وقارآباد ضلع میں ووٹوں کی گنتی کل، تمام کی نگاہیں نتائج پر، سوشل میڈیا پر ایگزٹ پولس، کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان اصل مقابلہ !!

وقارآباد ضلع میں ووٹوں کی گنتی کل، تمام کی نگاہیں نتائج پر، سوشل میڈیا پر ایگزٹ پولس
کانگریس اور  بی آر  ایس کے درمیان اصل مقابلہ!  دونوں نے کیا کامیابی کا دعویٰ

وقارآباد /تانڈور : 12۔فروری (سحرنیوز ڈاٹ کام )

وقارآباد ضلع میں بھی کل 11 فروری کو بلدی انتخابات کی رائے دہی کے بعد اب ووٹوں کی گنتی کے لیے اُلٹی گنتی کا آغاز ہوگیاہے۔ بلدیہ تانڈور کے 36 بلدی حلقہ جات میں کل رائے دہی کے بعد  پولیس کی نگرانی میں  بیالٹ باکسیس کو یہاں کے سینٹ مارکس جوبلی اسکول کے اسٹرانگ روم میں منتقل کیا  گیا  جہاں کل رات سے ہی پولیس کا سخت بندوبست کیا  گیاہے۔
کمشنر بلدیہ تانڈور  مدھوسدھن ریڈی نے  بتایا کہ اس سلسلہ میں تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، ووٹوں کی گنتی کا آغاز کل  13 فروری ،بروز  جمعہ 7بجے صبح سے سینٹ مارکس جوبلی اسکول میں ہوگا اور اس کے لیے  دو  کاونٹنگ روم قائم کیے گئے ہیں 12 راونڈ کی گنتی کے حساب سے تین راونڈ میں ووٹوں کی گنتی ہوگی اور  ہر راونڈ کے ساتھ کامیاب ہونے والے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا جاتا رہے گا۔انہوں نے بتایا کہ ووٹوں کی گنتی کے مرکز میں مقابلہ کرنے والے امیدواروں  یا ان کی جانب سے نامزد ایجنٹ کو ہی داخلہ کی اجازت ہوگی۔
بلدیہ تانڈور کے 36 بلدی حلقوں میں جملہ رائے دہندگان کی تعداد 77,029 ہے، جن میں 37,499 مرد رائے دہندگان ، خاتون رائے دہندگان کی تعداد 39,525   اور تیسری صنف کے پانچ رائے دہندے شامل ہیں۔کل ان میں سے 25,488 مرد ،  26,534 خاتون اور تین تیسری صنف کے رائے دہندوں نے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا تھا۔
بلدیہ تانڈور کے 36 بلدی حلقہ جات کےلیے جملہ 135 امیدواروں نےقسمت آزمائی کی ہے جن میں کانگریس کے 36، بی آر ایس کے  36،  بی جے پی کے 28، کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے 15 امیدواروں کے علاوہ دیگر جماعتوں کے 6  اور 15 آزاد  امیدوار شامل ہیں جن کی سیاسی قسمت کافیصلہ کل ووٹوں کی گنتی کے بعد ہوگا۔
دوسری جانب سیاسی پنڈتوں کے علاوہ الیکٹرانک اور  پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافی رائے دہندوں کی نبض پہچاننے میں ناکام ہی  ہیں کہ کونسی پارٹی بلدیہ تانڈور  پر  اپنا پرچم لہرائے گی۔
ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد 2014ء میں ہونے والے پہلے اور 2020ء میں منعقدہ بلدی انتخابات میں بی آر ایس پارٹی نے ایک مرتبہ مجلس کی تائید سے اور دوسری مرتبہ تنہا اکثریت کیساتھ بلدیہ تانڈور پر قبضہ کیا تھا۔ 36رکنی بلدیہ تانڈور کے عہدہ صدارت پر  قبضہ کے لیے 19 ارکان بلدیہ کا جادوئی ہندسہ حاصل کرنا ضروری ہے۔
چونکہ ریاست میں کانگریس برسراقتدار ہے تو اندازہ لگایا جارہا ہے کہ کانگریس اکثریت حاصل کرسکتی ہے لیکن یہاں بی آر ایس کا  کیڈر اور اس کی عوامی مقبولیت  ہنوز برقرار ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے۔!
اس پر  بلدی انتخابات کے اعلامیہ کی اجرائی کے بعد سے رکن اسمبلی تانڈور بویانی منوہر ریڈی اور سابق رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی  کا  تانڈور میں  قیام ان کے درمیان جم کر الزامات،جوابی الزامات ، ایک دوسرے کو چیلنج اور تانڈور کی ترقی کے دعووں کا سلسلہ  رائے دہی کے  دن تک بھی جاری تھا۔
اسی دوران یہاں کل رات سے سوشل میڈیا پر اور میڈیا کے ایگزٹ پولس کا سلسلہ جاری ہوگیا ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جادوئی ہندسہ کسی ایک پارٹی کو حاصل نہیں ہوگا؟ اور کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہونے کا امکان کم ہے۔!!
وہیں سروے سےمتعلق  ایسے پوسٹرس بھی سوشل میڈیا  پر وائرل ہیں جس میں دعویٰ کیا گیاہے کہ بلدیہ تانڈور میں کانگریس پارٹی کو 17 تا 20 بلدی نشستیں حاصل ہونگی، وہیں  بی آر ایس پارٹی کو 15 تا 17 حلقوں میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے جبکہ  بی جے پی  دو  تا  تین، کل ہند مجلس اتحادالمسلمین دو  پر  اور  ایک نشست پر  آزاد  امیدوار کامیاب ہوسکتے ہیں۔!!
سوشل میڈیا پر زیرگشت ان تمام ایگزٹ پولس پر  مبنی پوسٹرس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ حتمی نتائج ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی منظر عام  پر آئیں گے جس کے لیے کل جمعہ کی دوپہر تک ووٹوں کی کاؤنٹنگ اورنتائج  کا انتظار کرنا ہوگا۔
دوسری جانب  بی آر ایس پارٹی نے انتخابات سے قبل ہی  پٹلولا نرسملو کے نام کا صدر نشین بلدیہ کے امیدوار کے طورپر اعلان کر دیا ہے جو کہ بلدی حلقہ 10  شاہی پور سے مقابلہ کر رہے ہیں جبکہ ان کی اہلیہ دیپا نرسملو بلدی حلقہ 9 سے مقابلہ میں ہیں۔لیکن اس سلسلہ میں کانگریس نے کسی بھی نام کا اعلان نہیں کیا ہے۔ بلدیہ تانڈور کی صدارت کا عہدہ بی سی جنرل کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :

تلنگانہ کی 116 بلدیات اور سات کارپوریشنس میں بحیثیت مجموعی 73 فیصد رائے دہی، 13 فروری کو ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان

 

Social Media Viral, Saher news is Not Responsible For This