عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ شفاعت مصطفیٰ ؐ و نجات اخروی کا بہترین ذریعہ : مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی کے اجلاس سے شاہ جمال الرحمن مفتاحی، مولانا پی ایم مزمل رشادی کا خطاب

عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ شفاعت مصطفیٰ ؐ ونجات اخروی کا بہترین ذریعہ
تحفظ ختم نبوت کی تحریک سے تمام مسلمانوں کو وابستہ ہونے کی ضرورت
مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی کے اجلاس سے شاہ جمال الرحمن مفتاحی،مولانا پی ایم مزمل رشادی کا خطاب

حیدرآباد/کاماریڈی : 19۔فروری
(سحرنیوز/پریس ریلیز)

عقائد و مسائل اور فضائل پورا اسلام ان تین بنیادوں پرمنحصر ہے،جہاں یہ تین جمع ہوجائیں وہاں اسلام بنتا ہے،عقائدصحیح ہیں تومسائل مقبول ہیں، ورنہ مسائل کتنےبھی اچھےہوں اللہ کے دربار میں غیرمقبول ہیں،عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کرنےسےنجات ملتی ہے اور شفاعت نبیؐ مقدر ہوگی،ختم نبوت کا کام کرنے والے بے شمار لوگوں کو خواب میں رسولؐ  کی زیارت نصیب ہوئی۔

ان خیالات کا اظہار مولانا پی یم مزمل بنگلورو نے بحیثیت مہمان خصوصی ایم آر گراؤنڈ کالونی،مسجد نور روڈ کاماریڈی میں منعقدہ تحفظ ختم نبوتؐ کے عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتےہوئے کیا۔اپنے خطاب میں مولانا پی ایم مزمل نے کہا کہ دنیا میں زیارت مصطفیٰ ؐ اور آخرت میں شفاعتِ مصطفیٰ ؐکا شرف حاصل ہوگا۔نیز ایسے لوگوں کےلیے جنت یقینی ہے،آج کے اس پرفتن دور میں ختم نبوت کی تحریک سے وابستہ ہونا فرض کا درجہ رکھتا ہے،چاہے آپ کسی بھی جماعت پارٹی سےمنسلک کیوں نہ ہوں، ایمان کی اس عظیم تحریک ختم نبوت سے وابستہ ہوجائیں۔

حضرت شاہ جمال الرحمن صاحب مفتاحی امیر شریعت تلنگانہ و آندھرا نے اس جلسہ سے صدارتی خطاب کرتےہوئے کہا کہ اللہ کی وحدانیت کو ماننا، نبی کریم رسول اللہؐ کی رسالت کوتسلیم کرنا،قرآن کو اللہ کی کتاب سمجھنا،اس دنیاکی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے،جس کوحیات اخروی  کہتے ہیں۔اس کو ماننا یہ دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے،ایمان والے کے لیے اللہ نے انعام کے طور پر جو نعمتیں آخرت والی زندگی میں رکھی ہیں وہ اس دنیا میں جو کچھ ہے، جتنا ہے، اس سے 10 گنا بڑی ہے۔اس لیے سب سے زیادہ قیمتی چیز ایمان ہے۔

حضرت نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج لوگوں نے اس کی اہمیت کو بھلا رکھا ہے،بے دینی،بے ایمانی کا شکار ہوگئے ہیں، دنیاوی وقتی فائدے کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی کامیابی کو بھلا بیٹھے ہیں۔اس لیے اس طرح کے جلسے یہ سمجھانے کے لیے ہوتے ہیں، جس کو اللہ نے رسول اللہؐ کے ذریعہ لوگوں کو عطا فرمایا ہے اور جس کو آپؐ لے کر ہمارے پاس آئیں ہیں، ان میں سے ہر ہر چیز کو صدفیصد ماننے کا نام ایمان ہے۔اس بات کا یقین ہو کہ جو کچھ بھی آپؐ نے بیان کیا اور قرآن میں آیا،وہ سب کا سب صحیح ہے،اس کے خلاف ہو ہی نہیں سکتا، چونکہ یہ ایمان دنیا کا سب سے بڑا سرمایہ تھا۔

حضرت شاہ جمال الرحمن مفتاحی نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس لیے جتنے دشمنانِ اسلام ہیں انہوں نے ایسی محنتیں شروع کیں کہ اس کے نتیجہ میں لوگوں کا ایمان خراب ہوگیا۔انہوں نےکہاکہ ایمان خراب ہوتاہے عقیدہ کی خرابی سے،لوگ قرآن وحدیث کو نہیں جاننے کی وجہ سے ان نئے نئے فتنوں میں مبتلا ہو کر ایمان سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔

اسلام کے بہت سےشعبے ہیں ان میں سے ایک شعبہ ہے تحفظ عقیدۂ ختم نبوت، یعنی اس عقیدے کی حفاظت کرنا کہ میرے اور آپ کے آقا اولین و آخرین کے سردار انبیاء و رسل کے امام،خاتم النبیینؐ اور اللہ کے آخری پیغمبر ہیں۔قرآن کریم کی کسی ایک آیت کا انکارکرنا بھی آدمی کو ایمان سے خارج کر دیتا ہے۔لیکن آج لوگ جہاں بہت سے پہلوؤں سے حملہ آور ہیں ان میں سے ایک ختم نبوت کا مسئلہ بھی ہے۔

حضرت شاہ جمال الرحمن مفتاحی نے کہا کہ ہزارہا لوگوں نے اس غلط پروپیگنڈے کو قبول کرلیا کہ سلسلۂ نبوت ابھی بھی جاری ہے اور بعض دعویددارانِ نبوت کی نبوت کو تسلیم بھی کر لیا اور انہیں اندازہ نہیں ہے کہ اس طرح سے انہوں نے پورے دین ہی کو گویا چھوڑ دیا۔ اس واسطے کے پورا کا پورا دین اسی سے وابستہ ہے۔حضرت نے تلقین کی کہ آج ضرورت ہے کہ مسلمان چوکنا رہیں اور متوجہ رہیں کہ میرے مال کا نقصان مجھے برداشت ہوسکتا ہے،میرے مکان دکان کا نقصان میرے لیے قابل برداشت ہوسکتا ہے،میری جائیداد کا نقصان میرے لیے قابل برداشت ہوسکتا ہے،مجھے جسمانی تکلیفوں کا پہنچنا قابل تحمل ہوسکتا ہے،لیکن میرے لیے یہ بات قابل برداشت بالکل نہیں ہے کہ میرے دین، ایمان پر حملہ ہو، میرے عقیدے قرآن و سنت پر حملہ ہوجائے یہ چیز برداشت نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہاکہ اگر ایمان کو محفوظ رکھنا ہے توصحیح عقیدہ کو اپنائیں اسی کا نام ایمان ہے اور جب تک کہ ہم صحیح عقیدہ کیاہے،معلوم نہیں کریں گے اپنے ایمان کو محفوظ رکھنا مشکل ہوجائے گا۔آج کوئی اہتمام نہیں ہےکہ میراعقیدہ صحیح ہے یانہیں،ہم نہ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور نہ احادیث مبارکہ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں،نہ نبی رحمتؐ کے اسوہ حسنہ اور مبارک زندگی کے بارےمیں جانکاری حاصل کرتے ہیں۔

حضرت شاہ جمال الرحمن صاحب مفتاحی نے کہاکہ اس درجہ گروہ بندیاں ہوگئیں کہ اس وقت میں ان گروہ بندیوں کے نتیجہ میں مسلمانوں میں جو کمزوریاں آئیں وہ اس درجے زیادہ ہیں کہ تمام دشمنانِ اسلام کے واسطے راستہ کھل گیا اور یہ سینکڑوں برس پرانی دنیا پرستوں کی پالیسی رہی ہےکہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالو ان میں اختلاف اور انتشار پیدا کرتےرہو یہ آپس میں ایک دوسرے کی مخالفتوں میں اور دشمنیوں میں لگے رہیں تب کہیں جاکر ہی ہم اپنے منصوبے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔اس لیے مسلمانوں کو اپنے اندر ایمانی قوت کے ساتھ اسلامی تشخص کی برقراری اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مفتی سعید اکبر نقشبندی نے اپنے خطاب میں کہاکہ مسلمان سب سے زیادہ محبت اپنے نبی حضرت محمدمصطفیٰؐ سے کرتے ہیں،مسلمان کبھی بھی اپنے آقا ؐ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا۔لہذا اسلام دشمن فتنوں سےمحفوظ رہنے اور عام مسلمانوں کا ایمان عقیدہ بچانے کے لیے خصوصی محنت کے ساتھ درود شریف کی کثرت کریں۔

انہوں نے کہاکہ مسلمان میں سرفروشی اور جانثاری کا وہ لافانی جذبہ ہے جس سے باطل ہمیشہ لرزاں رہتا ہے، اسلام دشمن قوتیں اس امر سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ حضورؐ کی ناموس کی بات آجائے تو مسلمان کے نزدیک جان جیسی متاعِ عزیز بھی بے معنی اور بے حقیقت ہوکر رہ جاتی ہے،محمدؐ پوری کائنات کے نبی ہیں۔مفتی سعید اکبر نقشبندی نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے تلقین کی کہ اپنے بچوں کو سیرت سکھائیں، سیرت سے محبت پیدا ہوتی ہے،تعلیماتِ نبوی پر عمل کرنا اور اسے پھیلانا چاہئے،آج پوری دنیا میں جہالت گمراہیاں اور فسادات اسی وجہ سے ہیں کہ ہم نے تعلیماتِ نبویؐ سے کو چھوڑ دیا ہے،ختم نبوت کا کام کرنا شفاعتِ نبیؐ کو حاصل کرنے کا موثر ذریعہ ہے۔

مولانا وجیہ الدین قاسمی نے عقیدۂ ختم نبوت پرتفصیلی اور مدلل خطاب کرتےہوئے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اللہ نے ختم نبوت کا تاج حضرت محمد مصطفیٰؐ ؐکو پہنایا ہے،قیامت تک آپؐ اللہ کے آخری نبی ہیں،اسی کا نام عقیدۂ ختم نبوت ہے۔مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے دور نبوت میں جھوٹی نبوت کا دعوی کیا،جس پر رسول اللہؐ  اور صحابہؓ نے ان کی جھوٹی نبوت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرکے امت کو بچانے کا سر مایہ ہمارے لیے فراہم کیا۔قیامت تک جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہوں گے۔فرمان نبویؐ ہیکہ قیامت تک میں ہی آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

حافظ محمدفہیم الدین منیری خادم مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی نےمجلس تحفظ ختم کے قیام کےپس منظر پر تفصیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ کے قریب ایک موضع میں آبائی قادیانی عرصہ دراز سے رہ رہےتھے.عام مسلمانوں نےقادیانی فتنہ کی سنگینی سے ناواقفیت کی بناء پر ان سے رشتہ داری اور دوستانہ تعلقات اور انکے مذہبی رسومات میں بھی شرکت کیاکرتےتھے,اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتےہوئےقادیانیوں کےسرکردہ لوگوں نے کاماریڈی میں قادیانی معلمین کا تقرر کیا,جو اطراف و اکناف دور دراز کےعلاقوں میں جاتے اور مسلمانوں کو تعلیم اور تعمیر مسجد و دیگر لالچ دیکر اپنے چنگل میں لینے کی ناپاک کوشش کرتے۔

چنانچہ یکے بعد دیگرے تقریباً 24 دیہاتوں کو قادیانیوں نے اپنی ناپاک سازشوں کا نشانہ بنایا,اللہ کےخاص فضل وکرم سے کاماریڈی کے چند غیور عاشقانِ رسول اکرمؐ نےحضرت مولانا ابرارالحسن رحمانی وقاسمی دامت برکاتہم کی مجاہدانہ قیادت و سیادت میں شب وروز ایک ایک کرکے تمام دیہاتوں سے قادیانیوں کی ناپاک قدم کو اکھڑنے پر مجبور کیا.آج اللہ کا شکر و احسان oy کہ وہ تمام مقامات جہاں مسلمان اذان و نماز اور قرآن کی تعلیم کے لیے ترستے تھے ایسے مقامات کےبشمول 90 دیہاتوں میں 71 معلمین کرام مجاہدانہ زندگی بسر کرتےہوئے عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت، دین و اسلام کی نشر و اشاعت کا کام بہت سلیقے سے کر رہے ہیں۔

حافظ محمدفہیم الدین منیری نے اپنے خطاب میں کہاکہ مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی کے زیراہتمام تعمیر مساجد کا سلسلہ جاری ہے، اہل خیر کو نہ صرف مکمل مسجد کی تعمیر میں حصہ لینے کی ضرورت ہےبلکہ ضروریات مسجد جائے نماز،پنکھا،کولر مائیک سیٹ کے علاوہ معلمین کرام کی رہائش گاہ کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی سخت ضرورت ہے۔مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی اپنے معاونین سے تعاون حاصل کرتے ہوئے ماہانہ تقریباً 3 لاکھ روپئے ان معلمین کرام کو بطورِ وظیفہ دے رہی ہے۔ہم تمام خدام و کارکنان اور تمام احباب سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنے تعاون میں اضافہ کریں تاکہ معلمین کرام کو بروقت خاطر خواہ وظیفہ دیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی میں مختلف خیالات کے لوگ شریک ہیں اور مجلس تحفظ ختم نبوت کا کام کسی ایک جماعت یا پارٹی کا کام نہیں بلکہ ان تمام مسلمانوں کا کام ہے جن کے دل میں عشقِ نبیؐ سب سے زیادہ ہے۔یہ تنظیم نہیں بلکہ تحریک ہے، حضرات صحابہ کرام اپنی جانوں کو نچھاور کر کے ختم نبوت کی حفاظت کا کام کیا ہے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی کے زیر اہتمام ایم آر گراؤنڈ کالونی،مسجد نور روڈ کاماریڈی میں اس عظیم الشان تاریخ ساز جلسہ عام کا آغاز حافظ محمدعبدالرحمن حلیمی ناظم ادارہ منیرالاسلام حیدرآباد کی قرأت کلام پاک سے ہوا،مقبول نعت گو شاعر احمدحسین ساگر و حافظ علیم الدین نے ہدیہ نعت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔جبکہ طلباء نے عقیدۂ ختم نبوت اور اسلامی معلومات پر دلچسپ تعلیمی مظاہرہ پیش کیا۔

اس جلسہ کی نگرانی الحاج محمد انورنے کی۔نیز مولانا سعید احمد سندھیلوی نائب صدرمجلس نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔مولانا نظرالحق قاسمی نے استقبالیہ خطبہ میں تمام مہمانوں کا استقبال کیا۔

محمد جاویدعلی رکن تاسیسی،محمد عبدالواجد علی خازن مجلس،محمد ماجد اللہ،محمد معز اللہ،میر فاروق علی،سید مبشر علی عامر،محمدسلیم الدین،الحاج مقصود احمد ایڈوکیٹ،محمد فیروز الدین اور دیگر اراکین نے مہمانوں کا استقبال کیا۔شہ نشین پر حافظ شیج جہانگیر فیضی خازن جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا،
مولانا نواز احمد حسامی میڈپلی،مولانا عاصم اسعدی توپران،مفتی صابر قاسمی میدک، مفتی عمران خان قاسمی، مفتی عرفان زم زم قاسمی، حافظ محمد عبدالواجد حلیمی،مولانا منظور عالم مظاہری کے علاوہ عبداللہ بن حسن الجہوشی صدر جامع مسجد مرکز موجود تھے۔

کاماریڈی کا وسیع و عریض ایم آر کالونی گراؤنڈ اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کر رہا تھا۔سامعین نے رات دیر گئے مکمل انہماک اور دلچسپی سے تمام علماء کرام کے خطابات کی سماعت کی۔مولانا پی ایم مزمل رشادی کی خصوصی دعاء پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ مفتی محمد خواجہ شریف مظاہری نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔

یہ بھی پڑھیں ” 

 

خطاوار سمجھے گی دنیا تجھے
اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے

بشیر بدر : ذاتی تجربات و مشاہدات کو فنکارانہ انداز میں لفظوں کا پیراہن عطا کرنے والے

نامور، پدما شری اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ 89 سالہ بزرگ شاعر کی سالگرہ پر خصوصی مضمون

مضمون، ویڈیوز اور منتخب کلام اس لنک پر ⬇️

بشیر بدر : پدما شری اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ 89 سالہ ممتاز و نامور بزرگ شاعر کی سالگرہ پر خصوصی مضمون

تلنگانہ کے سات اضلاع میں 42 وارداتوں میں ملوث بین ضلعی سارق وقارآباد میں گرفتار : ضلع ایس پی نندیالا کوٹی ریڈی کی پریس کانفرنس