹی کمشنریٹ ترون جوشی خود بھی شامل ہیں اور تمام زاویوں سے اس کا جائزہ لے  رہے ہیں کہ اس میں کون کون ملوث ہیں اور  پولیس سے کہاں غلطیاں ہوئی ہیں ۔! اس سلسلہ میں مزید انکشافات کا بھی امکان ہے۔!!