وقارآباد ضلع کے ایک موضع کے کسانوں کی انوکھی ایجاد، کشتی رانی کے دلکش مناظر
ندی پار کرنے کی غرض سے پلاسٹک ڈرم کی کشتیاں اور برتنوں سے پتوار بنالیے
،
حیدرآباد/وقارآباد: 17۔ستمبر
( سحر نیوز ڈاٹ کام،سوشل میڈیا ڈیسک)
محاورہ مشہور ہےکہ ” ضرورت ایجاد کی ماں ہے ” جس کو وقارآباد ضلع کے حلقہ اسمبلی تانڈور میں موجود یالال منڈل کے موضع ناگ سمندرکے کسانوں نے درست ثابت کر دکھایا ہے۔جنہوں نے طویل ندی عبور کرکے دوسری جانب موجود اپنے کھیتوں تک جانے اور واپس آنےکے لیے پلاسٹک کے ڈرم (بیارل) کاٹ کر ان سے کشتیاں اور سلور کی پلیٹوں سے ان کشتیوں کو چلانے کے لیے چپو بھی تیار کرلیے اور کئی دن سے یہ کسان اسی کام میں مصروف ہیں۔ دیکھنے والوں کے لیے یہ نظارہ بہت ہی دلکش نظر آ رہا ہے لیکن اس خطرناک طریقہ سے کشتی رانی ان کسانوں کی مجبوری ہے۔!

تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں ایک ہفتہ تک ریاست میں ہونے والی شدید ترین بارش کے باعث حلقہ اسمبلی تانڈور میں موجود یالال منڈل کا شیوا ساگر پراجکٹ بھی لبریز ہوگیا۔جس کے بعد اس پراجکٹ سے خارج ہونے والا زائد پانی کاکراوینی ندی سے ہوکرموضع ناگ سمندر سے گزر رہاہے۔
موضع اور ندی کی دوسری جانب موجود کھیتوں میں موضع کے کسان کاشت کرتے ہیں۔ناگ سمندر موضع کے کسانوں کےلیے لازمی ہوگیا ہے کہ وہ اس ندی کے سیلابی پانی کے بہاو میں سے گزر کر ہی اپنے کھیتوں تک جائیں اور دن بھر وہاں کام کرنے کےبعد شام کو واپس اپنے گھروں کو آئیں۔کئی دن تک کسان ندی کے کنارے پر پہنچتے اور اپنے کپڑے اتار کر اپنے سروں اور کاندھوں پر رکھ کر مخالف سمت سے ندی میں کمر اور گردن تک کی بلندی والے بہتے ہوئے پانی میں سے اپنے جانوروں کو لے کر گزر کر اپنے اپنے کھیتوں کو پہنچتے رہے۔آج بھی چند کسان اسی پر عمل کر رہے ہیں جنہوں نے کشتیاں نہیں بنائی ہیں۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے چند کسانوں نے پلاسٹک کے ڈرمس کو کاٹ کر انہیں کشتیوں کی شکل دے دی۔ان کشتیوں کی تیاری میں آہنی نٹ بولٹ استعمال کیے، خالی جگہوں کو مکمل طور پر بھر دیا گیا تاکہ اس کے ذریعہ ندی کا پانی ان کشتیوں میں داخل نہ ہو۔لکڑیوں پر سلور کی پلیٹ جوڑ کر انہیں چپو بنایا گیا۔اب کسان روزآنہ انہی ڈرم سے بنائی گئیں دیسی کشتیوں میں سوار ہوکر ندی کو پار کرکے اپنے کھیتوں تک پہنچتے ہیں۔
https://www.facebook.com/khanyahiya276/videos/1441317013209793
اسی کو دیکھ کر موضع کے چند افراد نے بھی اب ایسی ہی کشتیاں بنالی ہیں جن میں بیٹھ کر وہ ندی پار کرتے ہیں۔چونکہ ان کشتیوں کا سائز چھوٹا ہے تو ان میں تین افراد ہی بیٹھ سکتے ہیں اور ساتھ میں دوپہر کا کھانا، زرعی اشیاء بھی لے جاتے ہیں۔قابل غور بات یہاں یہ بھی ہے کہ یہ کشتیاں کسی کمپنی کی جانب سے بھی نہیں بنائی گئی ہیں اس لیے ان کسانوں کو ہمیشہ خوف رہتا ہے کہ بہتی ہوئی اس ندی کے پانی میں کہیں کوئی حادثہ نہ ہوجائے۔!؟
کسانوں اور موضع کے عوام کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ کے مستقل حل کے لیے ضروری ہے کہ کاکرا وینی ندی پر ایک پل بنایا جائے۔وزیراعلیٰ ریونت ریڈی جن کا تعلق چونکہ وقارآباد ضلع کے اسمبلی حلقہ کوڑنگل سےہے جس کا فاصلہ اس ندی سے بمشکل دس کلومیٹر ہوگا اور رکن اسمبلی تانڈور بویانی منوہر ریڈی سے ان کسانوں کا مطالبہ ہے کہ وہ اس جانب توجہ دیں۔
موضع ناگ سمندر کے ان کسانوں کے اس کام کو ایک ایجاد ہی کہا جاسکتا ہے۔اور انہوں نے اپنے اس کام کے ذریعہ ایسے لوگوں کو ایک پیغام بھی دیا ہے کہ کوئی بھی کام صرف ہمت، حوصلہ اور عزم کے ساتھ کیا جائے تو ناکامی کامیابی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
چونکہ فصلوں کی دیکھ بھال بھی ضروری ہوتی ہے اور کسانوں کا اپنے کھیتوں کو روز جانا لازمی ہوتا ہے تو ایسے میں انہوں نے ندی میں پانی کی سطح کے کم ہونے کا انتظار نہیں کیا کہ شاید اس کے لیے ہفتوں لگ جاتے یا پھرحکومت اور انتظامیہ پر الزام عائد کرنےکے بجائے خود اپنی کشتیاں بنالیں اور روز پانی کا سینہ چیر کر کشتی رانی کا لفط اٹھاتےہوئے ندی کی دوسری جانب موجود اپنے کھیتوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ پھر شام ڈھلنے سے قبل انہی کشتیوں کے ذریعہ واپس اپنے گھروں کو واپس ہوجاتے ہیں۔

ہر وقت مختلف بہانوں کے ذریعہ کسی نہ کسی پر رونے، امتیازی سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے کوشش کرنے سے کترانے والے اور اپنی ذمہ داریوں سے فرار ہونے کے بہانے بنانے والوں کے لیے یہ کسان ایک مثال ہیں۔!!
" یہ بھی پڑھیں "
حسرت جے پوری : کچھ یادیں۔کچھ باتیں
جانے کہاں گئے وہ دن، چاہے کوئی مجھے جنگلی کہے سے سُن سائبا سُن تک
2000 سے زائد فلمی گیت اور دو فلم فیئر ایوارڈ یافتہ
(25 ویں برسی پر خراج عقیدت)
مضمون اور ویڈیوز اس لنک پر ⬇️


